جہیز سے انکار، سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ہیرو قرار

ایک ہی خاندان کے نو نوجوانوں نے اپنی نو کزنز کے ساتھ سادگی سے شادی کرکے معاشرے کے لیے ایک مثال قائم کردی، جہاں جہیز سے مکمل انکار اور کم خرچ تقریبات نے سب کی توجہ حاصل کرلی۔
یہ اجتماعی شادی سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق انتہائی سادہ انداز میں منعقد ہوئی، جس میں دولہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ جہیز نہیں لیں گے اور لڑکی والوں پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ اس فیصلے کو دونوں خاندانوں کی مکمل حمایت حاصل رہی۔
شادی کی تقریب میں ایک ہی چھت تلے نو باراتیں اکٹھی ہوئیں، جبکہ تمام جوڑوں کا ولیمہ بھی ایک ہی دن رکھا گیا۔ تقریب کے مناظر میں سادگی اور خلوص نمایاں تھا، جس نے شرکاء کو بے حد متاثر کیا۔
اس منفرد شادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جہاں صارفین نے ان نوجوانوں کو “ہیرو” قرار دیا۔ عوامی ردعمل میں اس اقدام کو موجودہ دور میں ایک نایاب اور مثبت مثال کہا جا رہا ہے۔
شادی کرنے والے نوجوانوں میں محمد کاشف، محمد عاصم، محمد امین، محمد نعیم، محمد نوید، محمد راشد، محمد بلال، محمد شہباز اور محمد علی شامل ہیں۔ ان سب نے باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا کہ شادی کو سادہ رکھا جائے اور غیر ضروری رسومات سے گریز کیا جائے۔
تقریب میں شریک والدین اور رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد کوئی ریکارڈ قائم کرنا نہیں بلکہ معاشرے کو ایک مثبت پیغام دینا ہے۔ ان کے مطابق اگر شادیوں کو آسان بنا دیا جائے تو بہت سی بیٹیاں بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے گھروں سے رخصت ہوسکتی ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی اور جہیز کی بڑھتی ہوئی روایت نے شادیوں کو مشکل بنا دیا ہے، جس کے باعث کئی خاندان مالی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اس نوعیت کی مثالیں معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سماجی حلقوں میں اس اجتماعی شادی کو سراہا جا رہا ہے اور اسے ایک مثبت تحریک قرار دیا جا رہا ہے، جو نوجوان نسل کو سادگی اپنانے اور غیر ضروری اخراجات سے بچنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔
یہ شادی نہ صرف ایک خوشگوار موقع ثابت ہوئی بلکہ اس نے معاشرے کو ایک اہم پیغام بھی دیا کہ سادگی، باہمی اتفاق اور شعور کے ذریعے شادیوں کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead