ایل پی جی کی قیمت اور مرغی ہفتہ وار اضافے کی بڑی وجہ
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے مطابق ایل پی جی کی قیمت ایک ہی ہفتے میں 22.44 فیصد بڑھ گئی۔ 11.67 کلو کا سلنڈر 5,154.16 روپے سے بڑھ کر 6,310.76 روپے کا ہو گیا۔
خام تیل کی قیمتیں ہفتہ وار بنیاد پر نمایاں اضافے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ برینٹ خام تیل اس ہفتے تقریباً 6 ڈالر فی بیرل مہنگا ہونے کی راہ پر ہے اور تحریر کے وقت 114 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) پیر کے تقریباً 99 ڈالر سے بڑھ کر 100.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، یعنی اضافہ کہیں کم رہا۔
تیل کے تاجروں کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر ہے، خصوصاً سعودی عرب کے انفراسٹرکچر پر حوثی حملوں پر۔ تیل کی عالمی منڈی کی یہ تیزی زیادہ تر خدشات اور غیر تصدیق شدہ رپورٹس پر کھڑی ہے، کسی ثابت شدہ سپلائی شاک پر نہیں۔
خام تیل کی قیمتیں اور آرامکو کا انخلا
آئل پرائس ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق آرامکو نے خلیج فارس کے کنارے دھران میں اپنے ہیڈ کوارٹر سے عملے کے انخلا کا حکم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے پاس پہلے کے مقابلے میں زیادہ دور تک مار کی صلاحیت ہو سکتی ہے، جبکہ وہ اس سے قبل بحیرہ احمر اور سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
یہاں احتیاط ضروری ہے۔ حوثیوں کی بڑھی ہوئی صلاحیت کا نتیجہ انخلا کے حکم سے اخذ کیا گیا ہے، کسی سرکاری تصدیق سے نہیں۔ دستیاب رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کہ آرامکو کی کون سی تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا، آیا پیداوار یا برآمدات متاثر ہوئیں، یا انخلا احتیاطی تھا۔ اس کے باوجود خام تیل کی قیمتیں انہی اندازوں پر چڑھ رہی ہیں۔
لیبیا کی پائپ لائن بند، پیداوار میں کٹوتی
خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کی دوسری وجہ لیبیا سے آئی۔ ملک کی نیشنل آئل کارپوریشن کے مطابق دو آئل فیلڈز کو برآمدی ٹرمینل سے جوڑنے والی پائپ لائن بند کر دی گئی، جس کے باعث ان دونوں فیلڈز کی پیداوار گھٹانا پڑی۔ رپورٹ میں بندش کی وجہ، دورانیے یا کٹوتی کی مقدار کا ذکر نہیں۔
ایران پر ممکنہ حملے کی خبر: ذرائع کا حوالہ
آئی این جی کے کموڈٹی اسٹریٹجی ماہرین وارن پیٹرسن اور ایوا مانتھے نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ منڈیاں خلیج فارس میں نئی کشیدگی سے بڑھتے ہوئے خوف زدہ ہیں، جو اس تیل کی ترسیل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے جو اب تک حیرت انگیز طور پر مستحکم رہی ہے۔ ان کے مطابق رپورٹس بتاتی ہیں کہ صدر ٹرمپ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیج کر خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔
ماہرانہ تجزیہ: آئی این جی نے 80 ڈالر کا ہدف "ناقابلِ حصول" قرار دے دیا
آئی این جی کے تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کا خطرہ اس امید کو کمزور کرتا ہے کہ اگلے ماہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد حالات بہتر ہوں گے۔ اسی بنیاد پر بینک نے چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ کی پہلے سے متوقع اوسط قیمت 80 ڈالر فی بیرل کو "ناقابلِ حصول" قرار دیا ہے۔
خام تیل کی قیمتیں اگر 114 ڈالر کے قریب رہیں تو 80 ڈالر کی اوسط حاصل کرنے کے لیے باقی عرصے میں قیمتوں کا بہت نیچے آنا لازم ہو گا۔ اسی لیے بینک نے یہ مفروضہ ترک کیا۔
برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کا فرق: دونوں کے درمیان تقریباً 13.60 ڈالر کا فرق ہے، جو بتاتا ہے کہ خطے کا خطرہ بنیادی طور پر برینٹ میں جھلک رہا ہے۔
درآمدی ملکوں کے لیے خطرہ: پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کا اثر عموماً پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی پیداواری لاگت پر پڑتا ہے۔ یہ عمومی معاشی تعلق ہے، موجودہ رپورٹ میں پاکستان پر اثر کا کوئی تخمینہ نہیں۔
خدشہ بمقابلہ حقیقت: جب تک آرامکو کی پیداوار یا برآمدات میں واضح کمی کی تصدیق نہیں ہوتی، موجودہ تیزی میں رسک پریمیم کا حصہ بڑا ہو سکتا ہے، اور ایسی قیمتیں خبر بدلنے پر تیزی سے الٹ بھی سکتی ہیں۔
ایل پی جی کی قیمت اور مرغی ہفتہ وار اضافے کی بڑی وجہ
Aftab Maken
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے مطابق ایل پی جی کی قیمت ایک ہی ہفتے میں 22.44 فیصد بڑھ گئی۔ 11.67 کلو کا سلنڈر 5,154.16 روپے سے بڑھ کر 6,310.76 روپے کا ہو گیا۔
اس اضافے کے باعث 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ (SPI) 0.65 فیصد بڑھا۔ اشاریہ 374.84 پر ہے، جو گزشتہ ہفتے 372.43 اور ایک سال پہلے 335.14 تھا۔ یوں سالانہ مہنگائی 11.85 فیصد ہے۔
ایل پی جی کی قیمت اور مرغی ہفتہ وار اضافے کی بڑی وجہ
17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے جمع کی گئی 51 اشیاء میں سے 19 کی قیمتیں بڑھیں، 12 کی کم ہوئیں اور 20 مستحکم رہیں۔ سب سے بڑے ہفتہ وار اضافے یہ رہے:
ایل پی جی (11.67 کلو سلنڈر): 22.44 فیصد اضافے کے ساتھ 6,310.76 روپے
زندہ برائلر مرغی: 12.20 فیصد اضافے کے ساتھ 444.27 روپے فی کلو
پیاز: 4.19 فیصد اضافے کے ساتھ 188.57 روپے فی کلو
شرٹنگ: 1.86 فیصد اضافہ
ڈبل روٹی (چھوٹی): 1.66 فیصد اضافے کے ساتھ 122.04 روپے
آٹا (20 کلو): 1.00 فیصد اضافے کے ساتھ 2,976.12 روپے
سب سے بڑی کمی ٹماٹر (21.99 فیصد کمی، 93.17 روپے فی کلو)، پیٹرول (3.63 فیصد کمی، 381.67 روپے فی لیٹر)، کیلے (2.42 فیصد)، ڈیزل (1.68 فیصد) اور آلو (1.38 فیصد) میں ہوئی۔
پس منظر: ایل پی جی کی قیمت ایک سال میں دگنی سے زیادہ
ہفتہ وار اعداد گھریلو اخراجات پر پڑنے والے اصل بوجھ کو چھپاتے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 107.12 فیصد بڑھ چکی ہے، جب سلنڈر 3,046.92 روپے کا تھا۔ یعنی فی سلنڈر 3,263.84 روپے زیادہ۔ مرغی سالانہ 38.99 فیصد، آٹا 36.49 فیصد، پیاز 72.81 فیصد، پیٹرول 44.17 فیصد اور ڈیزل 41.56 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ بجلی کے چارجز 58.59 فیصد بڑھے ہیں۔
سالانہ مہنگائی پانچ ہفتوں سے ایک تنگ مگر بلند دائرے میں ہے: 11.92 فیصد (24 ستمبر)، 11.53، 11.97، 11.38 اور اب 11.85 فیصد۔ 3 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں یہ شرح 8.35 فیصد تھی۔ سب سے کم خرچ کرنے والے طبقے (Q1، ماہانہ 17,732 روپے تک) کا اشاریہ ہفتہ وار 0.51 فیصد اور سالانہ 8.45 فیصد بڑھا۔
آٹا کئی ہفتوں سے مسلسل چڑھ رہا ہے۔ 20 کلو کا تھیلا یکم اکتوبر کو 2,697.45 روپے کا تھا اور اب 2,976.12 روپے کا ہے، یعنی تین ہفتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافہ۔ مرغی 8 اکتوبر کے 383.31 روپے سے بڑھ کر 444.27 روپے فی کلو ہو گئی، یعنی تقریباً 16 فیصد اضافہ۔
تجزیہ: ایل پی جی کی قیمت کا اضافہ سرکاری عدد کے بارے میں کیا بتاتا ہے
0.65 فیصد کا عدد دباؤ کو کم دکھاتا ہے۔ یہ خالص تبدیلی ہے۔ PBS کے امپیکٹ کالموں کے مطابق صرف ایل پی جی اور مرغی نے مجموعی اشاریے میں تقریباً 0.96 فیصد پوائنٹ کا اضافہ کیا۔ ٹماٹر اور پیٹرول کی کمی نے تقریباً 0.53 پوائنٹ گھٹا دیے۔ ان دو کمیوں کے بغیر ہفتہ وار مہنگائی 1 فیصد سے کافی اوپر ہوتی۔
ریلیف وسیع نہیں۔ ٹماٹر (21.99 فیصد کمی) ایک موسمی اور غیر مستحکم چیز ہے۔ پیٹرول اس ہفتے سستا ہوا مگر اب بھی پچھلے سال سے 44.17 فیصد مہنگا ہے۔ روزمرہ کی بیشتر ضروری اشیاء یا تو بڑھیں یا مستحکم رہیں۔
22 فیصد ہفتہ وار اضافے کی وضاحت ضروری ہے۔ PBS کی ریلیز نہیں بتاتی کہ ایل پی جی کی قیمت کسی نوٹیفائیڈ نرخ کی تبدیلی، سپلائی کی کمی یا مخصوص منڈیوں کی صورتحال کی وجہ سے بڑھی۔ اس کی وجہ ریگولیٹر اور سپلائرز سے پوچھی جانی چاہیے، کیونکہ سرکاری خلاصہ کوئی وجہ نہیں دیتا۔
اثرات مختلف طبقوں پر مختلف ہیں۔ ایل پی جی کا وزن مجموعی اشاریے میں 1.44 فیصد ہے مگر سب سے کم خرچ والے طبقے میں صرف 0.61 فیصد۔ اسی لیے ایل پی جی نے مجموعی اشاریے میں 0.54 پوائنٹ اور Q1 میں 0.24 پوائنٹ کا اضافہ کیا۔ سب سے زیادہ خرچ والے طبقے (Q5، ماہانہ 44,175 روپے سے اوپر) میں ہفتہ وار اضافہ سب سے زیادہ 0.74 فیصد اور سالانہ شرح 12.69 فیصد رہی۔ اس کے باوجود کم آمدنی والے گھرانوں پر آٹے اور مرغی کی مہنگائی کا بوجھ اپنی آمدنی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
