دنیا کے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس (Binance) کو ممکنہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے ڈیجیٹل والٹس سے 5.7 ارب ڈالر تک مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کی سہ پہر سامنے آنے والے اس مشتبہ سائبر حملے کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں تشویش پھیل گئی، جبکہ بائننس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ کرپٹو مارکیٹ سے وابستہ تجزیہ کاروں اور ٹریڈرز کے اندازوں کے مطابق چوری ہونے والے اثاثوں کی مالیت 1.7 ارب ڈالر سے 5.7 ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ تاہم بائننس نے تاحال نقصان کی حتمی مالیت کی تصدیق نہیں کی۔
بائننس کی شریک بانی یی ہی (Yi He) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ سائبر حملے کے بعد ایکسچینج نے صارفین کے ڈپازٹس اور رقوم کی نکلوانے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور ہیکنگ کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات بائننس خود برداشت کرے گا۔
کرپٹو ٹریڈنگ فرم جے پی ای جی ٹریڈنگ کے شریک بانی کیون مارچ نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرپٹو مارکیٹ میں اس نوعیت کا حملہ پہلے نہیں دیکھا گیا۔
ایک ارب ڈالر سے زائد کرپٹو اثاثے منجمد
بائننس کے سابق سربراہ اور شریک بانی چانگ پینگ ژاؤ (CZ) کے مطابق کرپٹو کرنسی کے بڑے پلیٹ فارمز ٹیتھر (Tether) اور سرکل (Circle) نے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے کرپٹو اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
اس اقدام سے ممکنہ طور پر ہیکرز کے لیے چوری شدہ اثاثوں کو منتقل کرنا یا نقد رقم میں تبدیل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے صارفین کے ممکنہ مالی نقصان کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بائننس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے کی سیکیورٹی ٹیمیں واقعے سے متعلق تمام معلومات کا فوری طور پر جائزہ لے رہی ہیں۔
کرپٹو تاریخ کا سب سے بڑا ہیکنگ واقعہ بننے کا خدشہ
اگر چوری ہونے والی رقم کے ابتدائی اندازے درست ثابت ہوئے تو بائننس پر یہ حملہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ بن سکتا ہے۔
اس سے قبل 2025 میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز نے کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ (Bybit) سے تقریباً 1.5 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کی تھی۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھی اس واقعے میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی تھی۔
شمالی کوریا سے منسلک سائبر گروپس پر کرپٹو کرنسی کی چوری، آن لائن فراڈ اور مختلف کمپنیوں کے ڈیجیٹل نظاموں میں غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
پولی مارکیٹ پر بھی سائبر حملہ
بائننس کے واقعے سے چند گھنٹے قبل ڈیجیٹل پیش گوئیوں کے پلیٹ فارم پولی مارکیٹ (Polymarket) نے بھی سائبر حملے کی تصدیق کی تھی۔ اس واقعے کے بعد پلیٹ فارم نے تقریباً ایک گھنٹے کے لیے ٹریڈنگ معطل کر دی تھی۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق پولی مارکیٹ کے صارفین کے کم از کم 27 لاکھ ڈالر مالیت کے فنڈز چوری ہوئے۔ سائبر سیکیورٹی محققین نے اس واقعے کا ممکنہ تعلق تھرڈ پارٹی ویب سائٹ مانیٹرنگ ٹول ڈیبگ بیئر (DebugBear) میں سامنے آنے والے سیکیورٹی مسئلے سے جوڑا ہے۔ تاہم ان واقعات کے درمیان براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔
چھوٹے کرپٹو ایکسچینجز کے لیے خطرے کی گھنٹی
ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر سائبر حملے کرپٹو مارکیٹ میں صارفین کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد سرمایہ کار گھبراہٹ میں اپنی رقوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے خاص طور پر چھوٹے کرپٹو ایکسچینجز کو مالی بحران اور ممکنہ بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کیون مارچ کے مطابق بائننس کا حجم اور مالی وسائل اسے دیگر چھوٹے کرپٹو اداروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسی نوعیت کا حملہ کسی دوسرے کرپٹو کاروبار پر ہوتا تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے تھے۔
ان کے مطابق بائننس اپنے انشورنس فنڈ اور مالی وسائل کے ذریعے ممکنہ نقصانات پورے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس واقعے کے اثرات وسیع کرپٹو مارکیٹ اور ڈیجیٹل اثاثوں کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ہیکرز کی شناخت اور اصل نقصان تاحال غیر واضح
بائننس نے ابھی تک حملے کے ذمہ دار افراد یا گروہ کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی چوری ہونے والی کرپٹو کرنسی کی حتمی مالیت سامنے آئی ہے۔
سائبر حملے کی تحقیقات کے نتائج، منجمد کیے گئے اثاثوں کی واپسی اور صارفین کے فنڈز کے تحفظ سے متعلق بائننس کے آئندہ اقدامات عالمی کرپٹو مارکیٹ کے لیے اہم ہوں گے۔