پیر , فروری 16 2026

جعلی دستاویزات کے ذریعے خواتین کو امریکا میں رکھا

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ تازہ دستاویزات میں جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ایک اور تاریک پہلو کا انکشاف ہوا ہے۔

فائلوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین نے اپنے گرد موجود غیر ملکی خواتین کو امریکا میں رکھنے اور ان کی امیگریشن حیثیت کو منظم کرنے کے لیے اسٹوڈنٹ ویزوں، انگریزی زبان کے کورسز اور مبینہ جعلی شادیوں کا سہارا لیا۔

ان دستاویزات میں سب سے نمایاں کیس ایپسٹین کی گرل فرینڈ کارینا شولیاک (Karyna Shuliak) کا ہے، جو بیلاروس کی باشندہ ہیں۔ 2013 کے اوائل میں شولیاک اپنے امریکی ویزے کی حیثیت سے شدید پریشان تھیں۔ اسی سال انہوں نے ایک امریکی شہری سے شادی کر لی، جس کے بعد ان کی پریشانیاں ختم ہو گئیں۔

بعد میں انہیں گرین کارڈ ملا اور 2018 میں امریکی شہریت حاصل ہوئی۔ شہریت ملتے ہی انہوں نے اپنی شریک حیات جینیفر سے طلاق لے لی۔

دستاویزات کے مطابق یہ شادی مبینہ طور پر جعلی تھی اور ایپسٹین کے نیٹ ورک سے منسلک تھی۔شہریت کے انٹرویو کے دن ایپسٹین کے ایک قریبی امیگریشن وکیل نے مزاحیہ پیغام بھیجا کہ اب وہ امریکی بن چکی ہیں تو ان کے لیے مکینیکل بیل، سرخ سفید نیلے غبارے اور جھنڈوں والی ٹوتھ پکس پر ڈیپ فرائیڈ اسنیکرز کے ساتھ بڑی پارٹی منائی جائے۔

کولمبیا یونیورسٹی میں داخلہ اور ویزا کی پیچیدگیاںدستاویزات بتاتی ہیں کہ 2011 میں ایپسٹین نے شولیاک کو کولمبیا یونیورسٹی کے ڈینٹل اسکول میں داخل کروایا، جہاں وہ بیلاروس سے ٹرانسفر طالبہ کے طور پر آئیں۔ ان کی ڈگری مکمل نہیں ہوئی تھی، لیکن ایپسٹین کے روابط اور ممکنہ ڈونیشن کی بدولت داخلہ ممکن ہوا۔

داخلے کے بعد ان کی امیگریشن حیثیت ایک رکاوٹ بنی رہی۔جولائی 2012 میں ڈینٹل اسکول کے عہدیدار نے انہیں لکھا کہ امیگریشن دفتر میں مشکلات کی صورت میں معذرت، تاہم اس وقت ان کی حیثیت درست معلوم ہوتی ہے۔ ایپسٹین نے خاموشی سے اپنے روابط استعمال کر کے شولیاک کا اسٹوڈنٹ ویزا بحال کروایا۔

انہوں نے برطانوی سرمایہ کار ایان آسبورن سے رابطہ کیا اور واشنگٹن میں امیگریشن کے اچھے وکیل کا ذکر کیا۔ آسبورن نے سابق وائٹ ہاؤس کونسل گریگ کریگ کا حوالہ دیا، جو اسکیڈن آرپس فرم کے پارٹنر تھے۔ ای میلز میں سابق INS سربراہ علی مایورکاس (جو بعد میں ہوم لینڈ سکیورٹی سیکریٹری بنے) کا بھی ذکر آیا، تاہم کوئی ثبوت نہیں کہ انہیں اس کا علم تھا۔

وکلا نے بتایا کہ شولیاک نے ویزہ کی مدت سے زیادہ قیام کیا تھا، جس سے بحالی مشکل تھی۔ ان کا سیاسی پناہ کا کیس بھی زیر التوا تھا۔ بالآخر اگست 2013 میں ایپسٹین نے امیگریشن وکیل اردا بسکارڈیس سے رابطہ کیا اور شادی پر بات کی۔ 9 اکتوبر 2013 کو شولیاک نے نیویارک میں شادی کی، جہاں دونوں کا پتہ ایپسٹین سے منسلک ایک ایڈریس تھا۔ 2014 میں گرین کارڈ اور 2018 میں شہریت ملی، جس کے بعد طلاق ہوئی۔

انگریزی کورسز اور دیگر ویزوں کا استعمال دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے متعدد خواتین کے لیے انگریزی زبان کے کورسز شروع کروائے، جو اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کرنے کا ابتدائی ذریعہ تھے۔ 2010 میں شولیاک نے نیویارک کے اسپینش امریکن انسٹی ٹیوٹ میں انگریزی کورس شروع کیا۔

ایپسٹین نے متعدد خواتین کی فیس ادا کی اور ٹوفل کی کتابیں بھی فراہم کیں۔ایک 2017 کی ای میل میں روسی خاتون کے لیے انگریزی سینٹر سے آئی-20 فارم حاصل کروا کر ویزا کی بات کی گئی۔ او-ون ویزا (غیر معمولی صلاحیت والوں کے لیے) بھی استعمال ہوا، جہاں ماڈلنگ، آرٹ اور کمیونیکیشن میں صلاحیتوں کا حوالہ دیا گیا۔

ایک سابق اکاؤنٹنٹ کے بیان کے مطابق ایپسٹین نے ماڈلنگ ایجنسی ایم سی 2 کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی کریڈٹ لائن کی ضمانت دی، جو کم عمر لڑکیوں کو امریکا لانے کے الزامات کا سامنا کر رہی تھی۔

یہ دستاویزات ایپسٹین کے وسیع نیٹ ورک اور امیگریشن سسٹم کو استعمال کرنے کے طریقوں کو مزید واضح کرتی ہیں، جو ان کے جنسی استحصال کے الزامات سے جڑے ہوئے ہیں۔

محکمہ انصاف کی جانب سے مزید فائلیں جاری کی جا رہی ہیں، جن سے مزید انکشافات متوقع ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

Chery Tiggo 9 PHEV پاکستان میں لانچ

Chery Pakistan نے اپنے فلیگ شپ ماڈل Chery Tiggo 9 PHEV کو پاکستان میں باضابطہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے