
اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن اور ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات پر ایف آئی اے نے دو الگ مقدمات درج کر لیے ہیں، جس سے تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے Fazeela Abbasi کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو مختلف مقدمات درج کیے ہیں۔ پہلا مقدمہ کمرشل بینکنگ سرکل میں منی لانڈرنگ کی دفعات کے تحت درج کیا گیا، جبکہ دوسرا مقدمہ اینٹی کرپشن ونگ میں قائم کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات میں ابتدائی طور پر ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوالہ ہنڈی اور مشکوک مالی لین دین کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی گئی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کیس میں مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مختلف مالی ریکارڈز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی بغیر رجسٹریشن غیر قانونی طور پر کلینک چلا رہی تھیں۔ حکام کے مطابق اس پہلو پر بھی الگ سے جانچ جاری ہے تاکہ ریگولیٹری خلاف ورزیوں کا تعین کیا جا سکے۔
ایف آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمہ کے 22 بینک اکاؤنٹس میں تقریباً 25 ارب روپے کا ٹرن اوور سامنے آیا، جبکہ ان کی ظاہر کردہ سالانہ آمدن 4 سے 6 لاکھ روپے کے درمیان بتائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق آمدن اور مالی لین دین کے درمیان یہ فرق مزید تحقیقات کا اہم نکتہ ہے۔
مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے رقوم امریکا اور دبئی منتقل کی گئیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ٹرانزیکشنز کے حوالے سے متعلقہ اداروں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
اداکار Hamza Ali Abbasi کی بہن ہونے کے باعث یہ کیس عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت اور قانون کے مطابق آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین کو حالیہ برسوں میں مزید سخت کیا گیا ہے، خاص طور پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی شرائط کے تناظر میں۔ ایسے مقدمات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ مالی نظام میں شفافیت اور قانونی عملداری کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
UrduLead UrduLead