خام تیل کی قیمتیں ہفتہ وار بنیاد پر نمایاں اضافے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ برینٹ خام تیل اس ہفتے تقریباً 6 ڈالر فی بیرل مہنگا ہونے کی راہ پر ہے اور تحریر کے وقت 114 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔

ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) پیر کے تقریباً 99 ڈالر سے بڑھ کر 100.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، یعنی اضافہ کہیں کم رہا۔

تیل کے تاجروں کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر ہے، خصوصاً سعودی عرب کے انفراسٹرکچر پر حوثی حملوں پر۔ تیل کی عالمی منڈی کی یہ تیزی زیادہ تر خدشات اور غیر تصدیق شدہ رپورٹس پر کھڑی ہے، کسی ثابت شدہ سپلائی شاک پر نہیں۔

خام تیل کی قیمتیں اور آرامکو کا انخلا

آئل پرائس ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق آرامکو نے خلیج فارس کے کنارے دھران میں اپنے ہیڈ کوارٹر سے عملے کے انخلا کا حکم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے پاس پہلے کے مقابلے میں زیادہ دور تک مار کی صلاحیت ہو سکتی ہے، جبکہ وہ اس سے قبل بحیرہ احمر اور سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

یہاں احتیاط ضروری ہے۔ حوثیوں کی بڑھی ہوئی صلاحیت کا نتیجہ انخلا کے حکم سے اخذ کیا گیا ہے، کسی سرکاری تصدیق سے نہیں۔ دستیاب رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کہ آرامکو کی کون سی تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا، آیا پیداوار یا برآمدات متاثر ہوئیں، یا انخلا احتیاطی تھا۔ اس کے باوجود خام تیل کی قیمتیں انہی اندازوں پر چڑھ رہی ہیں۔

لیبیا کی پائپ لائن بند، پیداوار میں کٹوتی

خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کی دوسری وجہ لیبیا سے آئی۔ ملک کی نیشنل آئل کارپوریشن کے مطابق دو آئل فیلڈز کو برآمدی ٹرمینل سے جوڑنے والی پائپ لائن بند کر دی گئی، جس کے باعث ان دونوں فیلڈز کی پیداوار گھٹانا پڑی۔ رپورٹ میں بندش کی وجہ، دورانیے یا کٹوتی کی مقدار کا ذکر نہیں۔

ایران پر ممکنہ حملے کی خبر: ذرائع کا حوالہ

آئی این جی کے کموڈٹی اسٹریٹجی ماہرین وارن پیٹرسن اور ایوا مانتھے نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ منڈیاں خلیج فارس میں نئی کشیدگی سے بڑھتے ہوئے خوف زدہ ہیں، جو اس تیل کی ترسیل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے جو اب تک حیرت انگیز طور پر مستحکم رہی ہے۔ ان کے مطابق رپورٹس بتاتی ہیں کہ صدر ٹرمپ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیج کر خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔

ماہرانہ تجزیہ: آئی این جی نے 80 ڈالر کا ہدف "ناقابلِ حصول" قرار دے دیا

آئی این جی کے تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کا خطرہ اس امید کو کمزور کرتا ہے کہ اگلے ماہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد حالات بہتر ہوں گے۔ اسی بنیاد پر بینک نے چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ کی پہلے سے متوقع اوسط قیمت 80 ڈالر فی بیرل کو "ناقابلِ حصول" قرار دیا ہے۔

خام تیل کی قیمتیں اگر 114 ڈالر کے قریب رہیں تو 80 ڈالر کی اوسط حاصل کرنے کے لیے باقی عرصے میں قیمتوں کا بہت نیچے آنا لازم ہو گا۔ اسی لیے بینک نے یہ مفروضہ ترک کیا۔

  • برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کا فرق: دونوں کے درمیان تقریباً 13.60 ڈالر کا فرق ہے، جو بتاتا ہے کہ خطے کا خطرہ بنیادی طور پر برینٹ میں جھلک رہا ہے۔
  • درآمدی ملکوں کے لیے خطرہ: پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کا اثر عموماً پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی پیداواری لاگت پر پڑتا ہے۔ یہ عمومی معاشی تعلق ہے، موجودہ رپورٹ میں پاکستان پر اثر کا کوئی تخمینہ نہیں۔
  • خدشہ بمقابلہ حقیقت: جب تک آرامکو کی پیداوار یا برآمدات میں واضح کمی کی تصدیق نہیں ہوتی، موجودہ تیزی میں رسک پریمیم کا حصہ بڑا ہو سکتا ہے، اور ایسی قیمتیں خبر بدلنے پر تیزی سے الٹ بھی سکتی ہیں۔