
پاکستان سولر بیٹری بوم ایک محدود رجحان سے نکل کر ملک کے توانائی منظرنامے کی نمایاں پہچان بن چکا ہے، جہاں گھرانے اور کاروبار دنیا کی کسی بھی مارکیٹ سے زیادہ تیزی کے ساتھ چھتوں پر سولر پینل اور بیٹری اسٹوریج نصب کر رہے ہیں۔ جو سلسلہ طویل لوڈشیڈنگ کے ردعمل میں شروع ہوا تھا، اب توانائی میں خودکفالت کی طرف ایک ملک گیر تبدیلی بن چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ صرف بجلی کی عدم دستیابی نہیں بلکہ معاشی فوائد بھی ہیں۔
پاکستان میں 2026 کے اوائل تک 50 گیگا واٹ سے زائد سولر پینل نصب کیے جا چکے ہیں، اور اب ملک اسی رفتار سے بیٹری اسٹوریج بھی نصب کر رہا ہے۔ 2025 کے اختتام تک مجموعی لیتھیم آئن بیٹری اسٹوریج کی درآمد 7.6 گیگا واٹ گھنٹے تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیاد پر 220 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ پاکستانی اب سالانہ 5 گیگا واٹ گھنٹے سے زیادہ کی شرح سے بیٹریاں نصب کر رہے ہیں۔
پس منظر: چھتوں پر پینلز سے مکمل گھریلو اسٹوریج تک
پاکستان سولر بیٹری بوم راتوں رات وجود میں نہیں آیا۔ مالی سال 2025 تک پاکستان کے 70 لاکھ گھرانوں میں سولر نصب ہو چکا تھا — ملک بھر کے تقریباً 4 کروڑ گھرانوں میں سے، یعنی ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی گھر اب اپنی بجلی خود پیدا کرتا ہے۔ بیٹری اپنانے کی رفتار بھی اسی راستے پر گامزن ہے بلکہ اس سے بھی تیز: تقریباً 2 لاکھ 82 ہزار سولر گھرانوں، یعنی تقریباً 4 فیصد، میں اب بیٹری اسٹوریج سسٹم بھی نصب ہو چکے ہیں۔
آلات کی گرتی قیمتیں اس تبدیلی کی بنیادی وجہ رہی ہیں۔ بیٹری قیمتوں میں گزشتہ دہائی کے دوران تقریباً 75 فیصد کمی آئی ہے، جو 2015 میں 460 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ سے کم ہو کر 2024 میں تقریباً 110 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک آ گئی ہے، اور سستی سوڈیم آئن ٹیکنالوجی کی آمد کے ساتھ مزید کمی متوقع ہے۔
صوبائی ترقی غیر یکساں مگر وسیع رہی ہے: پنجاب میں چھتوں پر سولر تنصیبات 2026 میں چار گنا بڑھ گئیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان مل کر مارکیٹ کا تقریباً 15 فیصد حصہ رکھتے ہیں، جہاں کم فی کس آمدنی رکاوٹ ہے۔
پاکستان سولر بیٹری بوم نے درآمدی ایندھن پر ملکی معیشت کے انحصار کو بھی کم کیا ہے۔ فروری 2026 تک ملک مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر سے زائد کی تیل و گیس درآمدات بچا چکا ہے، جبکہ مزید 6.3 ارب ڈالر بچت کی گنجائش موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ علاقائی ایندھن بحران کے دوران سولر توانائی نے دن کے وقت بجلی کی طلب کا بڑا حصہ پورا کیا، حالانکہ حکومت کو بحران کے دوران شام کے اوقات میں دوبارہ لوڈشیڈنگ کرنا پڑی۔
ریگولیٹری تبدیلی اب اس بوم کی رفتار کا امتحان لے رہی ہے۔ نیپرا نے 9 فروری 2026 کو نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ فریم ورک کی طرف تبدیلی کا اعلان کیا، جس کے تحت گھریلو صارفین کو گرڈ میں بھیجی جانے والی اضافی بجلی پر اب 25 روپے فی یونٹ کے بجائے صرف 11 روپے فی یونٹ ملیں گے — یہ تبدیلی نئے سولر سسٹمز کی ادائیگی کی مدت بڑھا سکتی ہے، اگرچہ بیٹری اپنانے کا رجحان جاری ہے۔
عوامی ردعمل: گھر گھر گرڈ سے بے نیازی
سوشل میڈیا پر پاکستان سولر بیٹری بوم کو معاشی دباؤ کے دوران ایک نایاب عوامی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ گھر مالکان اکثر اپنی چھتوں پر نصب سولر پینلز اور بیٹری سسٹمز کی تصاویر شیئر کرتے ہیں، جن سے ماہانہ بجلی کے بل میں کمی اور بجلی جانے کی صورت میں متبادل بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی۔
سولر انسٹالرز اور الیکٹرانکس ڈیلرز کے مطابق درمیانی آمدنی والے گھرانوں کی جانب سے بیٹری اضافے کے استفسارات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر نیٹ بلنگ کی تبدیلی کے بعد جب گرڈ کو بجلی بیچنے کی بجائے خود استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ہو گیا۔
ماہرین کی رائے
توانائی کے ماہرین پاکستان سولر بیٹری بوم کو ایک نایاب مثال قرار دیتے ہیں جہاں ایک ترقی پذیر معیشت نے اوپر سے نافذ پالیسی کا انتظار کیے بغیر تقسیم شدہ اور مضبوط توانائی انفراسٹرکچر کی طرف چھلانگ لگا دی۔
رینیوایبلز فرسٹ کے محمد مصطفیٰ امجد کے مطابق پاکستان پہلے ہی صارف کی زیر قیادت چھتوں پر سولر تبدیلی سے گزر چکا ہے، اور بیٹری اسٹوریج اب اس سے بھی تیز راستے پر گامزن ہے، جس کے باعث پالیسی سازوں کے لیے ابتدائی مرحلے پر ہی توانائی منصوبہ بندی میں اسٹوریج کو شامل کرنا ضروری ہو گیا ہے تاکہ اس تبدیلی کا فائدہ تمام آمدنی طبقات تک پہنچ سکے۔
محققین نے ایک نیا مسئلہ بھی اجاگر کیا ہے: جیسے جیسے سولر اپنانے کی شرح بڑھی ہے، اس نے قومی لوڈ کرو کو تبدیل کرتے ہوئے طلب کا عروج شام کے اوقات کی طرف منتقل کر دیا ہے — وہ وقت جب سولر بجلی فراہم نہیں کر سکتا، یعنی بیٹری اسٹوریج اور گرڈ منصوبہ بندی کو ساتھ ساتھ ترقی دینا ہو گی تاکہ یہ بوم مکمل گرڈ استحکام میں تبدیل ہو نہ کہ ایک نئی رکاوٹ میں۔
ایک نظر میں: پاکستان کا سولر اور بیٹری بوم (2026)
| اشاریہ | تازہ ترین اعداد و شمار |
|---|---|
| نصب شدہ سولر صلاحیت (چھتوں/یوٹیلیٹی) | 50 گیگا واٹ سے زائد (2026 کے اوائل) |
| مجموعی بیٹری اسٹوریج درآمدات (2025 کے آخر تک) | 7.6 گیگا واٹ گھنٹے (+220% سالانہ) |
| موجودہ سالانہ بیٹری تنصیب کی شرح | 5+ گیگا واٹ گھنٹے سالانہ |
| چھتوں پر سولر والے گھرانے (مالی سال 2025) | 70 لاکھ (تقریباً ہر 5 میں سے 1 گھر) |
| بیٹری اسٹوریج والے سولر گھرانے | تقریباً 2 لاکھ 82 ہزار (~4%) |
| بیٹری قیمت میں کمی (2015–2024) | ~75% (460 ڈالر سے 110 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ) |
| سولر سے تیل و گیس درآمدی بچت (فروری 2026 تک) | 12 ارب ڈالر سے زائد |
| نیٹ بلنگ ایکسپورٹ ریٹ (فروری 2026 سے) | 11 روپے فی یونٹ (پہلے 25 روپے) |
| سولر مارکیٹ کی مالیت (2026) | 2 ارب ڈالر سے زائد |
پنجاب کے ایک رہائشی گھر کی چھت پر نصب سولر پینلز اور بیٹری اسٹوریج یونٹس، جاری پاکستان سولر بیٹری بوم کی عکاسی کرتے ہوئے۔
UrduLead UrduLead