"غیر تبدیل شدہ" اشیاء کی فہرست طویل ہے۔ 20 اشیاء کی قیمت بالکل نہیں بدلی، جن میں تازہ دودھ بھی شامل ہے، جو اشاریے میں سب سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔ ریلیز یہ نہیں بتاتی کہ قیمتیں واقعی مستحکم رہیں یا ان کی اپ ڈیٹنگ کم ہوتی ہے۔ اس سے مجموعی عدد کی ساکھ پر اثر پڑتا ہے۔
PTCL منافع کی سرخی بظاہر خوش آئند ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے نو ماہ کے لیے 4.73 ارب روپے کا مجموعی منافع ظاہر کیا ہے، جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں 11.18 ارب روپے کا خسارہ تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو 22 اکتوبر کے فارم-7 میں بورڈ نے نقد ڈیویڈنڈ، بونس شیئرز اور رائٹ شیئرز، تینوں کی سفارش نہیں کی۔ آمدنی میں تقریباً 62 فیصد اضافہ ہوا، مگر 47.35 ارب روپے کے مالیاتی اخراجات 44.78 ارب روپے کے آپریٹنگ منافع سے بھی زیادہ ہیں۔
آمدنی: 304.40 ارب روپے، جو 188.32 ارب روپے سے 61.6 فیصد زیادہ ہے۔
مجموعی منافع: 101.90 ارب روپے، 63.5 فیصد اضافہ۔
آپریٹنگ منافع: 44.78 ارب روپے، پچھلے سال کے 15.94 ارب روپے سے تقریباً تین گنا۔
مالیاتی اور دیگر اخراجات: 47.35 ارب روپے، 31 فیصد اضافہ۔
قبل از ٹیکس منافع: 9.57 ارب روپے، جبکہ پچھلے سال 14.22 ارب روپے خسارہ تھا۔
ٹیکس: 4.84 ارب روپے، یعنی قبل از ٹیکس منافع کے نصف سے زیادہ، جبکہ پچھلے سال ٹیکس کریڈٹ ملا تھا۔
فی شیئر آمدنی: 0.93 روپے، جبکہ پچھلے سال 2.19 روپے کا خسارہ تھا۔
آپریٹنگ منافع مالیاتی اخراجات پورے نہیں کر سکا۔ PTCL منافع قبل از ٹیکس صرف 12.49 ارب روپے کی دیگر آمدنی کی بدولت مثبت ہوا۔
پس منظر: آمدنی کی چھلانگ جس کی وضاحت فائلنگ میں نہیں
مجموعی آمدنی ایک سال میں 188.32 ارب روپے سے بڑھ کر 304.40 ارب روپے ہو گئی، مگر فائلنگ میں اس کی کوئی وضاحت نہیں۔ غیر مادی اثاثے 135.06 ارب روپے سے بڑھ کر 168.30 ارب روپے اور کل اثاثے 954.04 ارب روپے سے بڑھ کر 1,024.21 ارب روپے ہو گئے۔ یہ اضافہ کسی خریداری، کنسولیڈیشن یا قدرتی نمو کا نتیجہ ہے، یہ نہیں بتایا گیا، اور اس کے بغیر PTCL منافع کا درست جائزہ ممکن نہیں۔ کمپنی میں حکومت کا حصہ 62 فیصد ہے۔
تیسری سہ ماہی عنوان سے کمزور رہی۔ جولائی تا ستمبر میں مجموعی منافع صرف 6.23 کروڑ روپے (فی شیئر 0.01 روپے) رہا، حالانکہ سہ ماہی آمدنی 61 فیصد بڑھ کر 102.73 ارب روپے ہو گئی۔ سہ ماہی مالیاتی اخراجات 58 فیصد بڑھ کر 16.86 ارب روپے ہو گئے۔
تجزیہ: PTCL منافع بمقابلہ قرض اور اکیلی کمپنی کے نتائج
بیلنس شیٹ بتاتی ہے کہ PTCL منافع پتلی بنیاد پر کھڑا ہے:
کل واجبات 917.17 ارب روپے سے بڑھ کر 983.12 ارب روپے ہو گئے، جو 41.09 ارب روپے کی ایکویٹی سے تقریباً 24 گنا ہیں۔
