ہفتہ , مارچ 28 2026

پٹرول قیمت برقرار، 56 ارب بوجھ

حکومت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پٹرولیم نرخ نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا اور 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود برداشت کرے گی

پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت تقریباً 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود برداشت کرے گی،

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ حکومت نے عوام کو مہنگائی کے مزید دباؤ سے بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے، حالانکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رکھی جائیں گی تاکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ ہو۔

وزارت توانائی کے مطابق پٹرول کی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر برقرار رہے گی۔ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قیمتوں کے فرق کی مد میں ادائیگیاں کرے گی تاکہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر صارفین تک منتقل نہ ہو۔

حکام کے مطابق حکومت ڈیزل پر فی لیٹر 203.88 روپے اور پٹرول پر 95.59 روپے کا فرق برداشت کرے گی، جس سے مجموعی مالی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔

پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات درآمدی بل کا بڑا حصہ ہیں، جو حالیہ برسوں میں 15 سے 17 ارب ڈالر کے درمیان رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمتیں ٹرانسپورٹ اور خوراک کی لاگت پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق توانائی کی قیمتیں افراط زر کا ایک اہم محرک ہیں۔

تاہم یہ اقدام مالیاتی دباؤ میں اضافہ بھی کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف ماضی میں توانائی سبسڈیز کو مالی خسارے کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔

حکومت نے حالیہ برسوں میں پٹرولیم قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کا طریقہ کار اپنایا ہے، تاہم شدید اتار چڑھاؤ کے دوران عوام کو ریلیف دینے کے لیے مداخلت بھی کی جاتی رہی ہے۔

آگے چل کر پٹرولیم قیمتوں کا تعین عالمی تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور مالی گنجائش پر منحصر رہے گا۔ اگر عالمی قیمتیں بلند رہیں تو حکومت کے لیے مالی اہداف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کی پٹرولیم پالیسی پر دباؤ برقرار رہے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آئی ایم ایف نے پاکستان جائزہ منظور

پاکستان کو آئی ایم ایف معاہدے کے تحت 1.2 ارب ڈالر ملنے کی راہ ہموار، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے