ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کو نافذ ہوئے تقریباً 20 ماہ ہو چکے ہیں، مگر اس کے تحت بننے والا قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان اب تک منظور نہیں ہوا۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کا اصل مسئلہ تاخیر نہیں، اس کا ڈھانچہ ہے، جس میں اختیارات ایک دفتر کے پاس ہیں اور عدالتی، پارلیمانی اور ڈیٹا تحفظ کے حفاظتی انتظامات کمزور یا غائب ہیں۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ میں کیا طے کیا گیا ہے

جنوری 2025 میں منظور ہونے والا یہ قانون فوری طور پر نافذ کیا گیا اور اس کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل معاشرہ، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی والا ملک بنانا ہے۔ اس کے تحت وزیراعظم کی سربراہی میں قومی ڈیجیٹل کمیشن، قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار اور نافذ کرنے کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، اور اخراجات کے لیے ڈیجیٹل نیشن فنڈ قائم کیا گیا۔

پاکستان کو ڈیجیٹل شناخت، ادائیگیوں، ڈیٹا کے تبادلے اور آن لائن سرکاری خدمات کی فوری ضرورت ہے۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ طاقتور ادارے بنانے والے قانون کو اس کے ڈھانچے سے پرکھنا چاہیے، دیباچے سے نہیں۔

پس منظر: ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے بیس ماہ اور غیر منظور شدہ ماسٹر پلان

اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ایک رکن، جن کا تعلق خلیجی ممالک میں ڈیجیٹل حکومت کے کام سے رہا ہے، پانچ سال کی مدت کے لیے مقرر ہوئے۔ ستمبر 2026 کے آخر تک حکومت ماسٹر پلان کو "آگے بڑھانے" کی بات کر رہی تھی، شعبہ جاتی منصوبے جائزے کے منتظر تھے اور عملے کی تعیناتی پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے بات چیت جاری تھی۔ حکام کو امید ہے کہ پلان وزیراعظم کے ساتھ وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

ایکٹ اتھارٹی سے ماسٹر پلان کا کم از کم سالانہ جائزہ مانگتا ہے، مگر ڈیڑھ سال سے زائد گزرنے کے بعد جائزے کے لیے کوئی منظور شدہ پلان موجود ہی نہیں۔ مضمون نگار کے مطابق تاخیر بذاتِ خود اسکینڈل نہیں، اصل تشویش یہ ہے کہ پلان بننے کے بعد قانون کیا کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

تجزیہ: ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ پر اٹھائے گئے پانچ اعتراضات

مضمون میں درج ذیل نکات اٹھائے گئے ہیں:

