ہفتہ , اپریل 25 2026

پی ایل ایل کا ایل این جی ٹینڈر مکمل

مختلف ادوار کے لیے کم ترین بولیاں سامنے آ گئیں

Pakistan LNG Limited (پی ایل ایل) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی کے لیے جاری کردہ اپنے تازہ ٹینڈر کی بولیوں کا جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس میں بین الاقوامی کمپنیوں نے مختلف ترسیلی ادوار کے لیے مسابقتی قیمتیں پیش کیں۔

پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کے رول 35 کے تحت جاری کردہ ایویلیوایشن رپورٹ کے مطابق “سپلائی آف لیکویفائیڈ نیچرل گیس (LNG)” کے عنوان سے یہ ٹینڈر سنگل اسٹیج ٹو انویلپ طریقہ کار کے تحت منعقد کیا گیا۔ ٹینڈرکی بولیاں 24 اپریل کو دوپہر 2 بجے بند ہوئیں، جبکہ تکنیکی بولیاں 2:30 بجے اور مالی بولیاں 3:30 بجے کھولی گئیں۔

اس ٹینڈر میں مجموعی طور پر چار بولیاں موصول ہوئیں، جن میں سے تین کمپنیوں کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا۔ ان میں Vitol Bahrain، TotalEnergies Gas & Power Limited اور OQ Trading شامل ہیں۔

ٹینڈر کے تحت ایل این جی کی ترسیل کے لیے تین ادوار مقرر کیے گئے تھے: 27 تا 30 اپریل، یکم تا 7 مئی، اور 8 تا 14 مئی 2026۔

ایویلیوایشن کے مطابق پہلے دور (27 تا 30 اپریل) کے لیے TotalEnergies Gas & Power Limited نے 18.8800 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کم ترین بولی دی۔ دوسرے دور (یکم تا 7 مئی) کے لیے Vitol Bahrain کی 18.5400 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکش سب سے کم رہی۔

تیسرے دور (8 تا 14 مئی) کے لیے OQ Trading نے 17.9970 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی سب سے کم بولی دے کر برتری حاصل کی، جو اس ٹینڈر میں مجموعی طور پر سب سے کم قیمت بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایل این جی کی یہ قیمتیں عالمی توانائی منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں جغرافیائی کشیدگی، سپلائی میں رکاوٹیں اور طلب میں اضافہ قیمتوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال اضافی مالی دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، جو ملک کے لیے ایل این جی کی درآمد کا ذمہ دار سرکاری ادارہ ہے، شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پی پی آر اے قواعد کے تحت مسابقتی بولی کا عمل اختیار کرتا ہے۔ اس طریقہ کار میں پہلے تکنیکی اہلیت کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس کے بعد مالی بولیاں کھولی جاتی ہیں۔

اگرچہ ایویلیوایشن رپورٹ میں ہر دور کے لیے کم ترین بولی دہندگان کی نشاندہی کر دی گئی ہے، تاہم حتمی معاہدے متعلقہ حکام کی منظوری اور دیگر قانونی تقاضے پورے ہونے سے مشروط ہوں گے۔

یہ ٹینڈر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی میں چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ مقامی گیس کی پیداوار میں کمی اور طلب میں اضافے کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت اور متنوع ذرائع سے خریداری ملک میں گیس کی بلا تعطل فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

نو بھائیوں کی سادگی سے اجتماعی شادی

جہیز سے انکار، سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ہیرو قرار ایک ہی خاندان کے نو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے