
پی ایم آفس نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ
ای گیٹ پروکیورمنٹ اسکینڈل وزیرِاعظم ہاؤس پہنچ گیا ہے جہاں وزیراعظم آفس (پی ایم او) نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے مجوزہ 20 ارب روپے کے آٹومیٹڈ بارڈر کنٹرول (ABC) ای گیٹ منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شفافیت سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں معاملہ زیر بحث آنے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (TIP) کی جانب سے وزیراعظم کو ارسال کردہ شکایتی مراسلے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس اس بات کا جائزہ لے گا کہ منصوبے کی خریداری کا عمل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رولز 2004 کے مطابق انجام دیا گیا یا نہیں، جبکہ پارلیمانی نگرانی کے باعث اس معاملے نے مزید اہمیت اختیار کر لی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 30 جون 2026 کو ہونے والے اجلاس میں اس منصوبے کے ٹینڈرنگ عمل، شفافیت اور قانونی تقاضوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی کے منظور شدہ منٹس کے مطابق ارکان نے پی پی آر اے کے 11 مئی، 21 مئی اور 3 جون 2026 کے خطوط کا حوالہ دیا، جن میں وزارت دفاع کو آگاہ کیا گیا تھا کہ پی پی آر اے رولز کے رول 42 کے تحت مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیا گیا کوئی بھی کنٹریکٹ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم آفس کو لکھے گئے حالیہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ اسے شکایت موصول ہوئی ہے کہ تقریباً 20 ارب روپے مالیت کا ای گیٹ منصوبہ مبینہ طور پر خریداری کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مخصوص کمپنی کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کسی کمپنی کو کنٹریکٹ نہیں دیا گیا اور خریداری کا عمل بدستور جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں زیر گردش منصوبے کی لاگت حتمی نہیں، جبکہ قومی سرحدی انتظامی نظام سے منصوبے کے حساس تعلق کے باعث تمام مراحل پی پی آر اے رولز 2004 کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ کنٹریکٹ ایوارڈ کا پورا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے اور ایسی کمپنی کا انتخاب کیا جائے جو تکنیکی طور پر مستند، باصلاحیت اور مناسب قیمت پر اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
دستاویزات کے مطابق ای گیٹ منصوبے کا آغاز 2020 میں ایک اوپن انٹرنیشنل ریکویسٹ فار پروپوزلز (RFP) کے ذریعے کیا گیا تھا، جس میں ای گیٹس، ایڈوانس پیسنجر انفارمیشن (API) اور پیسنجر نیم ریکارڈ (PNR) سسٹمز پر مشتمل مربوط نظام کی خریداری کا منصوبہ شامل تھا۔ تاہم تکنیکی جانچ کے باوجود اس مرحلے پر کسی کمپنی کو کنٹریکٹ نہیں دیا جا سکا۔
بعد ازاں 2024 میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے نئے ایکسپریشن آف انٹرسٹ (EOI) کے تحت تین کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا اور ایک جرمن انجینئرنگ کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کیں تاکہ منصوبے کا تکنیکی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔ تاہم بعد میں حتمی آر ایف پی تمام شارٹ لسٹ کمپنیوں کو جاری کرنے کے بجائے صرف اے ایکس آئی سسٹمز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو پی پی آر اے رول 42(f) کے تحت جاری کیا گیا، جس پر اعتراضات سامنے آئے۔
اسی تبدیلی کے بعد ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے رول 42(f) کے استعمال، شفافیت، تشخیصی رپورٹس کی اشاعت اور قیمتوں کے مسابقتی جائزے سے متعلق سنگین تحفظات کا اظہار کیا۔ بعد ازاں پی پی آر اے نے 11 مئی، 21 مئی اور 3 جون 2026 کے خطوط کے ذریعے پی اے اے سے منصوبے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا، تاہم اتھارٹی کی جانب سے مطلوبہ معلومات فراہم نہ کیے جانے کا بھی نوٹس لیا گیا۔
ماہرین خریداری کے مطابق معاملہ صرف رول 42(f) تک محدود نہیں بلکہ پی پی آر اے رولز 4، 7، 10، 20، 21، 35، 47 اور 48 کے تحت شفافیت، منصفانہ مقابلے، بہترین مالی قدر (Value for Money)، تشخیصی رپورٹس کی اشاعت اور بعد از ایوارڈ انکشافات جیسے قانونی تقاضے بھی اس کیس میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
سینیٹ کمیٹی کی کارروائی اور پی پی آر اے کی سرکاری خط و کتابت کے بعد اب یہ سوال مزید نمایاں ہو گیا ہے کہ آیا ای گیٹ منصوبے کی خریداری، قانونی منظوریوں اور تشخیصی دستاویزات میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کو ہدایت کی جائے کہ منصوبہ پی پی آر اے رول 21 کے تحت کھلے، شفاف اور بین الاقوامی مسابقتی ٹینڈر کے ذریعے مکمل کیا جائے، جیسا کہ 2020 اور 2024 کے ابتدائی منصوبوں میں تجویز کیا گیا تھا۔ تنظیم نے مزید مطالبہ کیا کہ اگر قواعد کی خلاف ورزیاں ثابت ہوں تو پی پی آر اے آرڈیننس 2002 کے تحت ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں سرکاری خریداری کے قوانین سے انحراف کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
UrduLead UrduLead