پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ چند روز میں متوقع، ٹیکس بڑھانے، لیوی اضافے اور مالیاتی اصلاحات پر پیش رفت ہوئی ہے

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان اہم معاشی شرائط پر پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کا مسودہ حکومت کے ساتھ شیئر کر دیا ہے، جس پر مزید مشاورت جاری ہے۔
حکام کے مطابق حتمی اتفاق رائے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے ملک کو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد مل رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت پر ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو بڑھانے پر زور دیا ہے۔ اس سلسلے میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے تحت ہائی اوکٹین کے بعد پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 5 روپے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے حکومتی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے، تاہم اس سے مہنگائی کے دباؤ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی پیٹرولیم لیوی وفاقی محصولات کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 800 ارب روپے سے زائد وصول کیے گئے، جبکہ حکومت نے آئندہ سال کے لیے اس ہدف کو مزید بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔
ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے 100 ارب روپے کی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد مالی خسارہ کم کرنا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 7 فیصد کے قریب رہا ہے، جسے کم کرنا آئی ایم ایف پروگرام کی اہم شرط ہے۔
ادارہ جاتی اصلاحات کے معاملے پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقرری کا اختیار براہ راست حکومت کو دینے پر اعتراض کیا ہے۔ فنڈ کا مؤقف ہے کہ مختلف اداروں کے سی ای اوز اور سربراہان کی تقرری کا اختیار متعلقہ بورڈز کے پاس ہونا چاہیے تاکہ گورننس بہتر بنائی جا سکے۔ یہ مطالبہ پاکستان میں سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس کے شعبوں میں گردشی قرضے کو قابو کرنے کا ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے۔ پاور ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2.6 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو معیشت پر بھاری بوجھ ہے۔ آئی ایم ایف اس مسئلے کے حل کے لیے ٹیرف اصلاحات اور نقصانات میں کمی پر زور دے رہا ہے۔
علاقائی کشیدگی کے معاشی اثرات بھی مذاکرات کا حصہ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کی برآمدات، زرمبادلہ کے ذخائر اور سرمایہ کاری پر ممکنہ دباؤ کا جائزہ لے رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر حالیہ مہینوں میں 8 سے 9 ارب ڈالر کے درمیان رہے ہیں، جو درآمدی ضروریات کے مقابلے میں محدود تصور کیے جاتے ہیں۔
تیل اور کھاد کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جو زرعی لاگت اور مہنگائی دونوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ نیشنل فرٹیلائزر ڈویلپمنٹ سینٹر کے مطابق پاکستان میں کھاد کی طلب گزشتہ سال 6 ملین ٹن سے تجاوز کر گئی تھی، جبکہ قیمتوں میں اضافہ کسانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے حوالے سے حکومت نے ریلیف تجاویز پر کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پراپرٹی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، تاہم اس کے لیے آئی ایم ایف کی منظوری درکار ہوگی۔ اس کے ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے مراعاتی اسکیمیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔
حکومت پہلے ہی کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری دے چکی ہے، جس کا مقصد تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق تعمیراتی شعبہ ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً 2.5 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جبکہ اس سے وابستہ صنعتیں مجموعی اقتصادی سرگرمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام میں پیش رفت سے بیرونی مالیاتی اعتماد بحال ہونے کا امکان ہے، تاہم سخت مالیاتی اقدامات سے قلیل مدت میں عوام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس معاہدے کی کامیابی آئندہ مالی سال کے بجٹ اور وسیع تر اقتصادی استحکام کے لیے اہم ثابت ہوگی۔
UrduLead UrduLead