توانائی شعبے کی اصلاحات کے تحت ترسیلی نظام جدید بنانے کا اقدام

اسلام آباد میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ یکم جولائی 2026 سے قومی پاور گرڈ کے لیے نیا آپریٹنگ ماڈل متعارف کرانے کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد بجلی کی ترسیل کے نظام کی کارکردگی اور اعتماد میں نمایاں بہتری لانا ہے۔
یہ پیش رفت وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو دی گئی بریفنگ کے دوران سامنے آئی، جہاں حکام نے بتایا کہ جنوری 2026 میں شروع ہونے والا اصلاحاتی پروگرام منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیر نے اس اقدام کو توانائی شعبے کی مضبوطی کے لیے اہم قرار دیا اور حکومتی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان کا پاور ٹرانسمیشن نظام طویل عرصے سے ساختی مسائل کا شکار رہا ہے، جس کی جڑیں 1998 میں قائم ہونے والی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے ماڈل سے جڑی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی ترسیل کے دوران لائن لاسز اور نظامی رکاوٹیں بجلی کی دستیابی اور لاگت دونوں کو متاثر کرتی رہی ہیں۔ توانائی ماہرین کے مطابق ترسیلی صلاحیت میں بہتری کے بغیر بجلی کی پیداوار میں اضافہ بھی مکمل فائدہ نہیں دے سکتا۔
نیشنل گرڈ کمپنی کی موجودہ اصلاحات اسی پس منظر میں متعارف کرائی جا رہی ہیں، جہاں ادارہ ایک خصوصی ٹرانسمیشن سروس فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر الطاف حسین ملک، جنہوں نے نومبر 2025 میں ذمہ داریاں سنبھالیں، اس عمل کی قیادت کر رہے ہیں اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق نیا آپریٹنگ ماڈل ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعدد بنیادی اصلاحات پر مبنی ہے، جن میں آپریشنز کی مرکزی قیادت، مالیاتی نظم و نسق میں شفافیت، ریگولیٹری رابطوں کی بہتری، آزاد سیفٹی نگرانی اور جدید ڈیجیٹل نظام کا نفاذ شامل ہیں۔ یہ اقدامات حقیقی وقت میں گرڈ مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں بجلی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں اور شہری آبادی میں اضافے کے باعث توانائی کی طلب میں سالانہ تقریباً 5 سے 7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی دوران حکومت قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو بھی فروغ دے رہی ہے، جس کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم گرڈ ناگزیر ہے۔
عالمی سطح پر بھی پاور سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن اور اسمارٹ گرڈ ٹیکنالوجی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق جدید گرڈ سسٹمز نہ صرف بجلی کے ضیاع کو کم کرتے ہیں بلکہ قابلِ تجدید ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کو مؤثر طریقے سے نظام میں شامل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ پاکستان بھی اسی سمت میں پیش رفت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
این جی سی حکام کا کہنا ہے کہ اصلاحاتی عمل کے تحت اہم انتظامی عہدوں پر تقرریاں مکمل کی جا چکی ہیں جبکہ کارکردگی کے نئے معیارات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ ادارے نے حال ہی میں ملازمین کے ساتھ ایک جامع اجلاس منعقد کیا تاکہ اندرونی ہم آہنگی اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے، جو کسی بھی بڑی تنظیمی تبدیلی کے لیے ضروری عنصر سمجھا جاتا ہے۔
نیا ماڈل یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوگا جبکہ مکمل ڈیجیٹل اور آپریشنل استعداد 31 دسمبر 2026 تک حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات مؤثر طریقے سے نافذ ہوئیں تو نہ صرف بجلی کی ترسیل میں بہتری آئے گی بلکہ گردشی قرضے جیسے دیرینہ مسائل پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے توانائی شعبے میں جاری وسیع اصلاحات، جن میں ٹیرف اسٹرکچر کی بہتری اور نجی سرمایہ کاری کا فروغ شامل ہے، اس اقدام کو مزید اہم بناتے ہیں۔ نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ کا نیا آپریٹنگ ماڈل ان کوششوں کا مرکزی حصہ تصور کیا جا رہا ہے جو ملک کے توانائی نظام کو جدید، مستحکم اور پائیدار بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
UrduLead UrduLead