تازہ ترین
اردو لیڈ UrduLead

ای پیپر

ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 · شمارہ 5

اردو لیڈ

ہفتہ، 24 اکتوبر 2026شمارہ 5urdulead

درِ نجات کی تازہ قسط: شہریار منور اور درفشاں سلیم کے رومانوی منظر کی سوشل میڈیا پر دھوم

ڈرامہ درِ نجات کی تازہ قسط میں ابوبکر اور ذریاب کے کرداروں میں شہریار منور اور درفشاں سلیم کا رومانوی منظر

ڈرامہ درِ نجات اور سست رفتار رومانس

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پاکستانی ڈرامہ درِ نجات کی تازہ قسط میں مرکزی کرداروں ذریاب (درفشاں سلیم) اور ابوبکر (شہریار منور) کے درمیان ایک نرم مگر کشیدگی سے بھرپور منظر دکھایا گیا، جس میں لمس، نظروں کے تبادلے اور پس منظر میں پیانو کی دھن نے کیمسٹری کو نمایاں کیا۔

باقی صفحہ 5 (تفریح) پر

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ پر سوالات: نفاذ کے 20 ماہ بعد بھی ماسٹر پلان نہیں، اختیارات وزیراعظم کے دفتر میں مرکوز

یجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے قومی ڈیجیٹل کمیشن اور ڈیجیٹل اتھارٹی کے ڈھانچے کی علامتی تصویر

"ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 نے پاکستان کو ڈیجیٹل معاشرہ، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی والا ملک بنانے کا بڑا وعدہ کیا تھا۔"

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کو نافذ ہوئے تقریباً 20 ماہ ہو چکے ہیں، مگر اس کے تحت بننے والا قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان اب تک منظور نہیں …

باقی صفحہ 4 (ٹیکنالوجی) پر

موسم کی پیشگوئی: شمالی علاقوں میں گرج چمک، سندھ اور بلوچستان میں دھوپ اور گرمی برقرار رہنے کا امکان

موسم کی پیشگوئی کے مطابق گرج چمک والے بادلوں سے ڈھکا شمالی پاکستان کا منظر

جنوبی علاقوں میں موسم کی پیشگوئی: گرمی برقرار

محکمۂ موسمیات کی جاری کردہ تین روزہ موسم کی پیشگوئی کے مطابق ہفتہ 24 اکتوبر سے پیر 26 اکتوبر تک ملک کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کا …

باقی صفحہ 2 (شہر) پر

چیا سیڈز کے فوائد: دو چمچ میں 10 گرام فائبر اور 5 گرام پروٹین

ایک غذائی رپورٹ کے مطابق چیا سیڈز چھوٹے مگر غذائیت سے بھرپور بیج ہیں جن میں گھلنشین اور غیر گھلنشین فائبر، پروٹین، اومیگا 3 چکنائی، اینٹی آکسیڈنٹس اور …

باقی صفحہ 6 (صحت) پر

NBP صدر کی تنخواہ: ماہانہ 95 لاکھ اور طویل مراعات؛ نجی بینکوں کے سربراہان سے موازنے میں سرکاری بینک کا پیکیج کہاں کھڑا ہے؟

سرکاری بینک، کفایت شعاری اور سوالات

نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے شیئر ہولڈرز نے صدر اور سی ای او عمران سرور کے پیکیج کی منظوری دے دی ہے، جس میں ماہانہ …

باقی صفحہ 3 (معیشت) پر

صفحہ 1 / 7
اردو لیڈ ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 شہر صفحہ 2

شہر

موسم کی پیشگوئی: شمالی علاقوں میں گرج چمک، سندھ اور بلوچستان میں دھوپ اور گرمی برقرار رہنے کا امکان

جنوبی علاقوں میں موسم کی پیشگوئی: گرمی برقرار

موسم کی پیشگوئی کے مطابق گرج چمک والے بادلوں سے ڈھکا شمالی پاکستان کا منظر

محکمۂ موسمیات کی جاری کردہ تین روزہ موسم کی پیشگوئی کے مطابق ہفتہ 24 اکتوبر سے پیر 26 اکتوبر تک ملک کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کا امکان ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بیشتر شہروں میں موسم دھوپ والا رہے گا۔ یہ پیشگوئی 23 اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی۔

