
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش نے دنیا کو تاریخ کے بدترین توانائی سیکیورٹی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ انتباہ Fatih Birol، ایگزیکٹو ڈائریکٹر International Energy Agency (آئی ای اے)، نے امریکی نشریاتی ادارے CNBC کو دیے گئے انٹرویو میں دیا۔
فاتح بیرول کے مطابق، “ہم تاریخ کے سب سے بڑے توانائی سیکیورٹی خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ جنگ کے آغاز پر آئی ای اے نے جس بڑے سپلائی ڈسٹرپشن کا خدشہ ظاہر کیا تھا، موجودہ صورتحال اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہو چکی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اب تک عالمی سطح پر یومیہ 13 ملین بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو چکی ہے، جبکہ دیگر اہم اشیاء کی ترسیل میں بھی شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ای اے کی جانب سے گزشتہ ماہ ریکارڈ 400 ملین بیرل ہنگامی ذخائر جاری کیے گئے، تاہم بیرول کے مطابق یہ اقدام صرف وقتی ریلیف فراہم کر رہا ہے۔ “یہ صرف تکلیف کم کر رہا ہے، مکمل حل نہیں ہے،”
انہوں نے واضح کیا کہ اصل حل آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اپریل کے آغاز میں بھی انہوں نے اسی مؤقف کا اعادہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز تقریباً آٹھ ہفتوں سے مسلسل بند ہے، جس کے باعث خام تیل کی ریفائنریز تک رسد، ایندھن کی برآمدات اور پیٹروکیمیکل و کھاد کی صنعتوں کے لیے خام مال کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔
فاتح بیرول نے حالیہ بیان میں خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز کا بحران عالمی توانائی نقشے کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔ ترک اخبار دنیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ “وہ دور ختم ہو رہا ہے جب عالمی معیشت ایک ہی سمندری راستے پر انحصار کرتی تھی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ اگر صورتحال فوری طور پر معمول پر بھی آ جائے، تب بھی عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافہ اور غیر یقینی صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہے گی۔
آئی ای اے کی تازہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق مارچ میں عالمی تیل کی سپلائی میں 10.1 ملین بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد مجموعی سپلائی کم ہو کر 97 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ میں توانائی انفراسٹرکچر پر حملے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز پر پابندیاں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران نہ صرف توانائی کی قیمتوں کو بلند کر رہا ہے بلکہ عالمی معیشت، صنعتی پیداوار اور مہنگائی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس سے آئندہ مہینوں میں مزید معاشی دباؤ کا خدشہ ہے۔
UrduLead UrduLead