بدھ , ستمبر 9 2026
بریکنگ نیوز

بابر اعظم اسکواڈ فیصلہ: کپتان کا کہنا ہے مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا

بابر اعظم اسکواڈ فیصلہ پر پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے، ایجبسٹن ٹیسٹ سے قبل

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے بابر اعظم اسکواڈ فیصلہ سے متعلق پہلی بار خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد قومی اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں کے حوالے سے انہیں نہ تو پہلے سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی ان سے کوئی مشاورت کی گئی۔

ایجبسٹن میں تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ یہ خبر ان کے لیے بھی اتنی ہی حیران کن تھی جتنی باقی سب کے لیے، اور انہیں اس کا علم پی سی بی کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی ہوا۔

بابر اعظم اسکواڈ فیصلہ کا پس منظر

ہیڈنگلے اور لارڈز میں مسلسل شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے فارغ کرنے کے ساتھ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔

ان کی جگہ سات نئے کھلاڑی شامل کیے گئے جن میں سے پانچ کا کوئی ٹیسٹ تجربہ نہیں، جبکہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن اور اسسٹنٹ ایشلے نوفکے کو ایجبسٹن ٹیسٹ کے لیے ذمہ داری سونپی گئی۔

سیریز میں انگلینڈ فی الحال 2-0 کی برتری رکھتا ہے، ہیڈنگلے میں اننگز اور 103 رنز اور لارڈز میں 194 رنز کے بڑے مارجن سے فتوحات کے ساتھ۔

بابر اعظم نے بتایا کہ وہ اس فیصلے کے بعد میں پتا چلنے پر حیران ضرور ہوئے، البتہ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اس نے گزشتہ ہفتہ ان کے لیے مشکل بنا دیا۔ ان کے مطابق پی سی بی نے یہ فیصلہ کیا ہے، اس لیے بورڈ ہی اس کی بہتر وضاحت دے سکتا ہے۔

کپتان نے نئے شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے اور نئے کھلاڑیوں میں نظر آنے والا جوش پوری ٹیم کے لیے مثبت ہے۔

پی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کے “نظم و ضبط اور طرزِ عمل” سے متعلق تحقیقات کے اعلان پر بابر اعظم نے کہا کہ انہیں اس بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اچانک اور بڑے پیمانے پر کی جانے والی اس ردوبدل نے شائقین اور سابق کھلاڑیوں میں ملا جلا ردعمل پیدا کیا ہے۔

سابق آل راؤنڈر وسیم اکرم نے اس موقع پر سابق کپتان عمران خان کے ساتھ “منصفانہ سلوک” کے مطالبات دہرائے، جبکہ مختلف حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا کپتان کو نظرانداز کر کے کیے گئے فیصلے سے ٹیم کے اندرونی ماحول پر منفی اثر پڑے گا۔

شائقین کی بڑی تعداد نے پانچ نئے، غیر تجربہ کار کھلاڑیوں کو ایک ساتھ شامل کرنے کے فیصلے کو “جوا” قرار دیا ہے، تاہم کچھ نے اسے نوجوان ٹیلنٹ کو موقع دینے کی مثبت کوشش بھی کہا۔

ماہرین کا تجزیہ

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق کپتان کو اعتماد میں لیے بغیر اتنی بڑی تبدیلیاں کرنا پی سی بی کے اندرونی فیصلہ سازی کے نظام پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بورڈ کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا اور ٹیم میں نئی روح پھونکنا ہو سکتا ہے، لیکن کپتان کی رضامندی کے بغیر کیے گئے فیصلے سے قیادت اور بورڈ کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے، جو طویل مدت میں ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

افغان طلبہ وطن واپسی، پاکستان کے ایک میڈیکل کالج کی عمارت کا منظر

افغان طلبہ وطن واپسی: پی ایم ڈی سی کی میڈیکل کالجوں میں داخلوں پر پابندی

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے افغان طلبہ وطن واپسی سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے