Related Articles

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل اسکلز کمپٹینسی ٹیسٹ (NSCT) 2026 کے نتائج کی بنیاد پر ملک بھر کی 44 جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں میں کمپیوٹر سائنس اور متعلقہ کمپیوٹنگ پروگرامز کے داخلے عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔
ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق ان اداروں میں سرکاری اور نجی شعبے کی جامعات شامل ہیں۔ کراچی کی سرکاری جامعہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری، ایمان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز، الماء یونیورسٹی اور ملینیم انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ بھی متاثرہ اداروں میں شامل ہیں۔

سندھ کی دیگر جامعات میں بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاڑکانہ، سندھ زرعی یونیورسٹی اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ سمیت متعدد اداروں کے کمپیوٹنگ پروگرامز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد کی جانب سے وائس چانسلرز کو ارسال کردہ خط میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل اسکلز کمپٹینسی ٹیسٹ 2026 ملک بھر میں آئی ٹی تعلیم کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جس میں 199 جامعات کے 33 ہزار سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔
خط کے مطابق اس جائزے کا مقصد کمپیوٹنگ پروگرامز کے معیار کو بہتر بنانا، طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگانا، ادارہ جاتی جوابدہی کو فروغ دینا اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نظام کو ہم آہنگ کرنا تھا۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں طلبہ کی مہارتوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کی بنیاد پر کمزور کارکردگی دکھانے والے اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
داخلوں سے محروم قرار دی گئی دیگر جامعات میں الحمد اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ، ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان، ویمن یونیورسٹی مردان، دی ویمن یونیورسٹی ملتان، یونیورسٹی آف صوابی، گومل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف بلتستان، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار، یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ اور خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک بھی شامل ہیں۔
ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ داخلوں کی معطلی کا مقصد معیارِ تعلیم کو بہتر بنانا اور جامعات کو اپنی تدریسی اور تکنیکی صلاحیتوں میں بہتری لانے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں طلبہ عالمی معیار کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔
UrduLead UrduLead