پی ایس ایل 11 سے قبل کپتانوں نے سخت مقابلے کا عندیہ دیا، شاہین، بابر اور رضوان نے لیگ کے کامیاب مستقبل پر اعتماد ظاہر کیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 میں شریک ٹیموں کے کپتانوں نے ٹورنامنٹ میں سخت مقابلے اور ٹرافی جیتنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیگ کا نیا ایڈیشن بھی شائقین کو معیاری کرکٹ فراہم کرے گا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران مختلف ٹیموں کے کپتانوں نے تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور لیگ کے کامیاب انعقاد کی امید ظاہر کی۔
لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ پی ایس ایل 11 کی تیاری مکمل ہے اور ٹیم بھرپور مقابلے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سال پی ایس ایل کے لیے کامیاب رہے ہیں اور مستقبل میں بھی لیگ کا معیار مزید بہتر ہوگا۔ ان کے مطابق پی ایس ایل نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور نوجوان کھلاڑیوں کو آگے آنے کا موقع دیا۔
پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ٹیمیں اس سال بھی اچھی کرکٹ کھیلنے کے لیے پُرعزم ہیں، تاہم شائقین کی اسٹیڈیم میں کمی محسوس ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑی کوشش کریں گے کہ ایسا کھیل پیش کریں جس سے شائقین ٹی وی پر میچز سے لطف اندوز ہو سکیں۔ بابر اعظم کے مطابق پی ایس ایل ہمیشہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بڑا پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے اور اس لیگ سے کئی کرکٹر قومی ٹیم تک پہنچے ہیں۔
راولپنڈی کی نمائندگی کرنے والے کپتان محمد رضوان نے کہا کہ پی ایس ایل ہر سال پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس کی کامیابی کا سفر جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ لیگ کے تسلسل نے پاکستان کرکٹ کے ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے اور مقامی کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کا آغاز 2016 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیا تھا، جس کا مقصد ملک میں فرنچائز کرکٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کو پاکستان لانا تھا۔ ابتدائی ایڈیشن متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے تھے کیونکہ اس وقت سیکیورٹی خدشات کے باعث غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے ہچکچا رہی تھیں۔ بعد ازاں حالات بہتر ہونے پر لیگ کے تمام میچز پاکستان منتقل کر دیے گئے، جسے پی سی بی کی بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔
پی سی بی کے اعداد و شمار کے مطابق پی ایس ایل دنیا کی مقبول ترین ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شامل ہو چکی ہے اور اس کی برانڈ ویلیو ہر سال بڑھ رہی ہے۔ لیگ میں شامل کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر قومی ٹیم کے انتخاب میں بھی مدد ملتی ہے، جبکہ براڈکاسٹ رائٹس اور اسپانسرشپ سے حاصل ہونے والی آمدنی پاکستان کرکٹ کے لیے اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق پی ایس ایل 11 کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کرکٹ ٹیم نئے کمبی نیشن بنانے کے مرحلے میں ہے، اس لیے لیگ میں نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ لیگ کے کامیاب انعقاد سے نہ صرف کرکٹ کو فروغ ملے گا بلکہ ملکی کھیلوں کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔
کپتانوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ایس ایل 11 میں شائقین کو سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے اور تمام ٹیمیں ٹرافی جیتنے کے لیے اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں گی، جبکہ پاکستان سپر لیگ مستقبل میں بھی ملکی کرکٹ کی سب سے بڑی اور کامیاب فرنچائز لیگ کے طور پر جاری رہے گی۔
UrduLead UrduLead