پی ایس ایل 12 گزشتہ سال والی ہی ونڈو میں کھیلا جائے گا۔ یہ بات ایچ بی ایل پی ایس ایل پوڈکاسٹ میں سامنے آئی، جس کی میزبانی زینب عباس نے کی اور مہمانوں میں سابق کپتان وسیم اکرم اور پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شامل تھے۔
گفتگو کے مطابق گورننگ کونسل کے اجلاس میں مشاورت کے بعد اسی ونڈو پر آگے بڑھنے کا فیصلہ ہوا۔ پی سی بی کے سی ای او نے سیزن کے دوران "سکسز ٹورنامنٹ" اور آف سیزن میں چھوٹے شہروں تک کرکٹ لے جانے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ تاہم کوئی حتمی تاریخ یا شیڈول سامنے نہیں آیا، اس لیے پی ایس ایل 12 کے بارے میں کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔
پی ایس ایل 12 کی ونڈو اور ایونٹ کا ممکنہ وقت
گفتگو کے مطابق رمضان مارچ کے دوسرے عشرے کے آغاز میں ختم ہو رہا ہے۔ پی سی بی سی ای او کا کہنا تھا کہ مارچ کے وسط سے آخر تک کا وقت بہترین آپشن ہے، کیونکہ اس کے بعد ٹورنامنٹ کرانا بہت دیر ہو جائے گی اور موسم کا مسئلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔ پی ایس ایل 12 کی ونڈو پر فرنچائزز اور اسٹیک ہولڈرز میں بحث ہوتی رہی ہے، کیونکہ آئی سی سی ایونٹس کی وجہ سے فروری کی روایتی ونڈو چھوڑ کر پچھلے سال نئی ونڈو اختیار کرنا پڑی تھی۔
پی سی بی سی ای او کے مطابق اس ونڈو میں گزشتہ سال بہتر غیر ملکی کھلاڑی دستیاب ہوئے، جن میں اسٹیو اسمتھ اور ایڈم زیمپا جیسے بڑے نام شامل تھے۔ یہ بورڈ کا اپنا دعویٰ ہے۔ پی ایس ایل 12 میں بھی یہی معیار برقرار رہتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ حتمی اسکواڈز سامنے آنے پر ہو گا۔
پی ایس ایل 12 میں سکسز ٹورنامنٹ کا نیا خیال
گفتگو کا نمایاں حصہ "ایچ بی ایل پی ایس ایل سکسز" ایونٹ کا منصوبہ تھا، جو سیزن کے درمیان کھیلا جا سکتا ہے۔ بتایا گیا کہ اس فارمیٹ میں کیپر کے علاوہ ہر کھلاڑی کو ایک اوور کرانا ہو گا اور بیٹرز ایک مخصوص اسکور کے بعد ریٹائر ہوں گے۔ ٹرانسکرپٹ میں اس اسکور کی درست حد واضح نہیں، اس لیے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ پی ایس ایل 12 کے اس منصوبے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی، جبکہ پی ایس ایل کے بعد آف سیزن میں ایسا ایونٹ کرانے کا خیال بھی پیش کیا گیا، جسے آنے والے برسوں میں مستقل فیچر بنانے کی امید ظاہر کی گئی۔
میزبان زینب عباس کے ساتھ گفتگو میں وسیم اکرم نے بتایا کہ وہ ہانگ کانگ سمیت کئی جگہ سکسز ٹورنامنٹس کھیل چکے ہیں۔
پی ایس ایل 12 اور چھوٹے شہروں میں کرکٹ
پی سی بی سی ای او کے مطابق سکسز جیسا چھوٹا ایونٹ نسبتاً چھوٹے اسٹیڈیمز اور ان شہروں میں ممکن ہو سکتا ہے جہاں اب تک لیگ کے باضابطہ میچز نہیں ہو سکے۔ گفتگو میں سرگودھا، بہاولپور اور ساہیوال کے نام لیے گئے، جبکہ فیصل آباد میں 100 فیصد میچز کرانے کی خواہش ظاہر کی گئی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں فیصل آباد میں ملنے والے اچھے ردعمل کا بھی حوالہ دیا گیا۔
وسیم اکرم نے اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ ہوتی تھی اور وہاں مناسب اسٹیڈیمز موجود تھے۔
گزشتہ سال پانچ وینیوز پر میچز ہوئے تھے اور اس سیزن میں انہی تمام وینیوز کو شامل رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پشاور کے بارے میں کہا گیا کہ اگر وہ تیار ہوا تو وینیوز کی تعداد چھ ہو سکتی ہے۔ پشاور میں میچ نہ ہونے پر سوشل میڈیا کی تنقید کے جواب میں کہا گیا کہ اس کی کوئی وجہ ضرور ہو گی، لیکن گفتگو میں وہ وجہ بیان نہیں کی گئی۔
ماہرین کا تجزیہ
ایک تجزیے کے مطابق پی ایس ایل 12 کی ونڈو برقرار رکھنا عملی فیصلہ ہے، مگر اس سے جڑے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ گفتگو میں خود اعتراف کیا گیا کہ ایک اور لیگ کی ونڈو سے ٹکراؤ کا امکان موجود ہے، اور اپریل و مئی میں بورڈ امتحانات کی وجہ سے نوجوان شائقین کی شرکت متاثر ہو سکتی ہے۔ سکسز ٹورنامنٹ اور چھوٹے شہروں کے منصوبے دلچسپ ضرور ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار اسٹیڈیمز کی دستیابی، سیکیورٹی اور کھلاڑیوں کی شرکت پر ہو گا۔ جب تک یہ منصوبے باضابطہ طور پر منظور نہیں ہوتے، انہیں اعلان کے بجائے ابتدائی خیالات ہی سمجھا جانا چاہیے۔
پی ایس ایل 12 کے دوران کھلاڑیوں کو مائیک لگانے کی تجویز پر پی سی بی سی ای او نے میزبان اور وسیم اکرم سے رائے لی، جنہوں نے اسے مفید قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ مختصر وقت کی وجہ سے بعض جوابات غیر متوقع یا وائرل ہو سکتے ہیں۔