وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عالمی معاشی دباؤ اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث یہ پیش گوئی کرنا ممکن نہیں کہ آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران تیل کی قیمتیں کس رفتار سے بڑھیں گی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت ہنگامی صورت حال کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہری کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت عوام پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے آگاہ ہے اور کوئی غیر ذمہ دارانہ اقدام نہیں کرنا چاہتی۔

خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں

احسن اقبال نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سفارتی عمل شروع کیا ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی ختم کرنا اور ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن سے تیل کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی حالات اور توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورت حال کے تناظر میں آئندہ چند ماہ کے دوران قیمتوں میں اضافے کی رفتار کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔

جماعت اسلامی سے مذاکرات، 6 رکنی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق

وفاقی وزیر نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں حکومت کو درپیش مشکلات سے وفد کو آگاہ کیا گیا اور جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز پیش کیں۔

احسن اقبال کے مطابق دونوں فریقوں نے اتفاق کیا ہے کہ ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں حکومت اور جماعت اسلامی کے تین، تین نمائندے شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی تمام تجاویز کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دے گی۔

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مجوزہ کمیٹی کے ذریعے پیش کردہ تجاویز پر غور کیا جائے گا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے عوام پر اثرات بھی موجودہ معاشی صورت حال کے اہم معاملات میں شامل ہیں۔