کرنٹ ریشو 0.70 سے گر کر تقریباً 0.65 رہ گیا۔ موجودہ واجبات 565.40 ارب روپے ہیں اور موجودہ اثاثے 364.75 ارب روپے، یعنی تقریباً 200.65 ارب روپے کا ورکنگ کیپیٹل خسارہ۔
قلیل مدتی فنانسنگ 71.49 ارب روپے سے بڑھ کر 85.60 ارب روپے ہو گئی۔ موجودہ لائسنس فیس واجب الادا 8.34 ارب روپے سے بڑھ کر 30.05 ارب روپے ہو گئی۔
جمع شدہ خسارہ اب بھی 38.40 ارب روپے ہے۔
اکیلی (standalone) کمپنی کی حالت زیادہ کمزور ہے۔ اس کا نو ماہ کا 2.96 ارب روپے منافع (پچھلے سال 1.22 ارب روپے خسارہ) 16.60 ارب روپے کی دیگر آمدنی سے آیا، جو پچھلے سال سے دگنی سے زیادہ ہے۔ اکیلی کمپنی کا آپریٹنگ منافع 15 فیصد کم ہو کر 10.92 ارب روپے رہا اور مالیاتی اخراجات 61 فیصد بڑھ کر 23.98 ارب روپے ہو گئے۔ صرف جولائی تا ستمبر میں اکیلی PTCL کو 67.1 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا، جبکہ پچھلے سال اسی سہ ماہی میں 2.05 ارب روپے منافع تھا۔ آپریٹنگ کیش فلو 27.44 ارب روپے سے کم ہو کر 23.32 ارب روپے رہ گیا، جبکہ جائیداد اور آلات پر خرچ بڑھ کر 24.44 ارب روپے ہو گیا۔
PTCL منافع حقیقی ہے مگر نازک۔ اس کا انحصار اس آمدنی پر ہے جس کی وضاحت باقی ہے، اس دیگر آمدنی پر جو دہرائی نہ جا سکے، اور اس قرض پر جس کی لاگت منافع کے تقریباً برابر رفتار سے بڑھی ہے۔
— پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جمعہ کو پی ایس ایل 12کا پری سیزن روڈ میپ جاری کرتے ہوئے تمام آٹھ فرنچائزز کے لیے ڈائریکٹ سائننگ ونڈو کھول دی ہے۔
بورڈ کے مطابق پی ایس ایل 12 آئندہ سال 18 مارچ سے 2 مئی تک کھیلا جائے گا، جبکہ پلیئر آکشن 23 جنوری کو ہو گا۔ پی ایس ایل 12 میں 46 دنوں کے دوران 44 میچز ہوں گے، جن میں 40 لیگ میچز اور 4 پلے آف شامل ہیں۔
بورڈ نے بتایا کہ پہلی بار میچز پانچ سے چھ وینیوز پر کھیلے جائیں گے، تاہم وینیوز کے نام اور مکمل شیڈول تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
پی ایس ایل 12 کی ڈائریکٹ سائننگ اور آکشن کا شیڈول
پی سی بی کے مطابق ڈائریکٹ سائننگ کے قواعد کے تحت ہر فرنچائز ایک مارکی پلیئر سائن کر سکے گی، بشرطیکہ وہ کھلاڑی پی ایس ایل 10 یا پی ایس ایل 11 میں شریک نہ ہوا ہو۔ ونڈو 23 نومبر تک کھلی رہے گی۔
ریٹینشن کی ڈیڈ لائنز، آکشن سے پہلے ٹریڈ ونڈو، آکشن ضوابط اور پلیئنگ کنڈیشنز اگلے ہفتے فرنچائزز کے ساتھ ورکشاپ میں طے کی جائیں گی۔ یعنی پی ایس ایل 12 کے اہم ضوابط ابھی حتمی نہیں ہوئے، اور بورڈ نے خود روڈ میپ کو "جزوی" طور پر جاری کرنے کی بات کی ہے۔
HBL PSL 12 at a Glance
Tournament window18 March – 2 May 2027Duration46 daysTotal fixtures44 (40 league matches + 4 playoffs)Player Auction23 January 2027
The Road to HBL PSL 12
