بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے چوتھے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔

یہ آئی ایم ایف معاہدہ ابھی حتمی نہیں اور ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ منظوری ملنے پر پاکستان کو EFF کے تحت تقریباً 1.0 ارب ڈالر (76 کروڑ SDR) اور RSF کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر (15.4 کروڑ SDR) ملیں گے، جس سے دونوں پروگراموں کے تحت کل ادائیگیاں تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہو جائیں گی۔

آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا کے مطابق مذاکرات 23 ستمبر سے 7 اکتوبر 2026 تک کراچی اور اسلام آباد میں ہوئے، جن میں 2026 کی آرٹیکل IV مشاورت بھی شامل تھی۔

پس منظر: 37 ماہ کا پروگرام اور بدلتی معیشت

یہ آئی ایم ایف معاہدہ 37 ماہ کی EFF اور 28 ماہ کی RSF کے تسلسل کا حصہ ہے۔ آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باوجود پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر درست سمت میں رہا۔ بیان میں درج اہم اعداد و شمار یہ ہیں:

  • مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد ہے، جبکہ پہلی تین سہ ماہیوں میں یہ 4 فیصد تھی۔ یعنی توانائی کی بلند قیمتوں اور رسد کی رکاوٹوں سے رفتار سست پڑی۔
  • مئی میں بلند ترین سطح کے بعد ستمبر میں مہنگائی تقریباً 10.3 فیصد رہی۔
  • ستمبر کے آخر تک مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
  • ترسیلاتِ زر کی مضبوطی سے کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر متوازن رہا۔

آئی ایم ایف معاہدہ: کن شرائط اور ترجیحات پر زور

آئی ایم ایف نے حکومت کے لیے جو ترجیحات بیان کی ہیں، وہی اس آئی ایم ایف معاہدہ کی اصل کسوٹی ہیں:

  • مالیاتی نظم: مالی سال 2027 کے بجٹ میں بنیادی پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2 فیصد رکھنا، رسک پر مبنی آڈٹ، ڈیجیٹل انوائسنگ اور تیسرے فریق کے ڈیٹا کے ذریعے ریونیو بہتر بنانا، اور درمیانی مدت کی ٹیکس اصلاحاتی حکمتِ عملی۔
  • سماجی اخراجات: صحت اور تعلیم پر خرچ مالی سال 2024 کے 2.2 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 2.5 فیصد ہوا اور مالی سال 2027 میں 2.8 فیصد کا ہدف ہے۔ ٹارگٹڈ کیش ٹرانسفر بڑھانے کا بھی وعدہ ہے۔
  • ایندھن سبسڈی: آئی ایم ایف نے واضح کہا ہے کہ ایندھن سپورٹ اسکیم "فوری طور پر" ختم کی جائے، کیونکہ یہ مہنگی ہے اور اس کا ہدف وسیع ہے۔
  • مانیٹری پالیسی: اسٹیٹ بینک سخت پالیسی برقرار رکھے اور شرحِ مبادلہ میں لچک جھٹکے سہنے کا ذریعہ رہے۔
  • توانائی شعبہ: گردشی قرضہ روکنے کے لیے بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شراکت اور گیس کی لاگت کی وصولی۔

تجزیہ: بیان میں کیا کہا گیا اور کیا نہیں

آئی ایم ایف کا بیان بنیادی طور پر پروگرام کی کامیابی کا بیانیہ ہے، اس لیے اس آئی ایم ایف معاہدہ کو چند نکات کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے:

  1. مہنگائی اب بھی بلند: 10.3 فیصد کی شرح کو "معتدل" کہا گیا ہے، مگر بیان خود تسلیم کرتا ہے کہ مہنگائی کو اسٹیٹ بینک کے ہدف کی حد میں پائیدار طور پر لانا ابھی باقی ہے۔
  2. نمو سست: 4 فیصد سے 3.6 فیصد تک کمی بتاتی ہے کہ بیرونی جھٹکوں کا اثر حقیقی معیشت پر پڑا۔
  3. خطرات برقرار: بیان میں جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی غیر مستحکم قیمتیں، سخت عالمی مالی حالات اور تجارتی رکاوٹیں بڑے خطرات کے طور پر درج ہیں۔
  4. بوجھ کس پر: بیان میں ٹیکس نظام کو "منصفانہ اور آسان" بنانے کا ذکر ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ اضافی ریونیو کا بوجھ کن طبقات پر پڑے گا۔
  5. ابھی حتمی نہیں: یہ صرف اسٹاف لیول سمجھوتہ ہے۔ رقم کی ادائیگی ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری پر منحصر ہے۔

سرکاری یا آئی ایم ایف کے بیانات میں کامیابیاں نمایاں اور قیمتیں مدھم ہوتی ہیں۔ اس لیے اس آئی ایم ایف معاہدہ کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ سماجی اخراجات کے وعدے عملی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