اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مختلف اداروں کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 41 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (ٹی ایس جی) منظور کر لی ہیں۔

ای سی سی کی منظوری میں سب سے بڑی رقم 11 ارب 32 کروڑ 90 لاکھ روپے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کی بندش کے عمل کے لیے ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں 17 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا۔

ای سی سی کی منظوری: بڑی گرانٹس کی تفصیل

یو ایس سی کے علاوہ کمیٹی نے وزارت ریلوے کو تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے 10 ارب روپے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کو 8 ارب روپے اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کو 4 ارب روپے دینے کی منظوری دی۔ پرال کی رقم ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے ہے۔ سمیڈا کے لیے 2 ارب روپے بھی منظور ہوئے۔

چھوٹی رقوم میں پاکستان اسپورٹس انڈاؤمنٹ فنڈ کے لیے 93 کروڑ 44 لاکھ 81 ہزار روپے، الیکشن کمیشن کی سرگرمیوں کے لیے 59 کروڑ 61 لاکھ 80 ہزار روپے، وزیراعظم آفس اور اسٹاف کالونی کی مرمت کے لیے 30 کروڑ روپے اور ترکیہ کے شہر انطالیہ میں کوپ 31 میں شرکت کے لیے 15 کروڑ روپے شامل ہیں۔ چین میں 1,000 زرعی ماہرین کی تربیت کے لیے ایک ارب 66 کروڑ 61 لاکھ 76 ہزار روپے بھی منظور ہوئے۔

ای سی سی کی منظوری: مالیات، ہاؤسنگ اور تجارت کے فیصلے

کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کے اس فریم ورک کی منظوری دی جس کے تحت مائیکرو فنانس اور نان بینکنگ مالیاتی ادارے چھوٹے کاروبار اور چھوٹے کسانوں کے لیے حکومتی رسک کوریج اسکیموں میں شامل ہو سکیں گے۔ کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ فنڈ کے ٹرسٹ ڈیڈ میں ترمیم بھی منظور ہوئی، تاکہ موجودہ گارنٹی سہولت سستے گھروں کی فنانسنگ کے لیے استعمال ہو سکے۔

تجارتی محاذ پر ای سی سی کی منظوری سے ٹائروں کی درآمد پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق ایس آر او 693(I)/2006 میں ترمیم کی گئی۔ اعلامیے کے مطابق اس کا مقصد مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ کمیٹی نے 2026 کی تمباکو فصل کی کم از کم اشارتی قیمتوں اور سیس کی شرحوں پر نظرثانی کی منظوری دی اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی رقم سرکاری سیکیورٹیز میں لگانے کی اجازت بھی دی۔

پاسکو کے صوبائی حکومتوں کے ذمے واجبات کو ایٹ سورس کٹوتی کے ذریعے ایڈجسٹ کرنے کی تجویز مؤخر کر دی گئی۔ متعلقہ فریقوں سے مزید مشاورت کی ہدایت کی گئی ہے۔

پس منظر: ای سی سی کی منظوری اور مالی گنجائش پر دباؤ

ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس اصل بجٹ سے ہٹ کر جاری ہونے والی رقوم ہوتی ہیں، اس لیے ایک ہی اجلاس میں ان کی بڑی تعداد بجٹ نظم و ضبط کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔ ای سی سی کی منظوری سے جاری ہونے والی ہر اضافی رقم اس وقت اخراجات پر دباؤ بڑھاتی ہے جب حکومت مالی پوزیشن سخت رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

تجزیہ: ای سی سی کی منظوری کے اعلامیے میں کیا نہیں بتایا گیا

یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش۔ اعلامیے میں 11.329 ارب روپے کو بندش کے عمل کے لیے "فوری مالی ضروریات" قرار دیا گیا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ ملازمین کے واجبات اور دیگر ذمے داریوں پر کتنی رقم لگے گی اور بندش کب تک مکمل ہوگی۔ ای سی سی کی منظوری کے باوجود یہ ابہام برقرار ہے۔

انتخابی فنڈز۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے غیر حساس سامان کے لیے 17.873 ارب روپے مانگے تھے۔ ای سی سی کی منظوری میں صرف 2 ارب روپے، یعنی تقریباً 11 فیصد، فوری طور پر جاری کیے گئے۔ باقی رقم کب ملے گی، اعلامیہ اس پر خاموش ہے۔

ٹائروں پر ڈیوٹی۔ اضافی کسٹمز ڈیوٹی کا مقصد مقامی صنعت کا تحفظ بتایا گیا ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ ڈیوٹی کتنی بڑھی ہے اور گاڑی مالکان اور ٹرانسپورٹرز پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

چین میں تربیت۔ 1,000 زرعی ماہرین کے لیے 1.666 ارب روپے کا مطلب فی شخص تقریباً 16 لاکھ 67 ہزار روپے ہے۔ اعلامیے میں شرکاء کے انتخاب کا طریقہ اور واپسی پر مہارت کے استعمال کا منصوبہ نہیں بتایا گیا۔

سرکاری دفاتر کے اخراجات۔ وزیراعظم آفس اور اسٹاف کالونی کی مرمت کے لیے 30 کروڑ روپے پر توجہ جائے گی، کیونکہ ای سی سی کی منظوری ان اخراجات کو بھی ملی ہے جبکہ دیگر ترجیحات فنڈز کی منتظر ہیں۔

پاسکو کی تجویز کا التوا۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاسکو کے صوبوں کے ذمے واجبات کا بوجھ کون اٹھائے گا، یہ سوال ابھی حل طلب ہے۔