ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں اور طوفانوں کی پیشگوئی، کمزور انفراسٹرکچر کو نقصان کا خدشہ

Pakistan Meteorological Department نے بلوچستان میں فلیش فلڈ اور ملک کے مختلف علاقوں میں شدید موسمی صورتحال کا انتباہ جاری کر دیا ہے، جہاں بارشوں اور آندھی کے باعث نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان میں آج رات سے 28 مارچ تک شدید بارشوں کے باعث فلیش فلڈ کا خطرہ ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے مقامی ندی نالوں میں 28 سے 30 مارچ کے دوران طغیانی آ سکتی ہے۔
پی ایم ڈی کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں کا ایک مضبوط سلسلہ ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں کو متاثر کر رہا ہے، جس میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی کے باعث بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز اور سولر پینلز جیسے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جمعہ کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے، تاہم جنوبی بلوچستان میں کہیں کہیں بارش اور گرج چمک کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ہفتہ کے روز صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جہاں شام اور رات کے اوقات میں بلوچستان، بالائی و وسطی پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارش اور تیز ہواؤں کے ساتھ گرج چمک متوقع ہے۔ بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں جزوی ابر آلود موسم رہا، جبکہ شمالی بلوچستان، جنوبی پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں بارش اور گرج چمک ریکارڈ کی گئی۔
بارش کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 25 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ کوئٹہ کے علاقوں سمنگلی اور شیخ منڈہ میں بالترتیب 8 اور 7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ژوب، پشین اور سبی میں بھی بارش ہوئی۔
پنجاب میں کوٹ ادو میں 11 ملی میٹر، ملتان، لیہ اور بھکر میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔ خیبر پختونخوا میں لنڈی کوتل، دیر اور کالام میں ہلکی بارش ہوئی جبکہ کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔
درجہ حرارت کے لحاظ سے سندھ کے علاقے مٹھی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شہید بینظیر آباد میں 36 اور حیدرآباد و ٹنڈو جام میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، خاص طور پر نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہ موسمی انتباہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی موسمی شدت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈ جیسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے حساس علاقوں میں۔
UrduLead UrduLead