  • اختیارات کا ارتکاز: وزیراعظم کمیشن کے سربراہ ہیں، اتھارٹی کے چیئرپرسن اور اراکین کا تقرر اور ان کی تنخواہوں کا تعین کرتے ہیں، اور انہیں "وجوہات ریکارڈ کر کے" ہٹا بھی سکتے ہیں۔ نگران کمیٹی کے نجی شعبے کے اراکین بھی وزیراعظم کی مرضی تک عہدے پر رہتے ہیں۔ کمیٹی کی قیادت وزیر آئی ٹی کے پاس ہے اور اس میں وفاقی سیکریٹریز اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کا نمائندہ شامل ہے۔ مضمون نگار کے بقول عملاً انتظامیہ خود اپنا جائزہ لے گی۔
  • پارلیمان کا محدود کردار: سالانہ رپورٹیں کمیشن، کمیٹی اور وزارت کو جاتی ہیں اور آن لائن شائع ہوتی ہیں، مگر تقرریوں کی پارلیمانی توثیق، قائمہ کمیٹی کے جائزے اور ماسٹر پلان کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی کوئی شرط نہیں۔
  • عدالتی استثنا: مضمون کے مطابق دفعہ 29 ایکٹ کے تحت ہونے والے کسی فیصلے یا اقدام کو کسی عدالت یا ٹریبونل میں چیلنج کرنے سے روکتی ہے اور حکمِ امتناعی کی ممانعت کرتی ہے۔ دفعہ 23 کمشنروں، افسران اور مشیروں کو صرف اس صورت میں مقدمے کی زد میں لاتی ہے جب بدنیتی "معقول شک سے بالاتر" ثابت ہو، جو فوجداری معیار ہے۔ دفعہ 28 ایکٹ کو دیگر تمام قوانین پر فوقیت دیتی ہے۔
  • ڈیٹا تحفظ کا خلا: دفعہ 28(2) کے مطابق جہاں کوئی اور قانون شہریوں کے ڈیٹا حقوق کے تحفظ کے "مخصوص اقدامات" دیتا ہو، وہ مقدم ہوں گے۔ مضمون نگار کہتے ہیں کہ پاکستان میں ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا قانون موجود ہی نہیں اور کم از کم 2023 سے گردش کرنے والا مسودہ بار بار رک چکا ہے، یعنی یہ تحفظ ایسے قانون پر منحصر ہے جو منظور نہیں ہوا۔ دفعہ 19 اتھارٹی کو "کسی بھی شخص" سے معلومات طلب کرنے کا اختیار دیتی ہے اور کمیشن دس کام کے دنوں میں تعمیل کا حکم دے سکتا ہے۔ مضمون میں نادرا کے 27 لاکھ شہریوں کے ریکارڈ کی خلاف ورزی کی تحقیقات اور کال ریکارڈ اور سم ڈیٹا کی فروخت پر گرفتاریوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
  • وفاق اور صوبے: اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت، تعلیم اور زراعت زیادہ تر صوبائی موضوعات ہیں، مگر کمیشن "اداروں" کو وفاقی ماسٹر پلان سے ہم آہنگ ہونے کی ہدایات دے سکتا ہے۔ وزرائے اعلیٰ کمیشن کے رکن ہیں، لیکن اجلاس کے کورم کے لیے وزیراعظم کی موجودگی لازمی ہے۔ مضمون نگار کو خدشہ ہے کہ صوبوں پر معیار مسلط ہو سکتے ہیں، باہمی رضامندی سے طے نہیں ہوں گے۔

مضمون میں آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن تشخیصی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق اس نے SIFC کے وسیع قانونی استثنا اور منصوبوں کو ضابطوں سے مستثنیٰ کرنے کے اختیار کی نشاندہی کی تھی۔ ورلڈ بینک کی ڈیٹا سے متعلق رپورٹ “Data for Better Lives” کا بھی ذکر ہے، جس کے مطابق ڈیٹا کی عوامی قدر اعتماد پر اور اعتماد قانونی تحفظ اور آزاد نگرانی پر قائم ہے۔ مضمون نگار کہتے ہیں کہ بینک پنجاب کے لیے 7 کروڑ ڈالر کے رابطہ کاری اور خدمات کے پروگرام سمیت پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی مالی معاونت کر رہا ہے، اس لیے اسے قومی اتھارٹی سے یہی معیار مانگنا چاہیے۔

بین الاقوامی مثالوں میں مضمون کا موقف ہے کہ ایسٹونیا، بھارت اور سنگاپور نے پہلے حقوق اور قانونی ڈھانچہ بنایا، پھر پلیٹ فارم پھیلائے، اور کسی نے اپنی ڈیجیٹل اتھارٹی کو عدالت کی پہنچ سے باہر نہیں رکھا۔ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے ناقدین کے لیے یہ موازنہ اہم ہے، تاہم ان ممالک کے قوانین اور ان کے اطلاق کی تفصیل اردو لیڈ نے الگ سے نہیں جانچی۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ میں مجوزہ ترامیم

ایکٹ کو منسوخ کرنے کے بجائے ترمیم کا مطالبہ کرتے ہیں:

  • دفعہ 29 کی عدالتی ممانعت ختم کر کے عام عدالتی نظرثانی بحال کی جائے۔
  • تحفظ کا معیار دیوانی سطح پر "نیک نیتی" تک لایا جائے۔
  • تقرریاں اور برطرفیاں پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ہوں، اور برطرفی کی بنیادیں طے ہوں۔
  • ماسٹر پلان اور شعبہ جاتی منصوبے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پیش ہوں۔
  • کسی بھی قومی ڈیٹا تبادلے کے آغاز سے پہلے آزاد ریگولیٹر کے ساتھ مضبوط ذاتی ڈیٹا تحفظ قانون منظور کیا جائے۔