پاکستان کا معاشی منظرنامہ مالی سال 2027 کے لیے "بتدریج" بحالی کا ہے۔ یہ بات وزارتِ خزانہ کے ماہانہ اقتصادی جائزے و منظرنامے (ستمبر 2026) میں کہی گئی ہے، جس میں گاڑیوں کی بڑھتی پیداوار، ترسیلاتِ زر میں اضافے اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کو مثبت پہلو قرار دیا گیا ہے۔

تاہم اسی رپورٹ کے مطابق اگست میں سالانہ مہنگائی 11.1 فیصد رہی، جو ایک سال پہلے 3.1 فیصد تھی۔ جولائی میں مالیاتی خسارہ 596.6 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال سے دگنے سے زیادہ ہے، جبکہ سود کی ادائیگیاں وفاقی جاری اخراجات کے تقریباً تین چوتھائی تک پہنچ گئی ہیں۔

پاکستان کا معاشی منظرنامہ: وزارتِ خزانہ کا دعویٰ کیا ہے

رپورٹ کے مطابق بحالی "زیادہ وسیع بنیاد" اختیار کر رہی ہے۔ جولائی میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (LSM) سالانہ بنیاد پر 3.03 فیصد بڑھی۔ گاڑیوں کی پیداوار میں 57.0 فیصد، ملبوسات میں 22.0 فیصد اور تمباکو میں 35.8 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی-اگست میں گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت بالترتیب 27.6 اور 29.9 فیصد بڑھی۔ سیمنٹ کی اندرونِ ملک ترسیل 8.0 فیصد بڑھی، مگر برآمدات 16.7 فیصد گھٹ گئیں۔

زراعت کے بارے میں رپورٹ چاول اور گنے کے زیرِ کاشت رقبے میں اضافے، کپاس کی ابتدائی آمد اور جولائی میں زرعی قرضوں کے 16.4 فیصد اضافے سے 271.9 ارب روپے تک پہنچنے کا ذکر کرتی ہے۔

بیرونی شعبہ اس رپورٹ کا سب سے مضبوط پہلو ہے۔ جولائی-اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال کے 853 ملین ڈالر سے کم ہو کر 543 ملین ڈالر رہ گیا۔ ترسیلاتِ زر 14.7 فیصد بڑھ کر 7.29 ارب ڈالر اور خدمات کی برآمدات 28.8 فیصد بڑھ کر 1.81 ارب ڈالر ہو گئیں۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً ایک چوتھائی بڑھ کر 494.5 ملین ڈالر رہی اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری مثبت ہو گئی۔ اسٹیٹ بینک کے لیکویڈ ذخائر 18 ستمبر کو 21.39 ارب ڈالر تک پہنچے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔

پس منظر: پاکستان کے معاشی منظرنامے کے پیچھے تیل کا جھٹکا

رپورٹ مہنگائی میں اضافے کی وجہ عالمی تیل کی بلند قیمتوں کا توانائی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی لاگت میں منتقل ہونا بتاتی ہے۔ اس کے مطابق اگست میں عالمی رسد 16 لاکھ بیرل یومیہ گھٹ کر 100.1 ملین بیرل رہ گئی۔ 2026 میں رسد 57 لاکھ بیرل یومیہ کم ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ طلب میں کمی 25 لاکھ بیرل یومیہ متوقع ہے۔ فروری سے اب تک ذخائر 507 ملین بیرل گھٹ چکے ہیں، جس سے رپورٹ کے الفاظ میں مزید جھٹکوں کے لیے "گنجائش کم" رہ گئی ہے۔

عالمی سطح پر امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو شرحِ سود 0.25 فیصد پوائنٹ بڑھا کر 3.75 سے 4.00 فیصد کر دی، جو 2023 کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ڈالر مضبوط اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض مہنگا ہو سکتا ہے۔

ملک کے اندر حکومت نے وزیرِ اعظم فیول ریلیف اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں کو ڈیجیٹل نظام سے مدد دی جاتی ہے۔ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں: غیر آپریشنل ڈیوٹی پر سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کٹوتی، نئی گاڑیوں اور پائیدار اشیا کی خریداری پر پابندی اور سرکاری سفر پر قدغن۔ رپورٹ زور دیتی ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں کمی نہیں کی گئی۔ یعنی ایندھن مہنگا ہونے پر ریاست کی آمدنی برقرار رہتی ہے، جبکہ ریلیف صرف غریب گھرانوں تک محدود ہے۔

عوامی ردعمل اور گھریلو بجٹ پر اثر

رپورٹ میں کوئی عوامی یا سیاسی ردعمل شامل نہیں، اس لیے ہم نے کوئی بیان منسوب نہیں کیا۔ البتہ پاکستان کا معاشی منظرنامہ گھروں پر کیا اثر ڈال رہا ہے، یہ رپورٹ کے اپنے اعداد سے واضح ہے۔ خوراک، رہائش و یوٹیلیٹیز اور ٹرانسپورٹ مل کر مہنگائی کے 8.2 فیصد پوائنٹ کے ذمہ دار ہیں، یعنی کل کا تقریباً تین چوتھائی، اور اکیلی خوراک 4.9 پوائنٹ کا حصہ ڈال رہی ہے۔ 24 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمتوں کا اشاریہ مزید 0.99 فیصد بڑھا۔ وزارتِ خزانہ کو ستمبر میں مہنگائی 10 سے 11 فیصد رہنے کی توقع ہے، یعنی صارفین کو جلد ریلیف کی امید نہیں۔

تجزیہ: سرخیوں کے پیچھے پاکستان کا معاشی منظرنامہ کہاں کمزور ہے

مالیاتی صورتحال بگڑ رہی ہے۔ جولائی میں وفاقی جاری اخراجات 761.6 ارب روپے سے بڑھ کر 1,092.0 ارب روپے ہو گئے۔ سود کی ادائیگیاں 490.4 ارب سے بڑھ کر 792.9 ارب روپے ہو گئیں، یعنی تقریباً 62 فیصد اضافہ۔ خسارہ جی ڈی پی کے 0.2 فیصد سے بڑھ کر 0.4 فیصد ہو گیا اور پرائمری سرپلس 228.9 ارب سے گھٹ کر 196.3 ارب روپے رہ گیا۔ رپورٹ کے اپنے چارٹ کی سرخی بھی تسلیم کرتی ہے کہ مالیاتی پوزیشن "دباؤ میں نظر آتی ہے"۔

ٹیکس وصولی میں اضافہ کم اور ایک مد تک محدود ہے۔ ایف بی آر نے جولائی-اگست میں 1,722.4 ارب روپے وصول کیے، جو صرف 3.7 فیصد زیادہ ہے، اور اکیلے اگست میں 0.3 فیصد کمی آئی۔ سیلز ٹیکس، جو قیمتیں بڑھنے سے بڑھتا ہے، 13.8 فیصد بڑھا، جبکہ براہِ راست ٹیکس 2.9 فیصد اور کسٹمز 4.0 فیصد گھٹے۔ رپورٹ وصولی کو اہداف سے "بڑی حد تک ہم آہنگ" کہتی ہے مگر اہداف بیان نہیں کرتی۔ ایف بی آر کے بدھ کے الگ اعلان میں پہلی سہ ماہی کی وصولی 3,083 ارب روپے (7 فیصد اضافہ) بتائی گئی، جس سے ستمبر کی وصولی نسبتاً مضبوط نکلتی ہے۔

صنعتی نمو سست پڑی ہے۔ ایل ایس ایم کی 3.03 فیصد شرحِ نمو جولائی 2025 کی 8.9 فیصد کے مقابلے میں کم ہے، اور اضافہ چند صنعتوں میں مرتکز رہا۔ جیپ، پک اپ اور ٹریکٹر کی پیداوار گزشتہ سال سے نیچے رہی۔ زراعت کو سازگار قرار دیتے ہوئے بھی رپورٹ میں ڈی اے پی کھاد کا اٹھان 24.5 فیصد گھٹا ہوا دکھایا گیا ہے۔

ذخائر کی مضبوطی میں قرض کا بڑا حصہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر جون کے آخر کے 18.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر ہوئے، جو تقریباً ستمبر کے یورو بانڈ کے حجم کے برابر ہے۔ مضبوط ذخائر خوش آئند ہیں، مگر یہ جزوی طور پر نئے قرض سے بنے ہیں، جبکہ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے: درآمدات 11.4 فیصد بڑھیں اور برآمدات صرف 4.0 فیصد۔

مالیاتی پالیسی کی گنجائش کم ہے۔ شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی گئی، جو ایک سال پہلے 11.0 فیصد تھی۔ 11.1 فیصد مہنگائی کے مقابلے میں حقیقی شرح صرف 0.4 پوائنٹ ہے، اور مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے خاصی اوپر ہے۔ یکم جولائی سے 11 ستمبر کے دوران ایم ٹو 5.3 فیصد سکڑا اور نجی شعبے کے قرضوں میں 364.5 ارب روپے کی خالص واپسی ہوئی۔ رپورٹ اسے موسمی ادائیگیوں کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ نے اس خوش گمانی کا ساتھ نہیں دیا۔ رپورٹ کے متن میں کے ایس ای-100 انڈیکس اگست کے اختتام پر 176,976 پر بند ہونے کا ذکر ہے، جبکہ اسی رپورٹ کے جدول میں 29 ستمبر کو انڈیکس 169,600 ہے، یعنی تقریباً 4 فیصد نیچے اور جون کے آخر کی 180,301 کی سطح سے تقریباً 6 فیصد کم۔

نتیجتاً پاکستان کا معاشی منظرنامہ بڑی حد تک تیل کی قیمتوں پر منحصر ہے۔ ترسیلاتِ زر اور ذخائر فی الحال جھٹکا جذب کر رہے ہیں، مگر مہنگائی، سود اور محصولات کے اعداد سرخیوں کے پیچھے چھپا دباؤ ظاہر کرتے ہیں۔