حکومت نے اوقات کار اور توانائی بچت کے سخت اقدامات تجویز کر دیے

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا جامع پلان تیار کر لیا ہے جس کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے، مجوزہ اقدامات کے تحت سرکاری و نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور تجارتی سرگرمیوں کے اوقات کار میں نمایاں تبدیلیاں شامل کی گئی ہیں تاکہ توانائی اور ایندھن کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مجوزہ پلان میں بازاروں اور شاپنگ سینٹرز کو رات 9 بج کر 30 منٹ تک بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ شادی ہالز اور دیگر تقریبات کو رات 10 بجے تک محدود رکھا جائے گا، جہاں ون ڈش اور زیادہ سے زیادہ 200 افراد کی شرط بھی عائد ہوگی۔ یہ اقدامات بڑھتے ہوئے توانائی بحران اور ایندھن کی کھپت میں اضافے کے پیش نظر تجویز کیے گئے ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں سے توانائی کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں بجلی اور گیس کی طلب و رسد میں فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ملک کا توانائی درآمدی بل 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو مجموعی درآمدات کا بڑا حصہ بنتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت توانائی بچت کو ترجیحی پالیسی کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔
مجوزہ پلان میں ہائبرڈ ورکنگ پالیسی بھی شامل ہے جس کے تحت ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے نیا نظام نافذ کرنے کی تجویز ہے۔ عام سرکاری دفاتر، جہاں ہفتے میں پانچ دن کام ہوتا ہے، وہاں تین دن دفتر اور دو دن آن لائن کام کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سروسز سے متعلق دفاتر، جو چھ دن کام کرتے ہیں، وہاں چار دن دفتر اور دو دن آن لائن ورکنگ ہوگی۔ اس کے ساتھ دفاتر میں 50 فیصد روٹا سسٹم نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ آمدورفت کم ہو اور ایندھن کی بچت ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق ہائبرڈ ورکنگ ماڈل دنیا بھر میں توانائی اور لاگت کم کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہوا ہے۔ عالمی ادارہ توانائی کے مطابق دفتری اوقات میں کمی اور ریموٹ ورکنگ سے شہری ٹریفک میں 10 سے 15 فیصد تک کمی آ سکتی ہے، جس سے ایندھن کی کھپت میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ پاکستان میں بھی بڑے شہروں میں ٹریفک دباؤ اور فیول استعمال ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
حکومت کی جانب سے اس سے قبل بھی مارکیٹس کے اوقات کار محدود کرنے اور توانائی بچت مہمات شروع کی جا چکی ہیں، تاہم عملدرآمد میں مشکلات کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ وزارت توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس بار سخت نگرانی اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ پالیسی کے ثمرات حاصل کیے جا سکیں۔
تجارتی حلقوں نے مجوزہ اقدامات پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اوقات کار میں کمی سے کاروبار متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر کا مؤقف ہے کہ اگر توانائی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو معیشت کو زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ اسی طرح شادی ہالز اور ایونٹ انڈسٹری سے وابستہ افراد نے بھی نئی پابندیوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں توانائی کی کھپت کا بڑا حصہ تجارتی اور شہری سرگرمیوں سے منسلک ہے، جس کے باعث اوقات کار میں تبدیلی کو ایک اہم پالیسی ٹول سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہوں گے اور حالات کے مطابق ان میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اسمارٹ لاک ڈاؤن پلان پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہوگی بلکہ درآمدی بل میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ وفاقی حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن پلان آئندہ مہینوں میں توانائی پالیسی کے وسیع تر فریم ورک کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead