نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے شیئر ہولڈرز نے صدر اور سی ای او عمران سرور کے پیکیج کی منظوری دے دی ہے، جس میں ماہانہ مجموعی تنخواہ 95 لاکھ روپے اور 10 لاکھ روپے ماہانہ ہاؤسنگ الاؤنس شامل ہے۔ یوں این بی پی صدر کی تنخواہ اور رہائشی الاؤنس مل کر سالانہ 12.6 کروڑ روپے بنتے ہیں، اور یہ بونس اور دیگر مراعات کے بغیر ہے۔
این بی پی صدر کی تنخواہ کے ساتھ مراعات کی فہرست
یہ پیکیج 2026 تا 2029 کے لیے ہے اور اس میں کارکردگی کے اہداف (KPIs) سے منسلک متغیر سالانہ بونس بھی شامل ہے۔ بینک دو ڈرائیوروں کی فراہمی یا ان کی تنخواہ فی ڈرائیور 45 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ادا کرے گا، جبکہ 15 لاکھ روپے تک کا جنریٹر، اہلِ خانہ سمیت میڈیکل اور ڈینٹل کوریج، دو کلبوں کی داخلہ فیس اور تین کلبوں کی رکنیت فیس بھی بینک کے ذمے ہو گی۔ پانچ گھریلو ملازمین کی تنخواہیں 1.5 لاکھ روپے ماہانہ تک ادا کی جائیں گی اور ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر یکمشت فرنیشنگ الاؤنس بھی ملے گا۔ رپورٹس کے مطابق دو گاڑیاں اور 3 کروڑ روپے کی لائف انسورنس بھی پیکیج کا حصہ ہیں۔

این بی پی صدر کی تنخواہ صرف ماہانہ رقم نہیں، بلکہ رہائش، ڈرائیور، ملازمین، علاج، کلب اور گریجویٹی تک پھیلا ہوا مکمل پیکیج ہے۔ گریجویٹی ہر سال کی ملازمت پر آخری مجموعی تنخواہ کے ایک ماہ کے برابر ہو گی۔ مذکورہ رپورٹس میں بونس کی رقم یا کے پی آئیز کی تفصیل نہیں دی گئی۔
این بی پی صدر کی تنخواہ پر ٹیکس کا تخمینہ
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک گرافک میں ٹیکس سال 2027 کے لیے تخمینہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق تنخواہ، ہاؤسنگ الاؤنس اور دیگر مراعات (گھریلو عملہ، یوٹیلیٹیز، ڈرائیور، سیکیورٹی، گاڑی) ملا کر قابلِ ٹیکس آمدن 13.2 کروڑ روپے کے قریب بنتی ہے، سالانہ ٹیکس تقریباً 4.52 کروڑ روپے ہے، اور ماہانہ ٹیکس کے بعد نقد رقم تقریباً 67.3 لاکھ روپے بچتی ہے۔ ہمارے حساب سے یہ مؤثر شرحِ ٹیکس تقریباً 34 فیصد بنتی ہے۔
اس گرافک کے ماخذ کا پتا نہیں چل سکا اور اس میں یوٹیلیٹیز، سیکیورٹی اور گاڑی کی رقوم تخمینی ہیں۔ بونس، انسورنس، میڈیکل اور کلب کی سہولتیں اس میں شامل نہیں۔ اس لیے اسے سرکاری حساب نہیں سمجھا جا سکتا، اور این بی پی صدر کی تنخواہ کی اصل مالیت اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
نجی بینکوں کے سربراہان سے موازنہ
نجی بینکوں کے سربراہان کی آمدن کے تازہ ترین دستیاب اعداد ہمیں 2023 کے ملے ہیں، جو مارچ 2024 میں رپورٹ ہوئے۔ ان میں بونس اور دیگر ادائیگیاں شامل ہوتی ہیں، جبکہ این بی پی کے اعداد صرف فکسڈ تنخواہ اور ہاؤسنگ الاؤنس کے ہیں۔ اس لیے موازنہ مکمل طور پر برابر کا نہیں۔
