پاکستان کی معیشت میں بہتری کے حکومتی دعووں کے باوجود مہنگائی، درآمدات میں تیز رفتار اضافہ، سودی ادائیگیوں کا بڑھتا بوجھ، مالیاتی سرپلس میں کمی اور صنعتی ترقی کی سست رفتار معیشت کے لیے اہم چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کی اکتوبر 2026 کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر، غیر ملکی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی، تاہم اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی بحالی ابھی بیرونی مالی معاونت، عالمی توانائی کی قیمتوں اور محدود صنعتی ترقی سے متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ کر 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ خسارہ 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔ اس دوران اشیا کی درآمدات 14.3 فیصد اضافے سے 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ برآمدات میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 8.5 ارب ڈالر رہا۔
یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ درآمدات میں اضافے کی رفتار برآمدات سے کہیں زیادہ ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کی دستیابی پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
درآمدات میں اضافہ، برآمدات کی رفتار کم
پاکستان کی بیرونی تجارت میں عدم توازن بدستور ایک اہم مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مشینری کی درآمدات میں 19.3 فیصد، دھاتوں کی درآمدات میں 24 فیصد اور ٹرانسپورٹ آلات کی درآمدات میں 19.2 فیصد اضافہ ہوا۔
پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات بھی 6.5 فیصد بڑھ گئیں، جس سے توانائی کی ضروریات اور عالمی قیمتوں کے اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب اشیا کی برآمدات میں اضافے کے باوجود درآمدی بل میں ہونے والا اضافہ بیرونی تجارت کے فرق کو کم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔ غذائی اشیا کی برآمدات میں 25.3 فیصد اضافہ ہوا، جس میں چاول کی برآمدات کا نمایاں کردار رہا، جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات میں 5.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کو برآمدات میں پائیدار اور وسیع البنیاد اضافے کی ضرورت ہے۔ اگر معاشی سرگرمیوں کے ساتھ درآمدات بھی تیزی سے بڑھتی رہیں تو بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
مہنگائی میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں
ستمبر 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہوکر 10.3 فیصد ہوگئی، جو اگست میں 11.1 فیصد تھی۔ تاہم یہ شرح گزشتہ سال ستمبر کی 5.8 فیصد مہنگائی سے کہیں زیادہ ہے۔
مہنگائی کی رفتار میں کمی کو عوامی اخراجات میں حقیقی کمی نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ضروری اشیا اور خدمات کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 27.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے شعبے میں قیمتیں 12.4 فیصد بڑھیں۔
اسی طرح خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں 11.8 فیصد اور دیگر غذائی اشیا میں 7.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے میں بھی 0.65 فیصد اضافہ ہوا۔ اس ہفتے 19 اشیا مہنگی، 12 سستی اور 20 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
وزارتِ خزانہ نے اکتوبر کے لیے مہنگائی کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، تاہم عالمی توانائی کی قیمتیں، غذائی رسد اور علاقائی کشیدگی اس پیش گوئی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
شرح سود میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے چیلنج
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑھتے ہوئے افراطِ زر کے خدشات کے پیش نظر پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے 12 فیصد کردیا، جس کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوا۔
مرکزی بینک کا مقصد مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا ہے، تاہم بلند شرح سود کاروباروں اور صارفین کے لیے قرض حاصل کرنا مہنگا کرسکتی ہے۔
زیادہ مالیاتی لاگت کے باعث کاروباری اداروں کے لیے نئی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور کاروبار کی توسیع مشکل ہوسکتی ہے۔ توانائی اور خام مال کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ مہنگا قرض صنعتی سرگرمیوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 16 اکتوبر تک نجی شعبے نے مجموعی طور پر 5.7 ارب روپے کے بجائے صرف 5.7 ارب روپے کی خالص قرض گیری کی، یعنی نجی شعبے کا خالص قرضی بہاؤ 5.7 ارب روپے رہا۔ گزشتہ سال اسی مدت میں نجی شعبے نے 21.1 ارب روپے کے قرضے واپس کیے تھے۔
اگرچہ قرضی بہاؤ کی سمت میں بہتری آئی، تاہم خالص رقم محدود رہی۔ یہ اعداد و شمار وسیع پیمانے پر کاروباری قرض گیری میں مضبوط بحالی کی تصدیق نہیں کرتے۔
مالیاتی سرپلس میں کمی، سودی ادائیگیوں کا بوجھ بڑھ گیا
حکومتی مالیات کے شعبے میں بھی دباؤ کے آثار نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے ابتدائی عرصے میں مجموعی مالیاتی سرپلس کم ہوکر 1.198 کھرب روپے رہ گیا، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.8 فیصد ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ سرپلس 2.124 کھرب روپے یا جی ڈی پی کا 1.7 فیصد تھا۔
اسی طرح بنیادی مالیاتی سرپلس 2.939 کھرب روپے سے کم ہوکر 2.311 کھرب روپے رہ گیا۔
حکومتی اخراجات میں مجموعی طور پر 20.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ترقیاتی اخراجات 69.5 فیصد بڑھ گئے۔ دوسری جانب قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 36.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سرکاری مالیات پر قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سبسڈی کے اخراجات میں بھی 90 فیصد کمی ہوئی۔ تاہم رپورٹ اس کمی کے عوام، کاروباری اداروں یا مختلف شعبوں پر پڑنے والے اثرات کی تفصیلی وضاحت نہیں کرتی۔
ایف بی آر نے جولائی تا ستمبر کے دوران 3.086 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ اور مقررہ ہدف سے 33.2 ارب روپے زائد تھا۔
تاہم ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے باوجود مالیاتی سرپلس میں کمی اور سودی ادائیگیوں میں تیز رفتار اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو آمدن بڑھانے اور اخراجات کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔
صنعتی ترقی سست، مینوفیکچرنگ میں غیر یکساں صورتحال
پاکستان کے بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں جولائی تا اگست مالی سال 2026-27 کے دوران صرف 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ شرح 4.8 فیصد تھی۔
اگست میں صنعتی پیداوار سالانہ بنیاد پر 0.7 فیصد بڑھی، لیکن جولائی کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
خوراک، کیمیکلز اور ادویات کے شعبوں میں کم پیداوار نے صنعتی کارکردگی کو متاثر کیا، جبکہ گاڑیوں، پٹرولیم مصنوعات، ملبوسات اور فرنیچر کے شعبوں نے کچھ سہارا فراہم کیا۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صنعتی بحالی تمام شعبوں میں یکساں نہیں، بلکہ چند صنعتوں کی بہتر کارکردگی مجموعی پیداوار کو سہارا دے رہی ہے۔
جولائی تا ستمبر کے دوران گاڑیوں کی پیداوار میں بہتری آئی۔ کاروں کی پیداوار 31.8 فیصد اور ٹرکوں و بسوں کی پیداوار 54.2 فیصد بڑھی۔ تاہم ٹریکٹروں کی پیداوار میں 15.3 فیصد کمی ہوئی۔
سیمنٹ کی مجموعی ترسیلات 3.9 فیصد اضافے سے 13.1 ملین ٹن ہوگئیں، لیکن برآمدات 11.3 فیصد کم ہوکر 2.3 ملین ٹن رہ گئیں۔ مقامی طلب میں اضافے کے باوجود سیمنٹ برآمدات میں کمی بیرونی منڈیوں میں مسابقت اور برآمدی کارکردگی پر مزید توجہ کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
کپاس کی پیداوار میں کمی ٹیکسٹائل شعبے کے لیے تشویش
زرعی شعبے نے مجموعی معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیا، تاہم بڑی فصلوں کی پیداوار میں یکساں بہتری نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار 12.1 فیصد اضافے سے 9.98 ملین ٹن، گنے کی پیداوار 8.8 فیصد اضافے سے 97.3 ملین ٹن اور چاول کی پیداوار 1.8 فیصد اضافے سے 10.2 ملین ٹن رہی۔
اس کے برعکس کپاس کی پیداوار 4.8 فیصد کمی کے بعد 6.71 ملین گانٹھوں تک محدود ہوگئی۔
کپاس کی پیداوار میں کمی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ شعبہ پاکستان کی برآمدی آمدن میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ مقامی کپاس کی دستیابی میں کمی کی صورت میں درآمدی خام مال کی ضرورت بڑھ سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار صنعتی طلب اور مقامی رسد پر ہوگا۔
زرعی قرضوں کی تقسیم میں جولائی تا اگست کے دوران 32.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ رقم 540.5 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ خریف سیزن میں یوریا کھاد کی کھپت 8.4 فیصد بڑھی، لیکن ڈی اے پی کھاد کی کھپت میں 25.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چند فصلوں میں بہتر پیداوار کے باوجود زرعی شعبے کے تمام اشاریے مثبت نہیں ہیں۔
زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے، مگر بیرونی مالی وسائل پر انحصار برقرار
16 اکتوبر 2026 تک پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 26.8 ارب ڈالر ہوگئے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 21.5 ارب ڈالر موجود تھے۔
ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے خودمختار یورو بانڈ کا اجرا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری کی آمد نے بیرونی مالی پوزیشن بہتر بنانے میں مدد دی۔
پہلی سہ ماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 20 فیصد اضافے سے 719.7 ملین ڈالر رہی، جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں تقریباً 2.93 ارب ڈالر کی خالص آمد ریکارڈ کی گئی۔
تاہم بہتر ذخائر اور بیرونی مالی وسائل تک رسائی کو بنیادی معاشی مسائل کے خاتمے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ جاری کھاتے کا خسارہ اور درآمدات میں تیز رفتار اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ بیرونی شعبے میں عدم توازن اب بھی موجود ہے۔
غیر ملکی قرضے اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری، برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن یا دیگر مستقل ذرائع سے مختلف ہیں۔ ان کی دستیابی عالمی مالیاتی حالات، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مستقبل کی مالی ضروریات سے متاثر ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ تفصیل بھی موجود نہیں کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں موجودہ ذخائر کتنے عرصے تک درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی رہیں گے۔ اس لیے صرف ذخائر کی بلند سطح کی بنیاد پر معیشت کی طویل مدتی مزاحمت کا حتمی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
عالمی تیل کی قیمتیں معیشت کے لیے بڑا خطرہ
عالمی توانائی کی قیمتیں پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے اہم خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 116.8 ڈالر فی بیرل رہی، جو اگست کے مقابلے میں 28.4 فیصد زیادہ تھی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل بڑھانے کے ساتھ ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعتی پیداوار اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھنے اور کاروباری لاگت میں اضافے کا خدشہ رہتا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، خلیجی خطے میں تنازعات، عالمی تجارت میں رکاوٹوں اور بلند عالمی مہنگائی کو معاشی منظرنامے کے لیے منفی خطرات قرار دیا ہے۔
ان حالات میں پاکستان کی معاشی کارکردگی کا انحصار زرمبادلہ کی آمدنی برقرار رکھنے، برآمدات بڑھانے، توانائی کے مؤثر استعمال اور ساختی اصلاحات پر ہوگا۔
معاشی استحکام کے باوجود عوامی سطح پر بہتری کا امتحان باقی
پاکستان کی نظرثانی شدہ قومی آمدن کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.65 فیصد رہی، جو پہلے لگائے گئے 3.70 فیصد کے تخمینے سے معمولی کم ہے۔ اس دوران زراعت میں 3.50 فیصد، صنعت میں 3.34 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 3.81 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔
وزارتِ خزانہ کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 میں بہتر زرعی پیداوار، تعمیراتی سرگرمیوں، منتخب صنعتی شعبوں، ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات سے معاشی نمو کو سہارا ملے گا۔
تاہم رپورٹ کے اپنے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی بحالی اب بھی کئی خطرات سے دوچار ہے۔ دو ہندسی مہنگائی، بلند شرح سود، نجی شعبے کی محدود خالص قرض گیری، جاری کھاتے کا بڑھتا خسارہ اور سودی ادائیگیوں میں اضافہ معاشی امکانات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
اصل چیلنج صرف زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا یا مالیاتی سرپلس برقرار رکھنا نہیں، بلکہ ان کامیابیوں کو پائیدار برآمدات، صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری، روزگار اور عوام کی قوتِ خرید میں بہتری میں تبدیل کرنا ہے۔
اگر ان شعبوں میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو مالیاتی استحکام کے موجودہ فوائد عالمی تیل کی قیمتوں، بیرونی مالی ضروریات اور ملکی معاشی کمزوریوں کے باعث دباؤ کا شکار رہ سکتے ہیں۔