پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اپنے خالص منافع میں 172 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے، تاہم کمپنی کے مالیاتی گوشواروں کا تفصیلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ منافع میں اضافے کے باوجود آپریٹنگ اخراجات، انوینٹری، واجبات اور نقد بہاؤ کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔

پی ایس او کی 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی تین ماہ کی مدت کے غیر آڈٹ شدہ مالیاتی نتائج کے مطابق کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع بڑھ کر 25 ارب 56 کروڑ روپے ہوگیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9 ارب 39 کروڑ روپے تھا۔ اس طرح فی حصص آمدن بھی 20 روپے سے بڑھ کر 54.44 روپے ہوگئی۔

بظاہر یہ نتائج کمپنی کی مالی کارکردگی میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم منافع کے ان اعدادوشمار کے پیچھے موجود مالیاتی صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔

مجموعی منافع میں اضافہ، مگر آپریٹنگ اخراجات بے قابو

مالیاتی گوشواروں کے مطابق پی ایس او کی مجموعی فروخت 793 ارب 31 کروڑ روپے سے بڑھ کر 871 ارب 12 کروڑ روپے ہوگئی، جبکہ خالص فروخت 737 ارب 18 کروڑ روپے کے مقابلے میں 846 ارب 14 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔

کمپنی کا مجموعی منافع تقریباً دوگنا ہوکر 57 ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 30 ارب 5 کروڑ روپے تھا۔ مجموعی منافع کا مارجن بھی تقریباً 4.1 فیصد سے بڑھ کر 6.8 فیصد ہوگیا۔

تاہم اس بہتری کے ساتھ آپریٹنگ اخراجات میں غیر معمولی اضافہ بھی سامنے آیا ہے۔

تقسیم اور مارکیٹنگ کے اخراجات 29 فیصد اضافے سے 6 ارب 32 کروڑ روپے ہوگئے، جبکہ انتظامی اخراجات 1 ارب 53 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1 ارب 69 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔

سب سے زیادہ تشویشناک اضافہ دیگر اخراجات میں سامنے آیا، جو گزشتہ سال کے 1 ارب 57 کروڑ روپے سے بڑھ کر 6 ارب 46 کروڑ روپے ہوگئے۔ یوں ان اخراجات میں چار گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مجموعی آپریٹنگ اخراجات بھی 8 ارب روپے سے بڑھ کر 14 ارب 49 کروڑ روپے ہوگئے، جو تقریباً 81 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔

اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی منافع میں اضافے کے باوجود کمپنی کے اخراجات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے مستقبل میں منافع کی پائیداری متاثر ہوسکتی ہے۔

تین ماہ میں انوینٹری 131 ارب روپے بڑھ گئی

پی ایس او کی مالیاتی صورتحال کا ایک اہم تشویشناک پہلو اسٹاک اِن ٹریڈ میں غیر معمولی اضافہ ہے۔

کمپنی کی انوینٹری 30 جون 2026 کو 261 ارب 14 کروڑ روپے تھی، جو 30 ستمبر 2026 تک بڑھ کر 392 ارب 29 کروڑ روپے ہوگئی۔ اس طرح صرف تین ماہ کے دوران انوینٹری میں تقریباً 131 ارب روپے یا 50 فیصد اضافہ ہوا۔

دوسری جانب کمپنی کے تجارتی قرضے (Trade Debts) بھی 414 ارب 81 کروڑ روپے سے بڑھ کر 416 ارب 27 کروڑ روپے ہوگئے۔

اس کا مطلب ہے کہ کمپنی کے مالی وسائل کا ایک بڑا حصہ اسٹاک اور صارفین سے وصول ہونے والی رقوم میں پھنسا ہوا ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ تجارتی اور دیگر واجبات 305 ارب 32 کروڑ روپے سے بڑھ کر 416 ارب 87 کروڑ روپے ہوگئے، جو تقریباً 36.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔

انوینٹری، تجارتی قرضوں اور واجبات میں اس اضافے سے کمپنی کے ورکنگ کیپیٹل مینجمنٹ اور وصولیوں کے نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔

منافع میں اضافے کے باوجود نقد بہاؤ کا دباؤ برقرار

پی ایس او کے مالیاتی نتائج میں سب سے اہم پہلو کمپنی کی نقد بہاؤ کی صورتحال ہے۔

کمپنی نے پہلی سہ ماہی میں آپریٹنگ سرگرمیوں سے 11 ارب 36 کروڑ روپے کا خالص نقد حاصل کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 61 ارب 39 کروڑ روپے کا نقد اخراج ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اگرچہ یہ نمایاں بہتری ہے، تاہم کمپنی کو مالیاتی ادائیگیوں اور قرضوں کی واپسی کے لیے بھاری رقوم خرچ کرنا پڑیں۔

مالیاتی گوشواروں کے مطابق مختصر مدت کے قرضوں کی خالص واپسی پر 42 ارب 11 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر مالیاتی سرگرمیوں سے 43 ارب 33 کروڑ روپے کا نقد اخراج ہوا۔

نتیجتاً تین ماہ کے دوران نقد اور نقد مساوی رقوم میں 32 ارب 22 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی۔

ستمبر 2026 کے اختتام پر کمپنی کی نقد اور نقد مساوی رقوم منفی 18 ارب 97 کروڑ روپے رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ منفی 12 ارب 69 کروڑ روپے تھیں۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ منافع میں نمایاں اضافے کے باوجود کمپنی کی نقد پوزیشن اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔

فنانس لاگت اور ٹیکس ادائیگیوں میں اضافہ

پی ایس او کی فنانس لاگت بھی 5 ارب 95 کروڑ روپے سے بڑھ کر 6 ارب 29 کروڑ روپے ہوگئی، جس سے کمپنی پر مالیاتی بوجھ میں اضافے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

کمپنی کا ٹیکس سے قبل منافع، کم از کم ٹیکس کے فرق اور حتمی ٹیکسز سمیت، 17 ارب 99 کروڑ روپے سے بڑھ کر 40 ارب 81 کروڑ روپے ہوگیا۔

دوسری جانب موجودہ ٹیکس اخراجات 9 ارب 4 کروڑ روپے سے بڑھ کر 16 ارب 66 کروڑ روپے ہوگئے، جبکہ 1 ارب 41 کروڑ روپے کا ڈیفرڈ ٹیکس کریڈٹ بھی رپورٹ کیا گیا۔

اثاثوں اور واجبات میں بھی نمایاں اضافہ

پی ایس او کے مجموعی اثاثے جون 2026 کے اختتام پر 992 ارب 10 کروڑ روپے تھے، جو ستمبر 2026 تک بڑھ کر ایک کھرب 94 ارب 57 کروڑ روپے ہوگئے۔

اسی عرصے میں کمپنی کی مجموعی واجبات 731 ارب 24 کروڑ روپے سے بڑھ کر 808 ارب 78 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔

اثاثوں میں اضافے کا بڑا حصہ انوینٹری اور دیگر کاروباری مدات میں اضافے سے متعلق ہے، تاہم اس اضافے کو کمپنی کی مالیاتی مضبوطی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا، جب تک یہ اثاثے مؤثر انداز میں نقد رقوم میں تبدیل نہ ہوں۔

منافع کے اعدادوشمار سے آگے دیکھنے کی ضرورت

پی ایس او کے پہلی سہ ماہی کے نتائج بظاہر غیر معمولی منافع میں اضافے کی کہانی بیان کرتے ہیں، لیکن تفصیلی مالیاتی گوشوارے ایک مختلف تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔

ایک جانب کمپنی کا خالص منافع 172 فیصد بڑھا، تو دوسری جانب آپریٹنگ اخراجات میں 81 فیصد، انوینٹری میں 50 فیصد اور تجارتی و دیگر واجبات میں 36.5 فیصد اضافہ ہوا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ منافع میں اضافے کے باوجود کمپنی کی نقد اور نقد مساوی رقوم منفی 18.97 ارب روپے رہیں۔

پی ایس او کے لیے اصل چیلنج صرف منافع میں اضافہ برقرار رکھنا نہیں بلکہ تجارتی قرضوں کی بروقت وصولی، انوینٹری کا مؤثر انتظام، اخراجات میں کمی اور نقد بہاؤ کو مستحکم بنانا بھی ہے۔

بصورت دیگر کاغذوں پر بڑھتا ہوا منافع کمپنی کی حقیقی مالیاتی مضبوطی کی ضمانت نہیں بن سکے گا۔