پاکستان بیورو آف سٹیٹکس (پی بی ایس) کے مطابق یکم اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ہفتہ وار مہنگائی (ایس پی آئی) میں 0.21 فیصد اضافہ ہوا، اور قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں 11.53 فیصد بلند ہیں۔

حکومت کے اس ہفتہ وار پیمانے کا مجموعی اشاریہ 370.46 پر پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے 332.17 تھا۔ ڈیزل سستا ہونے کے باوجود مرغی، لہسن اور ایل پی جی جیسی بنیادی اشیا مہنگی ہوتی رہیں۔

ملک کے 17 شہروں میں 51 ضروری اشیا کی قیمتیں دیکھی جاتی ہیں۔ ان میں سے 20 (39.2 فیصد) کی قیمتیں بڑھیں، 10 (19.6 فیصد) کی گھٹیں، اور 21 (41.2 فیصد) کی قیمتیں برقرار رہیں۔

ہفتہ وار مہنگائی: اضافے کا بڑا حصہ مرغی کے سر

زندہ برائلر مرغی ایک ہفتے میں 7.25 فیصد مہنگی ہو کر 365.31 روپے فی کلو ہو گئی، اور سال بہ سال 13.60 فیصد اوپر ہے۔ مرغی نے مجموعی اشاریے میں تقریباً 0.22 فیصدی پوائنٹ کا اضافہ کیا۔ یہ ہفتے کے کل خالص اضافے 0.21 فیصد کے تقریباً برابر ہے، یعنی ہفتہ وار مہنگائی کا رخ تقریباً اکیلے مرغی نے طے کیا۔ دیگر اضافے یہ رہے:

  • لہسن 1.85 فیصد
  • چنے کی دال 1.30 فیصد
  • ایل پی جی 1.17 فیصد
  • انڈے 0.72 فیصد
  • چاول اری 6/9، 0.55 فیصد
  • پیاز 0.39 فیصد
  • آٹا 0.29 فیصد

بڑی ریلیف ایندھن میں آئی، مگر وہ معمولی ثابت ہوئی۔ ڈیزل 3.43 فیصد سستا ہو کر 402.53 روپے فی لیٹر اور پیٹرول 0.65 فیصد سستا ہو کر 389.51 روپے فی لیٹر رہ گیا۔ اشاریے میں ایندھن کا وزن کم ہونے کی وجہ سے دونوں نے مل کر صرف 0.07 پوائنٹ کی کمی کی۔ مرغی کا اوپر کی طرف دھکا اس سے تین گنا سے زیادہ تھا۔

سال بہ سال قیمتیں اب بھی تکلیف دہ

ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کئی روزمرہ اشیا پچھلے سال سے کہیں مہنگی ہیں:

  • پیاز: 189.42 روپے فی کلو، جبکہ پچھلے سال 88.43 روپے تھی، یعنی 114.20 فیصد اضافہ۔
  • ایل پی جی (11.67 کلو سلنڈر): 5,103 روپے، جبکہ پچھلے سال 3,063 روپے تھا، یعنی 66.59 فیصد اضافہ۔
  • بجلی کے چارجز: 58.59 فیصد اضافہ، 7.66 روپے فی یونٹ، جو پہلے 4.83 روپے تھا۔
  • ڈیزل: 44.50 فیصد زیادہ، یعنی ایک سال پہلے سے تقریباً 124 روپے فی لیٹر مہنگا۔
  • پیٹرول: 44.05 فیصد زیادہ، یعنی تقریباً 119 روپے فی لیٹر مہنگا۔
  • آٹا (20 کلو تھیلا): 2,697 روپے، جبکہ پچھلے سال 2,033 روپے تھا، یعنی 32.65 فیصد اضافہ۔
  • مٹن: 15.07 فیصد۔ مرغی: 13.60 فیصد۔ بیف: 12.90 فیصد۔
  • ڈبل روٹی: 8.96 فیصد۔ تازہ دودھ: 8.10 فیصد۔

