برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق شہد، جو کبھی ٹوسٹ پر لگانے یا گرم پانی اور لیموں میں ملا کر گلے کی خراش کے لیے استعمال ہوتا تھا، اب سوشل میڈیا کے رجحانات کی بدولت نئی شناخت اختیار کر چکا ہے۔

شہد کے فوائد پر بحث اس وقت تیز ہوئی جب اسے بعض حلقے "سپر فوڈ" اور دوسرے محض چینی کی سنہری شکل قرار دیتے ہیں۔ رپورٹ میں ماہرِ غذائیت جینا ہوپ کا بیان شامل ہے کہ شہد بنیادی طور پر چینی کا ذریعہ ہے۔ دستیاب متن تمہیدی ہے اور اس میں شہد کے غذائی اجزا کی تفصیل شامل نہیں۔

پس منظر: سوشل میڈیا اور مشہور شخصیات کا اثر

رپورٹ کے مطابق فوڈ انفلوئنسرز نے شہد کو نئی مقبولیت دی ہے، مثلاً تلے ہوئے فیٹا پنیر یا پیپرونی پیزا پر شہد ڈالنے کے مناظر۔ گھر میں شہد تیار کرنا بھی مشہور شخصیات کا مشغلہ بن گیا ہے، اور ڈیوڈ بیکہم، ایڈ شیران اور اسٹیسی سولومن جیسی شخصیات نے مکھیاں پالنے کے تجربات شیئر کیے ہیں۔ شہد کے فوائد کے بارے میں اس رجحان نے ایک الگ صحت مصنوعات کا تاثر بھی پیدا کیا ہے۔

ماہرِ غذائیت کا مؤقف

جینا ہوپ نے ڈیلی میل کو بتایا کہ یاد رکھنا چاہیے کہ شہد بنیادی طور پر چینی کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق اچھے معیار کا شہد ریفائنڈ سفید چینی سے بہتر ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں کچھ اضافی غذائی اجزا ہوتے ہیں، مگر دونوں کے درمیان فرق بہت باریک ہے۔ شہد کے فوائد کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

تجزیہ: رپورٹ کی حدود

یہ رپورٹ ایک طویل مضمون کا تعارف ہے، اس لیے شہد کے فوائد کو چند نکات کے ساتھ پڑھنا چاہیے:

  1. غذائی تفصیل غائب: رپورٹ کے مطابق آگے شہد کے غذائی پروفائل اور جڑی بوٹیوں کے ٹانک کی شہرت کا جائزہ لیا جائے گا، مگر دستیاب متن میں یہ حصے موجود نہیں، اس لیے کسی مخصوص فائدے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
  2. "کچھ اضافی غذائی اجزا": ماہر کے بیان میں اجزا اور ان کی مقدار نہیں بتائی گئی۔ شہد کی مقدار عموماً کم لی جاتی ہے، اس لیے ان اجزا کا عملی فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔
  3. مانوکا کی قیمت بمقابلہ فائدہ: مہنگا ہونے کا مطلب زیادہ صحت بخش ہونا نہیں۔ رپورٹ مانوکا کے کسی مخصوص طبی فائدے کا ثبوت پیش نہیں کرتی۔
  4. مشہور شخصیات کا اثر: بیکہم یا شیران کا مکھیاں پالنا ایک مشغلہ ہے، صحت کی سند نہیں۔
  5. گلے کی خراش کا روایتی نسخہ: رپورٹ اسے محض ماضی کے استعمال کے طور پر ذکر کرتی ہے، اس کی تائید یا تردید نہیں کرتی۔
  6. ایک ہی ماہر: رپورٹ کے دستیاب حصے میں ایک ماہر کی رائے ہے۔ شہد کے حق میں کسی دوسرے ماہر یا تحقیق کا حوالہ شامل نہیں۔
  7. احتیاط: ذیابیطس کے مریض شہد کو بھی چینی کی طرح شمار کریں اور معالج سے مشورہ لیں۔ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد نہیں دینا چاہیے، یہ عمومی طبی ہدایت ہے اور رپورٹ کا حصہ نہیں۔

ماہر کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ شہد کے فوائد اپنی جگہ، مگر اسے چینی کا صحت مند متبادل سمجھ کر بے احتیاطی سے استعمال کرنا درست نہیں۔