بینکسربراہ (رپورٹ کے وقت)سالانہ آمدنسالیو بی ایلجاوید اقبال38.6 کروڑ روپے2023میزان بینکعرفان صدیقی35.9 کروڑ روپے2023ایچ بی ایلمحمد اورنگزیب35.2 کروڑ روپے2023فیصل بینکیوسف حسینتقریباً 22 کروڑ روپے2023ایم سی بیشعیب ممتاز12.6 کروڑ روپے2023این بی پیعمران سرور12.6 کروڑ روپے (فکسڈ تنخواہ + ہاؤسنگ، بونس کے بغیر)2026 پیکیج
اعداد کو دیکھیں تو این بی پی صدر کی تنخواہ کا فکسڈ حصہ ایم سی بی کی 2023 کی کل آمدن کے برابر ہے، مگر یو بی ایل، میزان اور ایچ بی ایل کے سربراہان کی آمدن کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ مگر دو باتیں اس تصویر کو بدل سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ این بی پی کے متغیر بونس کی حد معلوم نہیں۔ دوسری یہ کہ نجی بینکوں کے اعداد دو سال پرانے ہیں، اس لیے ان کی تازہ سالانہ رپورٹس سے تصدیق ضروری ہے۔
اسی طرح این بی پی کے سابقہ پیکیج کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر 2024 میں رحمت علی حسنی کے لیے ماہانہ 90 لاکھ روپے تنخواہ اور 10 لاکھ روپے ہاؤسنگ الاؤنس منظور ہوا تھا۔ یوں مجموعی تنخواہ میں تقریباً 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہاؤسنگ الاؤنس وہی رہا۔
سرکاری بینک، کفایت شعاری اور سوالات
این بی پی ایک سرکاری بینک ہے، اس لیے اس کے سربراہ کے پیکیج کا موازنہ صرف نجی بینکوں سے نہیں بلکہ سرکاری اداروں کے دیگر سربراہان سے بھی بنتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے اعداد کے مطابق اسٹیٹ بینک کے گورنر کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ماہانہ بتائی گئی تھی، جبکہ این بی پی کے صدر کی تقریباً 90 لاکھ روپے۔ موجودہ 95 لاکھ روپے کے ساتھ این بی پی صدر کی تنخواہ گورنر کی رپورٹ شدہ تنخواہ کے ڈھائی گنا کے قریب ہے۔ یہ صرف تنخواہ کا موازنہ ہے، گورنر کی مراعات کی تفصیل ہمارے پاس نہیں۔
ان سوالات کے جواب سامنے آنے چاہییں
- بونس کی زیادہ سے زیادہ حد کیا ہے اور کے پی آئیز کون سے ہیں؟ جب تک یہ واضح نہیں، این بی پی صدر کی تنخواہ کی اصل مالیت معلوم نہیں ہو سکتی۔
- پیکیج پورے معاہدے کے دوران فکسڈ رہے گا، اور اگر بینک معاہدہ مدت سے پہلے ختم کرے تو بقایا مدت کی ادائیگی کرے گا۔ کیا اس شق میں کارکردگی کی کوئی شرط ہے؟
- رپورٹ کے مطابق تقرری کو ابھی اسٹیٹ بینک کی منظوری درکار ہے۔ جبکہ صدر ستمبر سے عہدہ سنبھال چکے ہیں اور پیکیج ان کی تاریخِ آغاز سے لاگو کیا گیا ہے۔ ریگولیٹری منظوری سے پہلے پیکیج کی منظوری کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے۔
- ایک سرکاری بینک کے سربراہ کے لیے نجی شعبے کے معیار کو بنیاد بنانا کتنا درست ہے، اور اس کا پیمانہ کیا ہو؟