
جنوبی کوریا کی سرکاری توانائی کمپنی کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی (KOEN) نے پاکستان میں تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے دو پن بجلی منصوبوں کی منظوری میں تاخیر اور ریگولیٹری رکاوٹوں پر وزیراعظم شہباز شریف سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دس سال کی سرمایہ کاری اور کوششیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کم من ینگ نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی نے خیبرپختونخوا میں دریائے سوات پر دو رن آف دی ریور پن بجلی منصوبوں کی ترقی کے لیے حکومت کی تمام شرائط پوری کیں، لیکن ریگولیٹری منظوری کے آخری مرحلے پر منصوبے تعطل کا شکار ہو گئے۔
خط کے مطابق کوریا الیکٹرک پاور کارپوریشن (KEPCO) کی ذیلی کمپنی KOEN 2016 سے 229 میگاواٹ آسرت کیدام اور 238 میگاواٹ کالام آسرت پن بجلی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 467 میگاواٹ اور مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔ کمپنی اب تک ابتدائی کاموں پر تقریباً 25 ملین ڈالر خرچ کر چکی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے 2017 میں حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) سے لیٹر آف انٹینٹ حاصل کیے، پرفارمنس گارنٹیز کی مدت مسلسل بڑھائی اور جون 2023 میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے جنریشن لائسنس بھی حاصل کر لیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں منصوبے انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) 2022-31 میں شامل تھے اور تمام فزیبلٹی اسٹڈیز بھی مکمل کی جا چکی تھیں، تاہم نیپرا کی جانب سے ٹیرف کا فیصلہ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔
کم من ینگ کے مطابق نیپرا نے جون 2023 میں ٹیرف درخواست منظور کرتے ہوئے جولائی 2023 میں عوامی سماعت بھی کی تھی۔ نیپرا کے قواعد کے مطابق ٹیرف کا فیصلہ چار سے چھ ماہ میں ہونا چاہیے تھا، لیکن تین سال گزرنے کے باوجود اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
کمپنی نے کہا کہ اس نے متعدد بار نیپرا سے تحریری اور ذاتی طور پر رجوع کیا۔ جون 2024 میں نیپرا اپیلیٹ ٹربیونل سے بھی رجوع کیا گیا، جس نے 23 جولائی 2024 کو نیپرا کو ٹیرف کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دی، مگر تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
خط میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ آئی جی سی ای پی 2025-35 سے دونوں منصوبوں کو نکال دیا گیا ہے، حالانکہ یہ منصوبے گزشتہ منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ اگر نئے منصوبے کی منظوری موجودہ شکل میں دے دی گئی تو کمپنی کی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری غیر معینہ مدت کے لیے تعطل کا شکار ہو جائے گی۔
کمپنی نے کہا کہ وہ پاکستان میں بجلی کی اضافی پیداواری صلاحیت سے آگاہ ہے اور ضرورت پڑنے پر دونوں منصوبوں کی کمرشل آپریشن کی تاریخ حکومت کی ضروریات کے مطابق مقرر کرنے کے لیے بھی تیار ہے، تاہم اسے صرف اتنی یقین دہانی درکار ہے کہ ٹیرف کا فیصلہ کیا جائے اور منصوبوں کو 2015 کی پاور جنریشن پالیسی کے تحت ہی جاری رکھا جائے، جس کے تحت سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
دوسری جانب نیپرا کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ منصوبے مجوزہ آئی جی سی ای پی 2025-35 میں “آپٹمائز” نہیں ہوئے، اس لیے ان کا معاملہ تاحال زیر غور ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی کوریا نے رواں سال مئی میں جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) پر مذاکرات آگے بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا تھا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز جنوری 2025 میں کیا گیا تھا۔
UrduLead UrduLead