آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد کیپٹو پاور پلانٹس پر بوجھ کم ہوگا

صنعتی شعبے کے لیے گیس سستی ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جہاں بین الاقوامی مالیاتی ادارے International Monetary Fund نے گیس لیوی میں کمی کے نئے فارمولے کی منظوری دے دی ہے، جس سے کیپٹو پاور پلانٹس کو نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم Ali Pervaiz Malik کی درخواست پر لیوی کے موجودہ نظام میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے فارمولے کے تحت گیس ٹیرف اب اوسط بنیاد پر مقرر کیا جائے گا، جبکہ پہلے اسے پیک آورز سے منسلک کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کیپٹو پاور پلانٹس پر عائد لیوی میں 30 سے 60 فیصد تک کمی متوقع ہے۔ اس وقت ان پلانٹس پر تقریباً 1343 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو لیوی عائد ہے، جسے صنعتی شعبہ مہنگی بجلی کے متبادل کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
تاہم اس رعایت کے ساتھ ایک اہم شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ نیشنل گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی نہیں آنی چاہیے۔ حکام کے مطابق اگر صنعتی صارفین گیس پر زیادہ انحصار کے باعث گرڈ سے بجلی لینا کم کر دیتے ہیں تو لیوی دوبارہ بڑھائی جا سکتی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ گیس لیوی کا بنیادی مقصد صنعتوں کو نیشنل گرڈ پر منتقل کرنا اور بجلی کے نظام کو مستحکم بنانا ہے۔ لیکن مہنگی بجلی کے باعث صنعتوں کو لاگت میں اضافے کا سامنا ہے، جس نے پیداواری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے لیے گیس لیوی سے 105 ارب روپے آمدن کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس سے قبل اگست 2025 میں لیوی کی شرح 690 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھی، جبکہ اپریل کے لیے 570، مئی کے لیے 550 اور جون کے لیے 402 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی تھی۔
توانائی ماہرین کے مطابق لیوی میں ممکنہ کمی صنعتی پیداوار میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت بجلی اور گیس کے نرخوں میں توازن کیسے برقرار رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ International Monetary Fund کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت توانائی شعبے میں اصلاحات جاری ہیں، اور گیس لیوی میں یہ تبدیلی صنعتی مسابقت بڑھانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے مجموعی ڈھانچے کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead