پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی 0.35 فیصد کم، سالانہ شرح 11.32 فیصد برقرار
ایل پی جی کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران 106.86 فیصد اضافہ، بجلی کے نرخ 52.38 فیصد اور ڈیزل 45.13 فیصد مہنگا ہوگیا
ایل پی جی کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران 106.86 فیصد اضافہ، بجلی کے نرخ 52.38 فیصد اور ڈیزل 45.13 فیصد مہنگا ہوگیا
مہنگائی میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں، مالیاتی سرپلس میں کمی، سودی ادائیگیوں کا بوجھ بڑھ گیا
مارکیٹ شیئر کے اعداد و شمار میں تضاد ، انتظامیہ کے پالیسی مطالبات اور متضاد پیغامات
سرکاری بینک، کفایت شعاری اور سوالات
ایل پی جی کی قیمت اور مرغی ہفتہ وار اضافے کی بڑی وجہ
آمدنی کی چھلانگ جس کی وضاحت فائلنگ میں نہیں
آٹو پالیسی 2026-31: ٹیرف اصلاحات اور سی بی یو ڈیوٹیاں
ہفتہ وار مہنگائی میں کن چیزوں نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا؟
ای سی سی کی منظوری اور مالی گنجائش پر دباؤ
آئی ایم ایف معاہدہ: کن شرائط اور ترجیحات پر زور
ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ کے لیے نئی شرط کیا ہے؟ رعایت یا نئی پابندی؟
وفاقی سرکاری اداروں کے خسارے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2025) رپورٹ
پاکستان کا تجارتی خسارہ ستمبر 2026 میں 3.56 ارب ڈالر رہا۔ جولائی تا ستمبر خسارہ 15.13 فیصد بڑھ کر 10.79 ارب ڈالر ہو گیا، درآمدات برآمدات سے آگے۔
صوبائی بجلی واجبات کی این ایف سی شیئر سے وصولی کا طریقہ کار طے، مگر آئی ایم ایف کو صوبوں کی مالی حالت پر تحفظات ہیں۔ مکمل تفصیل اور تجزیہ پڑھیں۔
ورلڈ بینک اصلاحات پر عملدرآمد تیز کرنے کے لیے عالمی ادارے نے حکومت سے سیلز ٹیکس، زرعی اور پراپرٹی ٹیکس کی ہم آہنگی کا مطالبہ کیا ہے، مگر اصل امتحان عمل درآمد ہے۔
ہفتہ وار مہنگائی یکم اکتوبر کو ختم ہفتے میں 11.53 فیصد رہی، مرغی 7.25 فیصد، پیاز 114 فیصد اور آٹا 33 فیصد مہنگا ہوا۔
پاکستان کا معاشی منظرنامہ: وزارتِ خزانہ بحالی کی بات کرتی ہے، مگر مہنگائی 11.1 فیصد رہی، جولائی کا مالیاتی خسارہ دگنے سے زیادہ ہوا اور تیل کی قیمتیں بڑا خطرہ ہیں۔
ایف بی آر ٹیکس وصولی جولائی تا ستمبر میں 3,083 ارب روپے رہی، ہدف سے 30 ارب زیادہ، لیکن انکم ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں کمی رہی۔