ورلڈ بینک اصلاحات کے تحت پاکستان کو دیے جانے والے 20 ارب ڈالر کے اقتصادی اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
عالمی ادارے نے جمعہ کو حکومت سے کہا کہ سیلز ٹیکس کی ہم آہنگی، صوبائی زرعی ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس کے معاملات آگے بڑھائے جائیں اور ریگولیٹری رکاوٹیں ختم کی جائیں، تاکہ زیادہ شرح نمو، آمدن میں اضافہ اور تجارت و سرمایہ کاری میں آسانی ممکن ہو۔
وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق ورلڈ بینک کے وفد نے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی قیادت میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ اب توجہ اصلاحات کی منصوبہ بندی سے ہٹا کر ان پر مؤثر عملدرآمد پر دی جائے گی۔
ورلڈ بینک اصلاحات کا پس منظر
ورلڈ بینک گروپ نے گزشتہ سال جنوری میں 2025-35 کا دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک شروع کیا تھا، جس کے تحت رعایتی اور تجارتی قرضوں سمیت مجموعی طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر کی مخلوط فنانسنگ رکھی گئی ہے۔ اب یہ پروگرام عملدرآمد کے مرحلے میں ہے۔
یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ اس رقم میں رعایتی کے ساتھ تجارتی قرضے بھی شامل ہیں، یعنی یہ سب امداد نہیں بلکہ بڑا حصہ قرض کی صورت میں ہے۔ پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کا معاملہ برسوں سے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے الجھا رہا ہے، اس لیے ورلڈ بینک اصلاحات کی کامیابی کا انحصار صوبائی حکومتوں کے تعاون پر بھی ہوگا۔
ٹیکس ہم آہنگی اور مالیاتی اصلاحات
بیان کے مطابق ملاقات میں ٹیکس پالیسی کی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا گیا، جس میں درمیانی مدت کی ریونیو حکمت عملی اور ریونیو پالیسی ماڈلنگ شامل ہیں۔ جنرل سیلز ٹیکس کی ہم آہنگی کے تحت خدمات سے متعلق قواعد، تعریفوں اور درجہ بندیوں کو یکساں بنانے، وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ بہتر کرنے اور ڈیٹا شیئرنگ مضبوط کرنے پر بات ہوئی۔
زرعی انکم ٹیکس کے حوالے سے ترمیم شدہ صوبائی قوانین اور رولز پر عملدرآمد اور رجسٹریشن، فائلنگ اور ادائیگی کے ڈیجیٹل نظام کا جائزہ لیا گیا۔ پراپرٹی ٹیکس میں ویلیوایشن کے طریقے بہتر اور یکساں بنانے اور بتدریج مارکیٹ پر مبنی نظام کی طرف بڑھنے پر بھی گفتگو ہوئی۔
گروتھ اینڈ جابز آپریشن اور کاروباری ماحول
ملاقات میں مجوزہ "گروتھ اینڈ جابز آپریشن" زیر بحث آیا، جس میں سرمایہ کاری کا ماحول، مالی وسائل تک رسائی، شعبہ جاتی پیداواریت اور لیبر مارکیٹ کے نتائج بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ ورلڈ بینک نے مجوزہ اقدامات میں یہ نکات رکھے:
- سرمایہ کاری کے فریم ورک اور کاروباری رکاوٹوں میں کمی
- چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے مالی سہولت
- ایگزم بینک آف پاکستان کے لیے برآمدی فنانس مصنوعات
- متحدہ دیوالیہ پن فریم ورک اور فیکٹرنگ قانون سازی
- دواسازی، طبی مصنوعات اور زراعت میں اصلاحات، جن میں بیج کی رجسٹریشن، منتخب اجناس کی ڈی ریگولیشن اور بین الاقوامی اکریڈیٹیشن شامل ہیں
- ہنر مندی، قومی ووکیشنل کوالیفیکیشنز فریم ورک اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بیرون ملک رسمی روزگار کے راستے
نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد اور آٹو سیکٹر سمیت مستقبل کی ٹیرف اصلاحات کے تجزیاتی کام کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سرمایہ منڈی، قرض مینجمنٹ اور ریٹنگ
ورلڈ بینک اصلاحات کے ایجنڈے میں کیپٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ کونسل کے ذریعے سرمایہ منڈی کی اصلاحات کا روڈ میپ بھی شامل ہے۔ وزیر خزانہ نے قرض کے انتظام کی صلاحیت اور ملکی بانڈ مارکیٹ مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ سرکاری شعبے کی کارکردگی اور حکومتی "رائٹ سائزنگ" ایجنڈے پر تکنیکی معاونت کا جائزہ بھی لیا گیا۔
بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سرکاری قرضوں کی پائیداری، بیرونی ذخائر، پائیدار نمو اور ادارہ جاتی مؤثریت جیسے عوامل بہتر بنانے کے لیے سنجیدگی سے کام کرے گی تاکہ ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ مزید بہتر ہو۔ ورلڈ بینک کے وفد نے گورننس اور ادارہ جاتی مؤثریت پر تجزیاتی کام بھی پیش کیا۔
ماہرانہ تجزیہ: ورلڈ بینک اصلاحات کے سامنے اصل چیلنج
ماہرین کی رائے کے لیے بھی اصل بیانات درکار ہیں، تاہم دستیاب حقائق کی روشنی میں چند سوالات واضح ہیں:
- بیان میں اصلاحات کی فہرست طویل ہے، مگر کسی نئی ڈیڈ لائن، ہدف یا قابل پیمائش نتیجے کا ذکر نہیں۔
- سیلز ٹیکس، زرعی اور پراپرٹی ٹیکس صوبائی دائرہ اختیار کے معاملات ہیں، اس لیے وفاقی وعدے صوبوں کی منظوری کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتے۔
- جس "عملدرآمد" پر زور دیا جارہا ہے، وہ برسوں سے اسی طرح کی اصلاحات کی بنیادی کمزوری رہی ہے۔
- بیان وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ہوا ہے، اس لیے ورلڈ بینک کا اپنا مؤقف الگ سے دیکھنا ضروری ہوگا۔