DateMilestone23 October 2026Direct Signings Open for all Franchises23 November 2026Deadline to finalise Franchise Direct SigningsNext WeekHBL PSL Cricketing Workshop23 January 2027HBL PSL 12 Player Auction18 March 2027HBL PSL 12 gets under way2 May 2027HBL PSL 12 Final
بورڈ نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی گولڈ اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی سلور ٹورنامنٹس کو بھی پی ایس ایل کے پری سیزن کیلنڈر سے جوڑ دیا ہے۔ پی سی بی کے مطابق یہ مقابلے اب ٹیلنٹ کی نشاندہی کا بنیادی راستہ ہوں گے اور نمایاں ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو پی ایس ایل اور ممکنہ طور پر قومی ٹیم تک رسائی کا واضح راستہ دیں گے۔
پی ایس ایل 12 پر بورڈ حکام کے بیانات
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے پی ایس ایل 12 کو لیگ کا اب تک کا سب سے پُرعزم ایڈیشن قرار دیا۔ ان کے مطابق پی ایس ایل 11 ریکارڈ تعداد میں تماشائیوں کے سامنے اختتام پذیر ہوئی اور اسی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے لیگ کو پہلے سے زیادہ شہروں تک لے جایا جا رہا ہے۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر نے کہا کہ متعدد وینیوز سے مقابلہ ملک بھر کے شائقین کے قریب آئے گا اور آنے والے ہفتوں میں ڈائریکٹ سائننگز، ٹریڈز اور ریٹینشن فیصلے ٹیموں کی شکل طے کریں گے۔ یہ بیانات بورڈ اور لیگ انتظامیہ کا اپنا مؤقف ہیں، اور ان کا اصل امتحان وینیوز اور شیڈول کی تفصیلات سامنے آنے پر ہو گا۔
پس منظر: پی ایس ایل 12 سے پہلے 2026 کا سیزن
پی ایس ایل 12 اس 2026 سیزن کے بعد ہو رہا ہے جس میں لیگ حیدرآباد کنگز مین اور راولپنڈیز کی شمولیت سے آٹھ ٹیموں تک پھیلی۔ پشاور زلمی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں فائنل میں ڈیبیو کرنے والی حیدرآباد کنگز مین کو ہرا کر دوسری بار ٹائٹل جیتا، جہاں 32,461 تماشائیوں کا ریکارڈ ہجوم موجود تھا۔ تاہم اسی سیزن پر علاقائی کشیدگی اور ایندھن کی قلت کا اثر بھی پڑا، جس کے باعث منتظمین کو زیادہ تر میچز لاہور اور کراچی میں مرکوز کرنا پڑے۔ اس پس منظر میں پی ایس ایل 12 کے لیے پانچ سے چھ وینیوز کا اعلان خوش آئند ہے، مگر جب تک وینیوز اور سیکیورٹی و لاجسٹک انتظامات واضح نہ ہوں، یہ وعدہ ہی رہے گا۔
ماہرین کا تجزیہ
تجزیے کے مطابق پی ایس ایل 12 کا 46 روزہ شیڈول طویل ہے اور 2 مئی تک جانے والی یہ ونڈو اپریل و مئی کے بورڈ امتحانات سے ٹکرا سکتی ہے، جس کا ذکر پہلے لیگ انتظامیہ کی جانب سے بھی ہو چکا ہے۔ پانچ سے چھ وینیوز کا دعویٰ اس وقت تک نامکمل ہے جب تک نام اور میچوں کی تقسیم سامنے نہ آئے، خصوصاً جب گزشتہ سیزن میں اکثر میچز دو شہروں تک محدود رہے۔ ڈائریکٹ سائننگ میں صرف وہ کھلاڑی آ سکتے ہیں جو پی ایس ایل 10 یا 11 میں نہیں کھیلے، اس لیے پی ایس ایل 12 میں نئے چہرے تو آ سکتے ہیں، مگر اس کا معیار اسکواڈز سامنے آنے پر ہی جانچا جا سکے گا۔ ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کو پی ایس ایل سے جوڑنا مثبت قدم ہے، مگر اس کی کامیابی شفاف سلیکشن اور مسلسل مواقع پر منحصر ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق کولیسٹرول کے بارے میں عام طور پر سنا تو جاتا ہے مگر گہری معلومات کم لوگوں کے پاس ہوتی ہیں۔