ٹماٹر (منفی 45.52 فیصد)، آلو (منفی 39.54 فیصد)، چینی (منفی 21.95 فیصد) اور انڈوں (منفی 17.47 فیصد) کی سستی مجموعی شرح کو نیچے رکھتی ہے۔ مگر یہ ایندھن، بجلی اور بنیادی اجناس کے بلند بلوں کو ختم نہیں کرتی۔ دودھ، کوکنگ آئل، گھی اور ڈبل روٹی ان 21 اشیا میں شامل ہیں جن کی قیمتیں اس ہفتے کم نہیں ہوئیں، حالانکہ ان میں سے کئی اب بھی پچھلے سال سے 7 سے 9 فیصد مہنگی ہیں۔

ہفتہ وار مہنگائی میں غریب سب سے زیادہ متاثر: آٹے کا بوجھ

کم ترین آمدنی والا گروپ (Q1، ماہانہ 17,732 روپے تک خرچ) سال بہ سال 9.00 فیصد ہفتہ وار مہنگائی سے گزرا، جو مجموعی شرح سے کم ہے۔ اسے ریلیف نہ سمجھا جائے۔ اس گروپ کی ٹوکری میں آٹے کا وزن 6.14 فیصد ہے، جبکہ تمام گھرانوں میں 3.97 فیصد۔ اس لیے آٹے کی 32.65 فیصد مہنگائی غریب پر زیادہ بھاری پڑتی ہے۔ چینی (5.11 فیصد) اور جلانے کی لکڑی (5.08 فیصد) کا وزن بھی ان کے اخراجات میں زیادہ ہے۔

زیادہ آمدنی والے گروپ (Q5، 44,175 روپے سے اوپر) کو سب سے زیادہ 11.99 فیصد کا سامنا رہا۔ ہفتہ وار اضافہ کم ترین گروپ کے لیے 0.19 فیصد اور چوتھے گروپ کے لیے 0.22 فیصد رہا۔ کوئی آمدنی کا طبقہ اس سے محفوظ نہیں۔

پس منظر: مسلسل نو ہفتوں سے اضافہ

مجموعی ایس پی آئی لگاتار نو ہفتوں سے بڑھ رہا ہے۔ 30 جولائی کو یہ 357.61 تھا اور اب 370.46 ہے، یعنی تقریباً 3.6 فیصد اضافہ۔ سال بہ سال شرح 9.05 فیصد سے بڑھ کر 24 ستمبر کو 11.92 فیصد کی چوٹی تک گئی، اور اس ہفتے صرف معمولی کمی کے ساتھ 11.53 فیصد پر آئی۔

وسیع تر تصویر بھی بہتر نہیں۔ ستمبر میں ماہانہ سی پی آئی مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کی 11.1 فیصد سے کم ہے، مگر ماہانہ بنیاد پر قیمتیں پھر بھی بڑھیں۔ گزشتہ چھ میں سے پانچ مہینوں میں مہنگائی 10 فیصد سے اوپر رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے 14 ستمبر کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا، جبکہ مہنگائی کا ہدف 5 سے 7 فیصد ہے۔

عوامی ردِعمل

تحریر کے وقت اردو لیڈ کو ایس پی آئی کے ان اعداد و شمار پر سوشل میڈیا کا کوئی تصدیق شدہ ردِعمل نہیں ملا، اس لیے اسے شامل نہیں کیا گیا۔

ماہرین کی رائے: ہفتہ وار مہنگائی میں ایندھن فیصلہ کن

وزارتِ خزانہ کو توقع ہے کہ مہنگائی قریب کی مدت میں بلند رہے گی اور اس کا راستہ بڑی حد تک عالمی تیل کی قیمتوں پر منحصر ہو گا۔ بروکریج ہاؤسز کے مطابق ایندھن اور بجلی کی بڑھتی لاگت قیمتوں کا دباؤ بلند رکھے گی اور مرکزی بینک کی پالیسی کو پیچیدہ بنائے گی۔ گروتھ سیکیورٹیز کو توقع ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں بلند رہیں تو اسٹیٹ بینک 26 اکتوبر کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 50 سے 100 بیسس پوائنٹس بڑھائے گا۔

اردو لیڈ کے مطابق اس ہفتے ڈیزل اور پیٹرول میں ملنے والی ریلیف کمزور آڑ ہے۔ ایندھن اب بھی ایک سال پہلے سے 44 فیصد سے زیادہ مہنگا ہے، اور ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد بتاتے ہیں کہ ایندھن ذرا سستا ہوتے ہی خوراک کی قیمتیں پھر اوپر چل پڑتی ہیں۔