پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 0.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 11.32 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رہی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے مطابق بجلی، مرغی، انڈوں اور آٹے سمیت بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے باوجود گھریلو صارفین کو مہنگائی کے دباؤ سے خاطرخواہ ریلیف نہیں مل سکا۔
رپورٹ کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے دوران بجلی کے نرخوں میں 3.92 فیصد، مرغی کے گوشت کی قیمت میں 2.95 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 2.81 فیصد کمی ہوئی۔ اسی طرح گندم کے آٹے کی قیمت 0.83 فیصد، ایل پی جی 0.73 فیصد، کیلے 0.71 فیصد، چاول اری 6/9 اور دال مسور کی قیمتیں 0.43 فیصد فی کس کم ہوئیں۔ پیٹرول کی قیمت میں 0.39 فیصد، چینی میں 0.35 فیصد اور خشک دودھ کی قیمت میں 0.33 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تاہم دوسری جانب ٹماٹر کی قیمتوں میں ایک ہی ہفتے کے دوران 34.91 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا، جو تمام 51 بنیادی اشیائے ضروریہ میں سب سے زیادہ تھا۔ آلو 3.27 فیصد، ڈیزل 2.53 فیصد اور دال چنا 2.11 فیصد مہنگی ہوگئی۔ ڈبل روٹی کی قیمت میں 1.29 فیصد، پیاز میں 0.62 فیصد، تازہ دودھ میں 0.48 فیصد اور دہی میں 0.46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پی بی ایس کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے دوران 51 اشیائے ضروریہ میں سے 15 کی قیمتوں میں اضافہ، 12 میں کمی جبکہ 24 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
ایل پی جی اور توانائی کی قیمتوں میں سالانہ اضافہ
سالانہ بنیادوں پر قیمتوں کا تقابلی جائزہ مہنگائی کے مسلسل دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں 106.86 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد بجلی کے نرخ 52.38 فیصد، ڈیزل 45.13 فیصد اور پیٹرول 43.61 فیصد مہنگا ہوا۔
خوراک کی بنیادی اشیا میں گندم کا آٹا 34.87 فیصد، مرغی کا گوشت 31.72 فیصد، مرچ پاؤڈر 15.55 فیصد اور مٹن 14.66 فیصد مہنگا ہوا۔ اسی طرح ڈبل روٹی کی قیمت میں 12.26 فیصد، بیف میں 12.10 فیصد، پیاز میں 8.99 فیصد اور تیار چائے کی قیمت میں 8.41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے برعکس سالانہ بنیادوں پر آلو کی قیمت میں 38.67 فیصد، ٹماٹر میں 27.99 فیصد، انڈوں میں 26.70 فیصد اور چینی میں 25.21 فیصد کمی ہوئی۔ نمک، گڑ، دال مسور اور دال مونگ کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مختلف آمدنی والے طبقات پر مہنگائی کے اثرات
پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق مختلف اخراجاتی گروپس میں سالانہ مہنگائی کی شرح یکساں نہیں رہی۔ سب سے کم اخراجات والے طبقے میں سالانہ مہنگائی 8.07 فیصد، دوسرے گروپ میں 9.92 فیصد، تیسرے میں 8.95 فیصد اور چوتھے گروپ میں 9.51 فیصد رہی۔
سب سے زیادہ اخراجات والے طبقے میں سالانہ مہنگائی کی شرح 12.13 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر حساس قیمتوں کا اشاریہ 11.32 فیصد بڑھا۔
ہفتہ وار بنیادوں پر سب سے کم اخراجات والے طبقے میں مہنگائی صرف 0.07 فیصد کم ہوئی، جبکہ سب سے زیادہ اخراجات والے طبقے میں 0.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
پی بی ایس کے مطابق حساس قیمتوں کا اشاریہ ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے جمع کیے گئے 51 بنیادی اشیائے ضروریہ کے نرخوں کی بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی کمی کے باوجود ایل پی جی، بجلی، پیٹرولیم مصنوعات اور خوراک کی متعدد بنیادی اشیا کی قیمتوں میں سالانہ اضافے نے عوام کی قوت خرید پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