
حکومت نے پیٹرول ڈیزل قیمت اضافہ کا ایک اور فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے طے کردہ طریقہ کار کی بنیاد پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل کیا ہے۔
پیٹرول ڈیزل قیمت اضافہ کی تفصیلات
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 18 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 5 روپے 58 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی نئی قیمت 364 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 9 ستمبر 2026 سے ہوگا۔
خیال رہے کہ اس سے ایک روز قبل بھی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 358 روپے 77 پیسے اور ڈیزل 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر پر پہنچ گیا تھا۔
اس طرح مسلسل دوسرے روز پیٹرول ڈیزل قیمت اضافہ کیا گیا ہے، جو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
عوامی ردعمل
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لگاتار اضافے پر عام شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹرز اور تاجر تنظیموں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں کرائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالیں گی، جس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
سوشل میڈیا صارفین بھی مسلسل بڑھتی قیمتوں پر حکومتی پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں اور ریلیف کے مطالبات دہرا رہے ہیں۔
ماہرین کا تجزیہ
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے جڑا ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا براہ راست اثر نقل و حمل کے کرایوں، صنعتی پیداواری لاگت اور بالآخر عام صارف تک پہنچنے والی اشیا کی قیمتوں پر پڑے گا، جس سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
UrduLead UrduLead