پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے مطابق ایل پی جی کی قیمت ایک ہی ہفتے میں 22.44 فیصد بڑھ گئی۔ 11.67 کلو کا سلنڈر 5,154.16 روپے سے بڑھ کر 6,310.76 روپے کا ہو گیا۔
اس اضافے کے باعث 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ (SPI) 0.65 فیصد بڑھا۔ اشاریہ 374.84 پر ہے، جو گزشتہ ہفتے 372.43 اور ایک سال پہلے 335.14 تھا۔ یوں سالانہ مہنگائی 11.85 فیصد ہے۔
ایل پی جی کی قیمت اور مرغی ہفتہ وار اضافے کی بڑی وجہ
17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے جمع کی گئی 51 اشیاء میں سے 19 کی قیمتیں بڑھیں، 12 کی کم ہوئیں اور 20 مستحکم رہیں۔ سب سے بڑے ہفتہ وار اضافے یہ رہے:
- ایل پی جی (11.67 کلو سلنڈر): 22.44 فیصد اضافے کے ساتھ 6,310.76 روپے
- زندہ برائلر مرغی: 12.20 فیصد اضافے کے ساتھ 444.27 روپے فی کلو
- پیاز: 4.19 فیصد اضافے کے ساتھ 188.57 روپے فی کلو
- شرٹنگ: 1.86 فیصد اضافہ
- ڈبل روٹی (چھوٹی): 1.66 فیصد اضافے کے ساتھ 122.04 روپے
- آٹا (20 کلو): 1.00 فیصد اضافے کے ساتھ 2,976.12 روپے
سب سے بڑی کمی ٹماٹر (21.99 فیصد کمی، 93.17 روپے فی کلو)، پیٹرول (3.63 فیصد کمی، 381.67 روپے فی لیٹر)، کیلے (2.42 فیصد)، ڈیزل (1.68 فیصد) اور آلو (1.38 فیصد) میں ہوئی۔
پس منظر: ایل پی جی کی قیمت ایک سال میں دگنی سے زیادہ
ہفتہ وار اعداد گھریلو اخراجات پر پڑنے والے اصل بوجھ کو چھپاتے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 107.12 فیصد بڑھ چکی ہے، جب سلنڈر 3,046.92 روپے کا تھا۔ یعنی فی سلنڈر 3,263.84 روپے زیادہ۔ مرغی سالانہ 38.99 فیصد، آٹا 36.49 فیصد، پیاز 72.81 فیصد، پیٹرول 44.17 فیصد اور ڈیزل 41.56 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ بجلی کے چارجز 58.59 فیصد بڑھے ہیں۔
سالانہ مہنگائی پانچ ہفتوں سے ایک تنگ مگر بلند دائرے میں ہے: 11.92 فیصد (24 ستمبر)، 11.53، 11.97، 11.38 اور اب 11.85 فیصد۔ 3 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں یہ شرح 8.35 فیصد تھی۔ سب سے کم خرچ کرنے والے طبقے (Q1، ماہانہ 17,732 روپے تک) کا اشاریہ ہفتہ وار 0.51 فیصد اور سالانہ 8.45 فیصد بڑھا۔
آٹا کئی ہفتوں سے مسلسل چڑھ رہا ہے۔ 20 کلو کا تھیلا یکم اکتوبر کو 2,697.45 روپے کا تھا اور اب 2,976.12 روپے کا ہے، یعنی تین ہفتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافہ۔ مرغی 8 اکتوبر کے 383.31 روپے سے بڑھ کر 444.27 روپے فی کلو ہو گئی، یعنی تقریباً 16 فیصد اضافہ۔
تجزیہ: ایل پی جی کی قیمت کا اضافہ سرکاری عدد کے بارے میں کیا بتاتا ہے
- 0.65 فیصد کا عدد دباؤ کو کم دکھاتا ہے۔ یہ خالص تبدیلی ہے۔ PBS کے امپیکٹ کالموں کے مطابق صرف ایل پی جی اور مرغی نے مجموعی اشاریے میں تقریباً 0.96 فیصد پوائنٹ کا اضافہ کیا۔ ٹماٹر اور پیٹرول کی کمی نے تقریباً 0.53 پوائنٹ گھٹا دیے۔ ان دو کمیوں کے بغیر ہفتہ وار مہنگائی 1 فیصد سے کافی اوپر ہوتی۔
- ریلیف وسیع نہیں۔ ٹماٹر (21.99 فیصد کمی) ایک موسمی اور غیر مستحکم چیز ہے۔ پیٹرول اس ہفتے سستا ہوا مگر اب بھی پچھلے سال سے 44.17 فیصد مہنگا ہے۔ روزمرہ کی بیشتر ضروری اشیاء یا تو بڑھیں یا مستحکم رہیں۔
- 22 فیصد ہفتہ وار اضافے کی وضاحت ضروری ہے۔ PBS کی ریلیز نہیں بتاتی کہ ایل پی جی کی قیمت کسی نوٹیفائیڈ نرخ کی تبدیلی، سپلائی کی کمی یا مخصوص منڈیوں کی صورتحال کی وجہ سے بڑھی۔ اس کی وجہ ریگولیٹر اور سپلائرز سے پوچھی جانی چاہیے، کیونکہ سرکاری خلاصہ کوئی وجہ نہیں دیتا۔
- اثرات مختلف طبقوں پر مختلف ہیں۔ ایل پی جی کا وزن مجموعی اشاریے میں 1.44 فیصد ہے مگر سب سے کم خرچ والے طبقے میں صرف 0.61 فیصد۔ اسی لیے ایل پی جی نے مجموعی اشاریے میں 0.54 پوائنٹ اور Q1 میں 0.24 پوائنٹ کا اضافہ کیا۔ سب سے زیادہ خرچ والے طبقے (Q5، ماہانہ 44,175 روپے سے اوپر) میں ہفتہ وار اضافہ سب سے زیادہ 0.74 فیصد اور سالانہ شرح 12.69 فیصد رہی۔ اس کے باوجود کم آمدنی والے گھرانوں پر آٹے اور مرغی کی مہنگائی کا بوجھ اپنی آمدنی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
- "غیر تبدیل شدہ" اشیاء کی فہرست طویل ہے۔ 20 اشیاء کی قیمت بالکل نہیں بدلی، جن میں تازہ دودھ بھی شامل ہے، جو اشاریے میں سب سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔ ریلیز یہ نہیں بتاتی کہ قیمتیں واقعی مستحکم رہیں یا ان کی اپ ڈیٹنگ کم ہوتی ہے۔ اس سے مجموعی عدد کی ساکھ پر اثر پڑتا ہے۔