جمعرات , فروری 19 2026

قومی ہاکی ٹیم کے کپتان کا شدید احتجاج

موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کام نہیں کریں گے: عماد شکیل بٹ

پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے آسٹریلیا سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے سخت گفتگو کرتے ہوئے موجودہ ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ مزید کام نہیں کیا جا سکتا اور ٹورنامنٹ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔کپتان عماد بٹ نے بتایا کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے بہت جھوٹ بولا۔

ان کا کہنا تھا کہ “صبح اٹھ کر کچن اور برتن صاف کرنے کے بعد کھلاڑی میدان میں کیا کھیلے گا؟” انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو خود کھانا پکانا پڑا، کپڑے دھونے پڑے اور رہائش کی انتہائی خراب صورتحال تھی جس سے ٹیم کا مورال مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

عماد بٹ نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے اپیل کی کہ واقعے کا نوٹس لیا جائے، زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے اور ٹیم کو غیر ملکی کوچ کی خدمات فراہم کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طاہر زمان اور دیگر افراد کی جانب سے کی گئی باتیں بے بنیاد اور جھوٹ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپانسر ڈھونڈنا فیڈریشن کا کام ہے، کھلاڑیوں کا نہیں، اور ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

دوسری جانب ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ نورالصباح نے تصدیق کی کہ پی ایس بی نے آسٹریلیا میں فائیو سٹار ہوٹل کی بکنگ کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک کروڑ سے زائد روپے فراہم کیے تھے، لیکن فیڈریشن نے بکنگ کینسل کر دی۔

انہوں نے کہا کہ خوراک اور رہائش ٹھیک نہ ہونے سے کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ واقعے کی مکمل انکوائری وزیراعظم کو بھیجی جائے گی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بد انتظامی کا نوٹس لے رکھا ہے۔

یہ تنازعہ پاکستان ہاکی کے بحران کو مزید نمایاں کر رہا ہے، جہاں کھلاڑیوں کی سہولیات، ادائیگیاں اور انتظامی مسائل طویل عرصے سے جاری ہیں۔

کپتان عماد بٹ کا بیان قومی ہاکی ٹیم کے مستقبل اور فیڈریشن کی اصلاحات کے لیے ایک بڑا چیلنج پیش کر رہا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

سپر ایٹ میں جگہ کے لیے ‘Must Win’ میچ

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میں پاکستان کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے