اتوار , اپریل 26 2026

سولر صارفین کے لیے پالیسی بحال کرنے کی سفارش

پاور ڈویژن نے وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایت پر چھوٹے پیمانے پر سولر صارفین کے لیے پابندیوں میں نرمی کی پالیسی بحال کرنے کی سفارش کر دی ہے۔

اس حوالے سے پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر سسٹمز پر عائد درخواست فیس اور لائسنس کی شرط ختم کی جائے۔ اس اقدام کا مقصد گھریلو اور چھوٹے کاروباری صارفین کے لیے سولر انرجی کو دوبارہ آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ “پروسیمر ریگولیشنز” کے تحت چھوٹے سولر سسٹمز کے لیے بھی براہِ راست نیپرا سے منظوری اور فیس لازمی قرار دے دی گئی ہے، جس سے پہلے موجود آسان اور غیر مرکزی نظام تبدیل ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق 2015 کے ضوابط کے تحت 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کی منظوری براہِ راست ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے دی جاتی تھی اور اس کے لیے کسی اضافی لائسنس یا فیس کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اس نظام نے گھروں اور چھوٹے کاروباروں میں سولر انرجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

پاور ڈویژن نے اس سے قبل بھی ریگولیٹر کو موجودہ نظام کے منفی اثرات سے آگاہ کیا تھا اور پرانے نظام کی بحالی کی سفارش کی تھی۔ تازہ درخواست میں ایک بار پھر اس مؤقف کو دہراتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ طریقہ کار ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔

نجی شعبے اور توانائی کے اسٹیک ہولڈرز نے بھی اس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ نے بھی چھوٹے سولر سسٹمز کے لیے پرانے طریقہ کار کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ اسی طرح پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور دیگر کمپنیوں نے عوامی سماعتوں کے دوران مرکزی منظوری کے نظام کی مخالفت کی ہے۔

اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے اختیارات واپس لے کر نیپرا کو دینے سے غیر ضروری بیوروکریٹک پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں، جس سے نہ صرف منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ صارفین کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگی بجلی کے باعث پہلے ہی عوام سولر توانائی کی طرف رجوع کر رہے ہیں، اور نئی رکاوٹیں اس رجحان کو متاثر کر سکتی ہیں۔

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران بجلی کے بلند نرخوں اور لوڈشیڈنگ کے باعث سولر انرجی کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، خصوصاً شہری علاقوں میں گھریلو صارفین نے بڑی تعداد میں سولر سسٹمز نصب کیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چھوٹے سولر سسٹمز قومی گرڈ پر دباؤ کم کرنے اور توانائی کی مجموعی طلب گھٹانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ منظوری کے عمل کو آسان بنانا اور ابتدائی اخراجات کم کرنا اس شعبے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

پاور ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ ریگولیٹری نظام برقرار رہا تو پاکستان کے قابلِ تجدید توانائی کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق ملک میں صاف توانائی کے حصے کو بڑھانا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پرانا نظام بحال کرنے سے نہ صرف صارفین کو سہولت ملے گی بلکہ توانائی کے شعبے میں پائیداری اور ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ٹرانسپورٹ بحال، اڈے کھولنے کا اعلان

پیرودھائی سمیت تمام اڈے صبح 6 بجے کھلیں گے، میٹرو سروس جزوی بحال راولپنڈی میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے