جمعرات , مارچ 26 2026

ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب کی کٹوتی

حکومت نے پیٹرولیم قیمتیں نہ بڑھانے کے فیصلے کے بعد وفاقی ترقیاتی بجٹ کم کر کے 900 ارب روپے کر دیا، احسن اقبال نے تصدیق کردی

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے کے باعث وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کر دی ہے، جس کے بعد جاری مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے کم ہو کر 900 ارب روپے رہ گیا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو میں کٹوتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں تقریباً دس فیصد کمی کی گئی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ مالی دباؤ کے باعث حکومت کو اخراجات میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑی، تاہم کوشش کی گئی ہے کہ اہم قومی نوعیت کے منصوبوں کو کم سے کم متاثر کیا جائے۔ ان کے مطابق وزارت خزانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا بوجھ ترقیاتی اخراجات میں کمی کر کے پورا کیا جائے۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا تھا، جو حالیہ کٹوتی کے بعد 900 ارب روپے رہ گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مالیاتی گنجائش محدود ہونے اور عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے حکومت نے یہ قدم اٹھایا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی لاگت بڑھ رہی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ترقیاتی بجٹ اکثر مالی سال کے دوران کم کیا جاتا ہے تاکہ مالی خسارہ کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ وزارت منصوبہ بندی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ترقیاتی پروگرام پر اخراجات کی رفتار سست رہی ہے اور وفاقی منصوبوں پر صرف 361 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو مجموعی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 36 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اخراجات کی سست رفتاری بھی کٹوتی کے فیصلے کی ایک وجہ بنی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری اقتصادی جائزہ مذاکرات میں بھی اخراجات کو محدود رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف حکام نے عالمی سطح پر غیر یقینی معاشی صورتحال، بلند شرح سود اور درآمدی دباؤ کے باعث پاکستان کو غیر ضروری اخراجات کم کرنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ مالی خسارہ اور قرضوں کا دباؤ قابو میں رکھا جا سکے۔

پاکستان کا مالی خسارہ گزشتہ چند برسوں سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے اور حکومت اکثر ترقیاتی فنڈز میں کمی کر کے جاری اخراجات پورے کرتی رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کا اثر سڑکوں، توانائی، آبی ذخائر اور علاقائی ترقی کے منصوبوں کی رفتار پر پڑ سکتا ہے، جس سے اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی ترجیح اس وقت مہنگائی کو قابو میں رکھنا اور عوام کو فوری ریلیف دینا ہے، اسی لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم اس کے نتیجے میں وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کو کم کر کے 900 ارب روپے تک محدود کرنا پڑا، اور آئندہ مالی حکمت عملی بھی اسی مالی دباؤ کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جائے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

نئی صنعتی بجلی ٹیرف پالیسی متعارف کرانے پر غور

حکومت صنعتی صارفین کے لیے اختیاری ملٹی ٹیرف نظام لانے پر غور کر رہی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے