
حکومت نے بدھ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی سے ہوگا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر بڑھا کر 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
یہ اضافہ حکومت کے نئے یومیہ ایندھن قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی منڈی میں آنے والے اتار چڑھاؤ کا فوری اثر مقامی قیمتوں میں شامل کرنا ہے۔ اس نئے نظام نے پہلے سے رائج ہفتہ وار قیمتوں کے جائزے کی جگہ لے لی ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق وفاقی کابینہ نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے کا اختیار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قیمتوں کے تعین کے عمل میں شفافیت آئے گی اور عالمی قیمتوں میں تبدیلی کا اثر بروقت صارفین تک منتقل کیا جا سکے گا۔
روزانہ قیمتوں کے تعین کے فیصلے پر پیٹرولیم ڈیلرز نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آل پاکستان پیٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن (اے پی پی پی او اے) نے اسی معاملے اور ڈیلرز مارجن میں اضافے کے مطالبے پر ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا، تاہم حکومت کی یقین دہانی کے بعد بدھ کو ہڑتال کی کال دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دی گئی۔
پاکستان میں رواں سال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو ریکارڈ 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جبکہ پیٹرول بھی اپریل کے آغاز میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ بعد ازاں عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آنے پر دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی۔
حکومت نے اپریل میں عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے کم آمدنی والے طبقے کے لیے ہدفی ایندھن سبسڈی متعارف کرائی تھی، جبکہ ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کے پیش نظر ایندھن کے بچاؤ کے مختلف اقدامات بھی کیے گئے تھے۔
پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی کمرشل گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت، بجلی کی پیداوار اور صنعتوں میں استعمال ہونے کے باعث اس کی قیمت میں اضافہ کرایوں، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور مجموعی مہنگائی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات ہیں، جن کی مشترکہ ماہانہ فروخت تقریباً سات سے آٹھ لاکھ ٹن ہے۔ یہی مصنوعات حکومت کے لیے پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں اہم ترین ذرائع آمدن بھی ہیں۔
UrduLead UrduLead