
پاور سیکٹر میں مبینہ 12 ارب روپے کے بجلی فراڈ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق میاں ادریس کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈنٹیفکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل تھا۔ جب وہ لاہور ایئرپورٹ سے بیرون ملک سفر کے لیے امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے تو امیگریشن حکام نے انہیں روک کر حراست میں لے لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں ادریس کے خلاف 12 ارب روپے کے مبینہ بجلی فراڈ کے الزام میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے فیصل آباد زون میں مقدمہ نمبر 35/2026 درج ہے۔
تحقیقات کے مطابق مقدمہ 2007 سے 2015 کے دوران بجلی کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت، لائسنس کے بغیر بجلی کی فراہمی اور معاہدہ ختم ہونے کے باوجود سپلائی جاری رکھنے کے الزامات سے متعلق ہے، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسی مقدمے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے دو سابق چیف ایگزیکٹو افسران احمد سعید اختر اور خورشید عالم کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مقدمے میں نامزد دیگر افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ تفتیشی ٹیم مختلف مالی اور انتظامی ریکارڈ کا جائزہ لے رہی ہے۔
UrduLead UrduLead