— پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جمعہ کو پی ایس ایل 12 کا پری سیزن روڈ میپ جاری کرتے ہوئے تمام آٹھ فرنچائزز کے لیے ڈائریکٹ سائننگ ونڈو کھول دی ہے۔
بورڈ کے مطابق پی ایس ایل 12 آئندہ سال 18 مارچ سے 2 مئی تک کھیلا جائے گا، جبکہ پلیئر آکشن 23 جنوری کو ہو گا۔ پی ایس ایل 12 میں 46 دنوں کے دوران 44 میچز ہوں گے، جن میں 40 لیگ میچز اور 4 پلے آف شامل ہیں۔
بورڈ نے بتایا کہ پہلی بار میچز پانچ سے چھ وینیوز پر کھیلے جائیں گے، تاہم وینیوز کے نام اور مکمل شیڈول تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
پی ایس ایل 12 کی ڈائریکٹ سائننگ اور آکشن کا شیڈول
پی سی بی کے مطابق ڈائریکٹ سائننگ کے قواعد کے تحت ہر فرنچائز ایک مارکی پلیئر سائن کر سکے گی، بشرطیکہ وہ کھلاڑی پی ایس ایل 10 یا پی ایس ایل 11 میں شریک نہ ہوا ہو۔ ونڈو 23 نومبر تک کھلی رہے گی۔

ریٹینشن کی ڈیڈ لائنز، آکشن سے پہلے ٹریڈ ونڈو، آکشن ضوابط اور پلیئنگ کنڈیشنز اگلے ہفتے فرنچائزز کے ساتھ ورکشاپ میں طے کی جائیں گی۔ یعنی پی ایس ایل 12 کے اہم ضوابط ابھی حتمی نہیں ہوئے، اور بورڈ نے خود روڈ میپ کو "جزوی" طور پر جاری کرنے کی بات کی ہے۔
HBL PSL 12 at a Glance
Tournament window18 March – 2 May 2027Duration46 daysTotal fixtures44 (40 league matches + 4 playoffs)Player Auction23 January 2027
The Road to HBL PSL 12
DateMilestone23 October 2026Direct Signings Open for all Franchises23 November 2026Deadline to finalise Franchise Direct SigningsNext WeekHBL PSL Cricketing Workshop23 January 2027HBL PSL 12 Player Auction18 March 2027HBL PSL 12 gets under way2 May 2027HBL PSL 12 Final
بورڈ نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی گولڈ اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی سلور ٹورنامنٹس کو بھی پی ایس ایل کے پری سیزن کیلنڈر سے جوڑ دیا ہے۔ پی سی بی کے مطابق یہ مقابلے اب ٹیلنٹ کی نشاندہی کا بنیادی راستہ ہوں گے اور نمایاں ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو پی ایس ایل اور ممکنہ طور پر قومی ٹیم تک رسائی کا واضح راستہ دیں گے۔
پی ایس ایل 12 پر بورڈ حکام کے بیانات
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے پی ایس ایل 12 کو لیگ کا اب تک کا سب سے پُرعزم ایڈیشن قرار دیا۔ ان کے مطابق پی ایس ایل 11 ریکارڈ تعداد میں تماشائیوں کے سامنے اختتام پذیر ہوئی اور اسی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے لیگ کو پہلے سے زیادہ شہروں تک لے جایا جا رہا ہے۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر نے کہا کہ متعدد وینیوز سے مقابلہ ملک بھر کے شائقین کے قریب آئے گا اور آنے والے ہفتوں میں ڈائریکٹ سائننگز، ٹریڈز اور ریٹینشن فیصلے ٹیموں کی شکل طے کریں گے۔ یہ بیانات بورڈ اور لیگ انتظامیہ کا اپنا مؤقف ہیں، اور ان کا اصل امتحان وینیوز اور شیڈول کی تفصیلات سامنے آنے پر ہو گا۔
پس منظر: پی ایس ایل 12 سے پہلے 2026 کا سیزن
پی ایس ایل 12 اس 2026 سیزن کے بعد ہو رہا ہے جس میں لیگ حیدرآباد کنگز مین اور راولپنڈیز کی شمولیت سے آٹھ ٹیموں تک پھیلی۔ پشاور زلمی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں فائنل میں ڈیبیو کرنے والی حیدرآباد کنگز مین کو ہرا کر دوسری بار ٹائٹل جیتا، جہاں 32,461 تماشائیوں کا ریکارڈ ہجوم موجود تھا۔ تاہم اسی سیزن پر علاقائی کشیدگی اور ایندھن کی قلت کا اثر بھی پڑا، جس کے باعث منتظمین کو زیادہ تر میچز لاہور اور کراچی میں مرکوز کرنا پڑے۔ اس پس منظر میں پی ایس ایل 12 کے لیے پانچ سے چھ وینیوز کا اعلان خوش آئند ہے، مگر جب تک وینیوز اور سیکیورٹی و لاجسٹک انتظامات واضح نہ ہوں، یہ وعدہ ہی رہے گا۔
ماہرین کا تجزیہ
تجزیے کے مطابق پی ایس ایل 12 کا 46 روزہ شیڈول طویل ہے اور 2 مئی تک جانے والی یہ ونڈو اپریل و مئی کے بورڈ امتحانات سے ٹکرا سکتی ہے، جس کا ذکر پہلے لیگ انتظامیہ کی جانب سے بھی ہو چکا ہے۔ پانچ سے چھ وینیوز کا دعویٰ اس وقت تک نامکمل ہے جب تک نام اور میچوں کی تقسیم سامنے نہ آئے، خصوصاً جب گزشتہ سیزن میں اکثر میچز دو شہروں تک محدود رہے۔ ڈائریکٹ سائننگ میں صرف وہ کھلاڑی آ سکتے ہیں جو پی ایس ایل 10 یا 11 میں نہیں کھیلے، اس لیے پی ایس ایل 12 میں نئے چہرے تو آ سکتے ہیں، مگر اس کا معیار اسکواڈز سامنے آنے پر ہی جانچا جا سکے گا۔ ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کو پی ایس ایل سے جوڑنا مثبت قدم ہے، مگر اس کی کامیابی شفاف سلیکشن اور مسلسل مواقع پر منحصر ہو گی۔