پاکستان ادارۂ شماریات (PBS) کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 3,555 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔

جولائی سے ستمبر کے دوران خسارہ 10,792 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 15.13 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی ختم ہوتے ہوئے درآمدات کی شرحِ نمو برآمدات سے زیادہ رہی ہے۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ: ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار

ستمبر میں برآمدات 2,939 ملین ڈالر رہیں، جو اگست کے مقابلے میں 16.07 فیصد اور ستمبر 2025 کے مقابلے میں 17.61 فیصد زیادہ ہیں۔ درآمدات 6,494 ملین ڈالر رہیں، یعنی ماہانہ بنیاد پر 11.5 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 11.05 فیصد اضافہ۔

ستمبر میں پاکستان کا تجارتی خسارہ اگست کے 3,292 ملین ڈالر سے 7.99 فیصد اور ستمبر 2025 کے 3,349 ملین ڈالر سے 6.15 فیصد زیادہ رہا۔ روپے میں یہ خسارہ 988,412 ملین روپے بنتا ہے۔

برآمدات میں اضافہ حقیقی ہے، لیکن برآمدات کا حجم درآمدات سے کہیں کم ہے۔ اس لیے فیصد میں اچھی شرحِ نمو کے باوجود ڈالر کے لحاظ سے خلا بند نہیں ہو رہا۔

سہ ماہی تصویر: درآمدات کی رفتار تیز

مجموعی اعداد ماہانہ اعداد کے مقابلے میں کم حوصلہ افزا ہیں۔ جولائی تا ستمبر برآمدات 10.84 فیصد بڑھ کر 8,423 ملین ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 13.21 فیصد بڑھ کر 19,215 ملین ڈالر ہو گئیں۔ نتیجتاً سہ ماہی پاکستان کا تجارتی خسارہ 15.13 فیصد بڑھا، یعنی درآمدات اور برآمدات دونوں کی شرحِ نمو سے زیادہ۔

مطلق رقم میں دیکھیں تو درآمدات گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 2.2 ارب ڈالر بڑھیں، جبکہ برآمدات میں صرف 824 ملین ڈالر کے لگ بھگ اضافہ ہوا۔ خسارہ تقریباً 1.4 ارب ڈالر وسیع ہو گیا۔ PBS کے اعداد سے ہمارے اپنے حساب کے مطابق اس سہ ماہی میں برآمدات نے درآمدات کا تقریباً 43.8 فیصد پورا کیا، جو ایک سال پہلے تقریباً 44.8 فیصد تھا۔

اعداد و شمار کو احتیاط سے پڑھنے کی ضرورت

پاکستان کا تجارتی خسارہ کے ان اعداد کے بارے میں چند باتیں ملحوظ رکھنی چاہییں:

  • اعداد عبوری ہیں۔ PBS کے نوٹ کے مطابق ستمبر کا ڈیٹا ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف رپورٹنگ اینڈ سسٹمز سے ابھی موصول ہونا باقی ہے، اس لیے اعداد میں نظرِ ثانی ہو سکتی ہے۔ ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ راؤنڈنگ کی وجہ سے کچھ مجموعے اور فیصد آپس میں پوری طرح نہیں ملتے۔
  • روپے اور ڈالر کی شرحِ نمو مختلف ہے۔ ستمبر میں برآمدات روپے میں 15.82 فیصد اور ڈالر میں 17.61 فیصد بڑھیں۔ یہ فرق ایک سال میں روپے کی قدر میں معمولی بہتری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ PBS کی رپورٹ میں اس کی وضاحت نہیں، اور مضمر شرحِ تبادلہ ہمارا اپنا حساب ہے۔
  • ڈیٹا صرف اشیا کی تجارت کا ہے۔ اس میں خدمات اور ترسیلاتِ زر شامل نہیں، اس لیے یہ بیرونی کھاتے کی پوری تصویر نہیں دکھاتا۔
  • رپورٹ وجوہات نہیں بتاتی۔ یہ واضح نہیں کہ کن درآمدی زمروں میں اضافہ ہوا اور کن شعبوں کی برآمدات بہتر رہیں۔ اس تفصیل کے بغیر یہ طے نہیں ہو سکتا کہ اضافی درآمدات صنعتی خام مال کی ہیں یا صارفین کی اشیا کی۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ کیوں اہم ہے؟

بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے پر دباؤ ڈالتا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ صنعتی خام مال کی درآمد سے بڑھنے والا خسارہ معاشی سرگرمی کی علامت ہو سکتا ہے، جبکہ صارفی اشیا کی درآمد سے بڑھنے والا خسارہ مختلف معاملہ ہے۔ PBS کا خلاصہ اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا، اس لیے حکومت کو اشیا کی تفصیلی تقسیم جاری کرنی چاہیے۔

خلاصہ

اشاریہ ستمبر 2026 اگست 2026 کے مقابلے میں ستمبر 2025 کے مقابلے میں
برآمدات 2,939 ملین ڈالر +16.07% +17.61%
درآمدات 6,494 ملین ڈالر +11.5% +11.05%
تجارتی خسارہ 3,555 ملین ڈالر +7.99% +6.15%
اشاریہ جولائی تا ستمبر 2026 جولائی تا ستمبر 2025 تبدیلی
برآمدات 8,423 ملین ڈالر 7,599 ملین ڈالر +10.84%
درآمدات 19,215 ملین ڈالر 16,973 ملین ڈالر +13.21%
تجارتی خسارہ 10,792 ملین ڈالر 9,374 ملین ڈالر +15.13%