
ملک بھر میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافے کے ساتھ ہی ہیٹ ویو (شدید گرمی کی لہر) نے شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
ماہرین صحت خبردار کر رہے ہیں کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی صورت میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور محنت کش طبقے کے لیے۔
گرمی کی شدت میں اضافہ صرف تکلیف دہ ہی نہیں بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ شہری سادہ مگر مؤثر احتیاطی تدابیر اپنا کر خود کو محفوظ رکھیں۔
پانی کا زیادہ استعمال — پہلی دفاعی لائن
ماہرین کے مطابق جسم میں پانی کی کمی ہیٹ ویو کے دوران سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔ اس لیے دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینا ضروری ہے، چاہے پیاس محسوس نہ بھی ہو۔ لیموں پانی، ORS اور تازہ جوسز بھی جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ کیفین والے مشروبات سے پرہیز بہتر ہے۔
دھوپ سے بچاؤ — خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں
صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک سورج کی شعاعیں سب سے زیادہ تیز ہوتی ہیں۔ اس دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں، سر کو ٹوپی یا کپڑے سے ڈھانپیں اور سن گلاسز کا استعمال کریں۔
خوراک میں احتیاط
گرمی کے موسم میں بھاری اور چکنائی والی غذا کے بجائے ہلکی، متوازن اور پانی سے بھرپور غذائیں استعمال کریں جیسے کہ پھل، سبزیاں اور دہی۔ یہ نہ صرف جسم کو ٹھنڈا رکھتے ہیں بلکہ توانائی بھی فراہم کرتے ہیں۔
گھر اور کام کی جگہ کو ٹھنڈا رکھیں
گھر میں ہوا کی مناسب آمدورفت کو یقینی بنائیں۔ پنکھے، کولر یا اے سی کا استعمال کریں، جبکہ کھڑکیوں پر پردے لگا کر براہ راست دھوپ کو اندر آنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو دن کے گرم ترین حصے میں ٹھنڈی جگہ پر قیام کریں۔
ہیٹ اسٹروک کی علامات پہچانیں
ہیٹ اسٹروک ایک ہنگامی طبی حالت ہے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، سر درد، چکر آنا، متلی، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور بے ہوشی شامل ہیں۔ ایسی صورت میں متاثرہ شخص کو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ منتقل کریں، اس کے جسم کو ٹھنڈا کریں اور فوری طبی امداد حاصل کریں۔
بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال
بچے اور بزرگ گرمی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے انہیں دھوپ سے بچا کر رکھنا اور پانی کا مناسب استعمال یقینی بنانا ضروری ہے۔ بچوں کو بند گاڑی میں ہرگز اکیلا نہ چھوڑیں کیونکہ چند منٹوں میں گاڑی کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
محنت کش طبقے کے لیے احتیاط
وہ افراد جو کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں، جیسے مزدور اور کسان، انہیں وقفے وقفے سے آرام کرنا چاہیے، سایہ دار جگہوں پر قیام کریں اور پانی کا استعمال بڑھائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ بڑھ رہا ہے، اس لیے شہریوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بروقت احتیاطی تدابیر نہ صرف صحت کو محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ جان بچانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
UrduLead UrduLead