روزانہ کولیسٹرول کی مقدار کے علاوہ رپورٹ تین سوالات اٹھاتی ہے: اچھے اور برے کولیسٹرول میں فرق، خوراک میں کولیسٹرول کی مناسب مقدار، اور ٹیسٹ کرانے کا وقت۔
رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ مناسب انتظام کی صورت میں کولیسٹرول فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
روزانہ کولیسٹرول کی مقدار: عمومی طبی نکات
یہ حصہ رپورٹ کا نہیں بلکہ عمومی طبی آگاہی کے لیے ہے۔ جسم کو کولیسٹرول کی کچھ مقدار خلیوں اور ہارمونز کے لیے درکار ہوتی ہے، اور جگر اسے خود بھی بناتا ہے۔
اچھا کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) اور برا کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) خون میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں۔ روزانہ کولیسٹرول کی مقدار کے بارے میں مختلف ممالک کی غذائی ہدایات میں فرق رہا ہے اور بعض اداروں نے صرف خوراکی کولیسٹرول کی ایک مخصوص حد کے بجائے سیر شدہ چکنائی کم کرنے پر زور دیا ہے۔
درست حد کے لیے کسی مستند ادارے کی تازہ ہدایات یا معالج سے رجوع کرنا بہتر ہے، کیونکہ ہر شخص کے لیے ایک ہی عدد موزوں نہیں ہوتا۔
تجزیہ: رپورٹ کی حدود
اس رپورٹ کو پڑھتے ہوئے روزانہ کولیسٹرول کی مقدار کے حوالے سے یہ نکات ذہن میں رکھیں:
انفرادی فرق: خاندانی تاریخ، عمر، ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے عوامل کولیسٹرول کے ہدف بدل دیتے ہیں۔ عمومی مقدار ہر کسی پر لاگو نہیں ہوتی۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اردو لیڈجمعہ، 23 اکتوبر 2026ریٹس اور موسمصفحہ 7
آج کے ریٹس
KSE-100
162,374.87
پوائنٹس
↓ -1,549.44
ڈالر (انٹربینک، تقریباً)
276.99
روپے
↓ -0.01
سونا — عالمی قیمت
415,170
روپے فی تولہ
↓ -3,277
پیٹرول
377.71
روپے فی لیٹر
↓ -1.60
ڈیزل
391.75
روپے فی لیٹر
↑ +1.64
موسم
اسلام آباد18°کہیں کہیں بادل
24° / 16°
لاہور19°صاف آسمان
26° / 19°
راولپنڈی16°کہیں کہیں بادل
25° / 16°
فیصل آباد20°زیادہ تر صاف
28° / 19°
ملتان20°زیادہ تر صاف
31° / 20°
گوجرانوالہ19°صاف آسمان
26° / 18°
سیالکوٹ18°صاف آسمان
26° / 18°
سرگودھا18°کہیں کہیں بادل
27° / 17°
یہ اعداد ایڈیشن تیار ہوتے وقت (24 اکتوبر، 06:00) کے ہیں · ذرائع: PSX، Exchange Rate API، gold-api.com، Open-Meteo، ڈیسک۔ صرف معلومات کے لیے، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