پروٹین پاؤڈر، پروٹین شیکس اور ہائی پروٹین اسنیکس نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ ان مصنوعات کو پٹھوں کی نشوونما، وزن میں کمی اور بچوں کی بہتر جسمانی بڑھوتری کے لیے مفید قرار دے کر فروخت کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ متوازن غذا استعمال کرنے والے زیادہ تر افراد کو پروٹین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگی سپلیمنٹس کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یونیورسٹی آف مشی گن کے 2024 کے ایک سروے کے مطابق تقریباً ایک ہزار والدین میں سے نصف کے قریب نے بتایا کہ ان کے 13 سے 17 سال کی عمر کے بچوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران پروٹین سے بھرپور مصنوعات استعمال کیں۔ سروے میں لڑکوں کے پروٹین مصنوعات استعمال کرنے کی بڑی وجہ کھیلوں میں کارکردگی بہتر بنانا اور پٹھے بنانا سامنے آئی، جبکہ لڑکیاں انہیں متوازن غذا اور وزن کم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
جرمنی میں بھی پروٹین مصنوعات کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعدادوشمار کے ادارے اسٹیٹسٹا کے مطابق مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے دوران فٹنس سے متعلق پروٹین مصنوعات کی خوردہ فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جسم کو روزانہ کتنے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے؟
پروٹین انسانی جسم کے لیے بنیادی غذائی اجزا میں شامل ہے۔ یہ پٹھوں، جلد اور جسمانی اعضا کی تعمیر اور مرمت کے علاوہ انزائمز اور مدافعتی نظام کے لیے ضروری اینٹی باڈیز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جرمن نیوٹریشن سوسائٹی کے مطابق صحت مند بالغ افراد کو روزانہ فی کلوگرام جسمانی وزن کے حساب سے تقریباً 0.8 گرام پروٹین درکار ہوتا ہے۔ اس حساب سے 65 کلوگرام وزن رکھنے والی خاتون کو روزانہ تقریباً 52 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔
نوعمر بچوں میں جسمانی نشوونما جاری ہونے کے باعث پروٹین کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ 13 سے 17 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے روزانہ فی کلوگرام وزن کے حساب سے تقریباً 0.9 گرام پروٹین تجویز کیا گیا ہے۔ اس طرح 45 کلوگرام وزن رکھنے والے نوجوان کو روزانہ تقریباً 40.5 گرام پروٹین درکار ہوتا ہے۔
بڑی عمر کے افراد اور ایک سے چار سال کے بچوں کے لیے یہ مقدار تقریباً ایک گرام فی کلوگرام جسمانی وزن بتائی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دلیہ، دالیں، گری دار میوے، انڈے، دودھ، دہی، پنیر اور دیگر قدرتی غذائیں پروٹین حاصل کرنے کے اچھے ذرائع ہیں۔ اس لیے عام خوراک میں معمولی تبدیلی کرکے بھی جسم کی روزانہ ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔
ضرورت سے زیادہ پروٹین صحت کے لیے نقصان دہ؟
پروٹین کا زیادہ استعمال ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ جرمن نیوٹریشن سوسائٹی کے مطابق طویل عرصے تک ضرورت سے زیادہ پروٹین کا استعمال صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
تحقیقی مطالعات میں بچوں اور نوجوانوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والے پروٹین کی زیادہ مقدار کو وزن بڑھنے اور بعض صورتوں میں کم عمری میں بلوغت شروع ہونے سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
پروٹین کے ہضم ہونے کے دوران پیدا ہونے والے فضلات کو یوریا میں تبدیل کرکے جسم سے خارج کرنے کی ذمہ داری گردوں پر ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ پروٹین گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے، خصوصاً ان افراد میں جنہیں پہلے سے گردوں کی بیماری لاحق ہو یا جو مناسب مقدار میں پانی استعمال نہیں کرتے۔
کیا زیادہ ورزش کرنے والوں کو پروٹین شیکس کی ضرورت ہے؟
جسمانی سرگرمی اور سخت ورزش کرنے والے افراد کو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ پروٹین درکار ہو سکتا ہے۔ پروٹین پٹھوں کی مضبوطی، ان کی مرمت اور ورزش کے بعد بحالی میں مدد دیتا ہے۔
جرمن نیوٹریشن سوسائٹی کے ایک پوزیشن پیپر کے مطابق مخصوص تربیتی ضروریات رکھنے والے کھلاڑیوں کے لیے روزانہ فی کلوگرام جسمانی وزن کے حساب سے 1.2 سے 2 گرام پروٹین کی مقدار تجویز کی گئی ہے۔ تاہم یہ سفارش خاص طور پر ان افراد کے لیے ہے جو روزانہ پانچ گھنٹے سے زیادہ تربیت کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ ورزش کرنے والے افراد بھی متوازن خوراک کے ذریعے اپنی پروٹین کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ عام حالات میں پروٹین پاؤڈر یا شیکس استعمال کرنا لازمی نہیں۔
پروٹین پاؤڈر اور بارز کے ممکنہ نقصانات
پروٹین مصنوعات پر ہونے والی تنقید کی ایک بڑی وجہ ان میں شامل اضافی اجزا ہیں۔ بعض مصنوعات میں مصنوعی مٹھاس، چینی، مختلف ذائقے اور دیگر اضافی کیمیکلز شامل کیے جاتے ہیں، جو انہیں قدرتی غذاؤں کا بہتر متبادل نہیں بناتے۔
جرمن اسپورٹس یونیورسٹی کولون کی ایک تحقیق میں پٹھے بنانے کے دعوے کے ساتھ فروخت ہونے والی بعض پروٹین مصنوعات میں ڈوپنگ سے متعلق ممنوعہ مادے بھی پائے گئے۔
نوعمر افراد میں دودھ سے حاصل ہونے والے پروٹین، خصوصاً وہے پروٹین، کے استعمال سے کیل مہاسوں کی شدت بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم پروٹین مصنوعات اور کیل مہاسوں کے درمیان براہ راست تعلق ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا۔
ماہرین کو یہ خدشہ بھی ہے کہ نوجوان پروٹین شیکس اور دیگر سپلیمنٹس پر انحصار کرتے ہوئے معمول کے کھانے کم کر سکتے ہیں، جس سے انہیں فائبر، وٹامنز، معدنیات اور صحت مند چکنائی مناسب مقدار میں نہیں مل پاتی۔
پروٹین کے نام پر مہنگی مصنوعات کی فروخت
پروٹین سے بھرپور مصنوعات کی قیمتیں عام غذاؤں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں۔ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی 2022 کی ایک تحقیق میں بھی نشاندہی کی گئی کہ قدرتی طور پر پروٹین سے بھرپور بعض غذائیں، مثلاً پنیر، دہی اور سویا ڈرنکس، صرف اس وجہ سے مہنگی فروخت ہوتی ہیں کہ ان کی پیکنگ پر پروٹین کی مقدار کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پروٹین کی کمی پوری کرنے کے لیے سپلیمنٹس کے بجائے متوازن غذا کو ترجیح دینی چاہیے۔ البتہ الرجی، ہاضمے، چبانے یا نگلنے کے مسائل اور بھوک کی کمی جیسے مخصوص حالات میں ڈاکٹر یا ماہر غذائیت کے مشورے سے پروٹین سپلیمنٹس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر پروٹین صحت مند جسم، مضبوط پٹھوں اور بہتر نشوونما کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ پروٹین یا مہنگے پروٹین شیکس لازماً زیادہ صحت اور بہتر جسمانی ساخت کی ضمانت ہیں۔ اصل اہمیت مناسب مقدار، متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی کی ہے۔