پیر , اپریل 27 2026

گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کیسے ممکن؟

پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ ایسے حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک اس وقت ہوتا ہے جب جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کا نظام ناکام ہو جائے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، چکر آنا، متلی، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، اور بعض اوقات بے ہوشی شامل ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

سب سے اہم احتیاط جسم کو پانی کی کمی سے بچانا ہے۔ گرمیوں میں زیادہ پسینہ آنے کے باعث جسم سے پانی تیزی سے خارج ہوتا ہے، اس لیے دن بھر میں وافر مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا چاہیے، جبکہ باہر کام کرنے والوں کو اس سے بھی زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیموں پانی، ناریل پانی اور تازہ پھلوں کے جوس بھی جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

دھوپ سے بچاؤ بھی انتہائی ضروری ہے۔ دن کے اوقات میں 10 بجے سے 3 بجے تک سورج کی تپش سب سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اس دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں اور سر کو ٹوپی یا چھتری سے ڈھانپیں۔

جسم کو ٹھنڈا رکھنا بھی ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کوشش کریں کہ زیادہ وقت سایہ دار یا ٹھنڈی جگہوں پر گزاریں۔ گھروں میں پنکھے، کولر یا اے سی کا استعمال کریں۔ ٹھنڈے پانی سے نہانا یا گیلا کپڑا جسم پر رکھنا بھی درجہ حرارت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ گرمی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح مزدور، ٹریفک پولیس اور دیگر باہر کام کرنے والے افراد کو چاہیے کہ وقفے وقفے سے آرام کریں اور پانی پیتے رہیں۔

خوراک کا بھی اہم کردار ہے۔ گرمیوں میں ہلکی اور سادہ غذا استعمال کریں اور زیادہ چکنائی یا مصالحے دار کھانوں سے پرہیز کریں۔ تربوز، کھیرے، خربوزے اور سنگترے جیسے پانی سے بھرپور پھلوں کا استعمال جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی علامات کو پہچاننا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کو شدید پسینہ، کمزوری، سر درد یا چکر محسوس ہو تو فوراً اسے ٹھنڈی جگہ منتقل کریں، پانی پلائیں اور جسم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔ شدید حالت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ہیٹ ویوز زیادہ خطرناک ہو گئی ہیں۔ ایسے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

اگر سادہ احتیاطی تدابیر جیسے پانی کا زیادہ استعمال، دھوپ سے بچاؤ، مناسب لباس اور علامات کی بروقت پہچان کو اپنایا جائے تو ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک مرض سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

حیدرآباد کی بڑی جیت، پلے آف میں جگہ

راولپنڈیز کو 108 رنز سے شکست، قلندرز ایونٹ سے باہر حیدرآباد کنگزمین نے پی ایس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے