ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں انڈس موٹر کا منافع 9.9 فیصد اضافے کے ساتھ 7.38 ارب روپے رہا۔ بورڈ نے 56 روپے فی شیئر (560 فیصد) پہلے عبوری نقد منافع منقسمہ کی سفارش بھی کی ہے۔ تاہم کمپنی کے اپنے گوشواروں میں مارجن میں کمی، مالیاتی لاگت میں تقریباً پانچ گنا اضافہ، نقدی میں بڑی کمی اور غیر بنیادی آمدن پر بڑھتا انحصار نظر آتا ہے۔ ڈائریکٹرز رپورٹ ان میں سے کسی کا ذکر نہیں کرتی۔
انڈس موٹر کا منافع فروخت کے مقابلے میں سست رفتار
کمپنی کے مطابق گاڑیوں کی فروخت 34 فیصد بڑھ کر 13,380 یونٹ، پیداوار 39.2 فیصد بڑھ کر 14,240 یونٹ اور آمدن 19.9 فیصد بڑھ کر 74.01 ارب روپے ہو گئی۔ لیکن فروخت کی لاگت 22.5 فیصد بڑھی، یعنی آمدن سے تیز۔ اس کے نتیجے میں:
- مجموعی منافع صرف 7.3 فیصد بڑھ کر 11.31 ارب روپے رہا۔
- مجموعی مارجن تقریباً 17.1 فیصد سے گھٹ کر تقریباً 15.3 فیصد رہ گیا۔
- خالص مارجن تقریباً 10.9 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 10.0 فیصد ہو گیا۔
فی گاڑی آمدن بھی کمزور دکھائی دیتی ہے۔ آمدن کو فروخت شدہ یونٹس پر تقسیم کریں تو یہ تقریباً 55.3 لاکھ روپے فی گاڑی بنتی ہے، جبکہ گزشتہ سال تقریباً 61.9 لاکھ روپے تھی، یعنی تقریباً 10 فیصد کمی۔ یہ محض تخمینہ ہے کیونکہ آمدن میں گاڑیوں کے علاوہ دیگر مدات بھی شامل ہیں، مگر اس سے اشارہ ملتا ہے کہ فروخت میں اضافہ کم قیمت والے ماڈلز کی طرف جھکاؤ یا کم قیمتوں کے ذریعے حاصل ہوا۔ رپورٹ "مؤثر لاگت کنٹرول" کا کریڈٹ لیتی ہے، مگر اخراجات کی مدات فروخت سے تیز بڑھتی نظر آتی ہیں۔
انڈس موٹر کا منافع دیگر آمدن پر منحصر، مالیاتی لاگت میں اضافہ
دیگر آمدن 3.22 ارب روپے رہی، جو قبل از ٹیکس منافع کا تقریباً 27 فیصد ہے۔ ورکرز فنڈز کے بعد بنیادی آپریشنز کا منافع صرف 7.3 فیصد بڑھا، جو مجموعی منافع کی شرحِ نمو سے سست ہے۔
مالیاتی لاگت 4.97 کروڑ روپے سے بڑھ کر 20.37 کروڑ روپے ہو گئی، یعنی 300 فیصد سے زائد اضافہ۔ رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ 87.6 ارب روپے کی قلیل مدتی سرمایہ کاری رکھنے والی کمپنی کی مالیاتی لاگت اتنی کیوں بڑھی۔ مؤثر ٹیکس بوجھ بھی قبل از ٹیکس منافع کا تقریباً 37.6 فیصد ہے۔
نقدی کی صورتحال: انڈس موٹر کا منافع بمقابلہ نقدی کا زوال
بیلنس شیٹ اور کیش فلو اسٹیٹمنٹ منافع کی سطر کے مقابلے میں کم تسلی بخش ہیں:
- نقد و بینک بیلنس 30 جون کے 11.19 ارب روپے سے گھٹ کر 4.94 ارب روپے رہ گئے۔
- نقد اور نقد کے مساوی مدت کے اختتام پر 4.94 ارب روپے تھے، جبکہ ایک سال پہلے 22.92 ارب روپے تھے۔
- آپریٹنگ سرگرمیوں میں خالص نقد استعمال 23.89 ارب روپے رہا۔ صرف آپریشنز میں نقد کا استعمال 19.68 ارب روپے تھا، حالانکہ منافع 7.4 ارب روپے تھا۔
- صارفین اور ڈیلرز کی ایڈوانس رقوم 65 فیصد کم ہو کر 30.26 ارب روپے سے 10.47 ارب روپے رہ گئیں، یعنی صارفین کی ایڈوانس رقوم کی صورت میں ملنے والی سستی فنڈنگ سکڑ رہی ہے۔
- قلیل مدتی سرمایہ کاری 14.9 فیصد گھٹ کر 103.0 ارب روپے سے 87.6 ارب روپے رہ گئی۔
- اسٹاک اِن ٹریڈ 16.7 فیصد بڑھ کر 42.93 ارب روپے اور تجارتی قابلِ وصول رقوم 39.6 فیصد بڑھ کر 3.91 ارب روپے ہو گئیں۔
پیداوار (14,240 یونٹ) فروخت (13,380 یونٹ) سے 860 گاڑیاں زیادہ رہی، جو اسٹاک میں اضافے کی جزوی وضاحت کرتی ہے۔ کمپنی نے صارفین کی ایڈوانس رقوم پر 2.93 کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کیے، جو گزشتہ سال 1.23 کروڑ روپے تھے۔ رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ یہ کس مد سے متعلق ہے۔
مارکیٹ شیئر کے اعداد و شمار میں تضاد
ڈائریکٹرز رپورٹ کے مطابق پاما (PAMA) کی صنعتی فروخت تقریباً 50,480 یونٹ رہی اور کمپنی کا "مستحکم مارکیٹ شیئر" تقریباً 17 فیصد ہے۔ مگر کمپنی کے اپنے 13,380 یونٹ کو 50,480 پر تقسیم کریں تو حصہ تقریباً 26 فیصد بنتا ہے۔ رپورٹ اس فرق کی وضاحت نہیں کرتی۔ ممکن ہے اس کی وجہ سیگمنٹس کی مختلف تعریف ہو، لیکن قارئین کو کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ صنعت کی پیداواری گنجائش کا استعمال بھی صرف 45 فیصد ہے، یعنی شعبہ معمول کی سطح سے ابھی بہت دور ہے۔
غیر ادا شدہ منافع منقسمہ اور دیگر واجبات
غیر ادا شدہ منافع منقسمہ 30 جون کے 37.6 کروڑ روپے سے بڑھ کر 4.07 ارب روپے ہو گیا۔ اس کی بڑی وجہ سال کے اختتام کے بعد اعلان کردہ 470 فیصد حتمی منافع منقسمہ (3.69 ارب روپے) ہے، مگر سہ ماہی میں صرف 26 لاکھ روپے ادا ہوئے۔ سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی ذمہ داری بھی بڑی ہے، تقریباً 4.96 ارب روپے (3.57 ارب غیر جاری اور 1.39 ارب جاری)۔ وارنٹی ذمہ داریاں 3.22 ارب روپے تک بڑھ گئیں۔ 30 جون 2026 کی بیلنس شیٹ پر "ری اسٹیٹڈ" کا لیبل لگا ہے، مگر دستیاب صفحات میں یہ وضاحت نہیں کہ کیا ری اسٹیٹ کیا گیا۔
انتظامیہ کے پالیسی مطالبات اور متضاد پیغامات
رپورٹ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ گفٹ اسکیم کے ذریعے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد روکی جائے، آٹو فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے تک نرم کی جائے، گاڑیوں کی برآمد پر ڈیوٹی میں ریلیف دیا جائے اور گاڑیوں کی قیمتوں پر ٹیکس معقول بنائے جائیں۔ یہ زیادہ تر وہی اقدامات ہیں جن سے کمپنی کی اپنی فروخت کو فائدہ ہوگا۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں جس 420 فیصد اضافے کا ذکر ہے، اس میں 5,897 یونٹ کا موازنہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی سے نہیں بلکہ پچھلی سہ ماہی کے 1,132 یونٹ سے کیا گیا ہے، جس سے اضافہ زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
آؤٹ لک بھی ملا جلا ہے۔ انتظامیہ منافع کا سہرا "نسبتاً سازگار شرحِ تبادلہ" کو دیتی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر میں کمی اور قوتِ خرید میں کمی سے خبردار بھی کرتی ہے۔ افراطِ زر کی اوسط 10.2 فیصد رہی، پالیسی ریٹ 11.50 فیصد ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر رہا۔
تجزیہ: انڈس موٹر کا منافع کیا بتاتا ہے؟
BeNewz/UrduLead کا یہ جائزہ کمپنی کے اپنے اعداد و شمار پر مبنی ہے، کسی بیرونی تجزیہ کار کا بیان نہیں۔ اس کے مطابق فروخت میں بحالی حقیقی ہے، مگر آمدن کا معیار کمزور ہو رہا ہے۔ انڈس موٹر کا منافع فروخت سے سست بڑھا، مارجن سکڑے اور منافع کی نمو جزوی طور پر دیگر آمدن پر منحصر رہی۔ آپریٹنگ کیش فلو بہت منفی رہا، جس کی جزوی وجہ صارفین کی ایڈوانس رقوم کا کم ہونا ہے، جبکہ قرض کی لاگت تیزی سے بڑھی۔ 56 روپے فی شیئر منافع منقسمہ (فی شیئر آمدن کا تقریباً 60 فیصد، کل تقریباً 4.4 ارب روپے) سرمایہ کاری کے ذخیرے کے پیش نظر قابلِ ادائیگی نظر آتا ہے، مگر سرمایہ کاروں کو آئندہ سہ ماہیوں میں نقد وصولی اور مارجن پر نظر رکھنی چاہیے۔
خلاصہ ڈیٹا ٹیبل (روپے ہزار میں، جہاں دوسرا ذکر نہ ہو)
اشاریہپہلی سہ ماہی مالی سال 27 (30 ستمبر 2026)پہلی سہ ماہی مالی سال 26 (30 ستمبر 2025)تبدیلیآمدن74,014,95961,737,936+19.9%فروخت کی لاگت62,701,69251,196,522+22.5%مجموعی منافع11,313,26710,541,414+7.3%مجموعی مارجنتقریباً 15.3%تقریباً 17.1%1.8 پوائنٹ کمیدیگر آمدن3,220,9142,900,106+11.1%مالیاتی لاگت203,74749,700+310%بعد از ٹیکس منافع7,384,3766,719,280+9.9%فی شیئر آمدن (روپے)93.9585.49+9.9%آپریشنز میں خالص نقد استعمال(23,894,961)(24,669,014)بدستور شدید منفیمدت کے اختتام پر نقد و مساوی4,937,59722,916,65578.5% کمیفروخت شدہ یونٹس13,3809,976+34%صارفین کی ایڈوانس رقوم (30 جون 2026 کے مقابلے)10,468,89930,261,97565.4% کمیاسٹاک اِن ٹریڈ (30 جون 2026 کے مقابلے)42,927,74936,793,565+16.7%