
نئی آٹو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی کے تحت گاڑیوں پر ٹیرف میں 80 فیصد تک کمی کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں آٹو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے تک کرنے کی تجویز دی گئی۔
اجلاس کے دوران نیو انرجی وہیکل کے لیے قرض کی مدت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ آٹو پارٹس کی برآمدات بڑھانے کے لیے 5 بڑے مینوفیکچرنگ ادارے لانے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔
نئی آٹو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی کا پس منظر اور وسیع تر رجحان
پاکستان کی آٹو موبائل صنعت طویل عرصے سے بلند ٹیرف اور درآمدی پرزہ جات پر انحصار جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی مقامی پیداواری لاگت زیادہ اور برآمدی صلاحیت محدود رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے مقامی صنعت کو عالمی مسابقت کے قابل بنانے اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پالیسی اصلاحات پر زور دیا ہے۔
نئی آٹو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی میں مجوزہ 5 پیداواری اداروں کے گرد ایس ایم ایز کلسٹرز کے قیام اور برآمدات کے لیے استعمال ہونے والے آٹو پارٹس کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں، جنہیں صنعتی ماہرین مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اس سے قبل حکومت نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت بڑی سی سی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی بھی تجویز دی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ آٹو سیکٹر میں جامع اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
نئی آٹو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی کی تجاویز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کئی صارفین نے ٹیرف میں 80 فیصد تک کمی کی تجویز کو گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانے والا اہم اقدام قرار دیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرض کی حد میں اضافے کو ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ کی جانب مثبت پیش رفت کہا گیا۔ تاہم بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا ٹیرف میں کمی کا فائدہ عام صارف تک پہنچے گا یا صرف درآمد کنندگان تک محدود رہے گا۔
ماہرین کا تجزیہ
صنعتی ماہرین کے مطابق ٹیرف میں 80 فیصد تک کمی مقامی آٹو مارکیٹ میں مسابقت بڑھا سکتی ہے، جس سے صارفین کو زیادہ اختیارات اور بہتر قیمتیں میسر آنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں کے لیے قرض کی سہولتوں میں توسیع سے ان کی مقامی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر عملدرآمد اور مقامی چارجنگ انفراسٹرکچر کی دستیابی پر ہوگا۔
آٹو پارٹس کی برآمدات کے لیے مجوزہ 5 مینوفیکچرنگ ادارے اور ایس ایم ایز کلسٹرز طویل مدت میں پاکستان کو علاقائی برآمدی مرکز بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
UrduLead UrduLead