پیشگوئی کے مطابق ہفتے کے روز گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع، کشمیر، مری، اسلام آباد اور پنجاب کے کئی شہروں میں گرج چمک کا امکان ہے۔ اتوار کو یہ سلسلہ زیادہ تر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں تک محدود ہو جائے گا۔

موسم کی پیشگوئی میں کن علاقوں کا ذکر ہے؟

دستاویز کے مطابق گلگت، سکردو، استور، ہنزہ، گوپس، بونجی، چلاس اور بابوسر میں ہفتہ اور اتوار کو گرج چمک متوقع ہے، جبکہ پیر کو یہاں موسم جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ چترال، دیر اور سیدو شریف میں گرج چمک کا امکان تینوں دن برقرار رہے گا۔

میدانی علاقوں میں ہفتے کو پشاور، لاہور، اسلام آباد، جہلم، اٹک، چکوال اور فیصل آباد میں بھی گرج چمک کی پیشگوئی ہے۔ اتوار اور پیر کو ان شہروں میں موسم جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔

جنوبی علاقوں میں موسم کی پیشگوئی: گرمی برقرار

سندھ کے تمام شہروں میں تینوں دن موسم دھوپ والا رہے گا۔ کراچی میں درجۂ حرارت 35 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد میں رہنے کی پیشگوئی ہے، جو پیر کو 36 سے 38 ڈگری تک جا سکتی ہے۔ مٹھی میں 40 سے 42 ڈگری اور ٹھٹھہ میں 38 سے 40 ڈگری کی حد بتائی گئی ہے۔ بلوچستان کے ساحلی اور جنوبی شہروں تربت، سبی اور گوادر میں بھی موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ کوئٹہ (22 سے 24 ڈگری) اور قلات (20 سے 22 ڈگری) میں موسم نسبتاً خوشگوار رہے گا۔

پس منظر: اکتوبر کے آخر میں موسم کی پیشگوئی کیوں اہم ہے؟

اکتوبر کے آخر میں ملک کے شمالی اور جنوبی حصوں کے موسم میں نمایاں فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک طرف بالائی علاقوں میں ابر و باد اور گرج چمک کے سلسلے ہیں، دوسری طرف سندھ کے کئی شہروں میں دن کا درجۂ حرارت اب بھی 35 ڈگری سے اوپر ہے۔ ایسے میں تازہ موسم کی پیشگوئی سیاحوں، مسافروں، کسانوں اور سفر کرنے والوں کے لیے اہم ہو جاتی ہے۔

تجزیہ: موسم کی پیشگوئی میں کیا کمی ہے؟

جاری کردہ موسم کی پیشگوئی میں شہروں کے لیے درجۂ حرارت کی حد اور موسم کی علامت دی گئی ہے، مگر کئی اہم تفصیلات شامل نہیں ہیں:

  • بارش کی ممکنہ مقدار کا ذکر نہیں ہے۔
  • تیز ہواؤں، ژالہ باری یا لینڈ سلائیڈنگ کی کوئی واضح وارننگ درج نہیں۔
  • گرج چمک کے وقت (صبح، دوپہر یا رات) کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
  • پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والوں کے لیے کوئی ایڈوائزری شامل نہیں۔

چلاس، بابوسر اور سکردو جیسے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی صورت میں راستے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے مقامی انتظامیہ اور این ڈی ایم اے کی ہدایات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہ پیشگوئی تین دن کی ہے اور موسم کی صورتحال بدلنے پر اس میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔

صفحہ 2 / 7
اردو لیڈ ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 معیشت صفحہ 3

معیشت

NBP صدر کی تنخواہ: ماہانہ 95 لاکھ اور طویل مراعات؛ نجی بینکوں کے سربراہان سے موازنے میں سرکاری بینک کا پیکیج کہاں کھڑا ہے؟

سرکاری بینک، کفایت شعاری اور سوالات

نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر کی تنخواہ اور ٹیکس کا تخمینہ، جس میں این بی پی صدر کی تنخواہ اور مراعات کی تفصیل دکھائی گئی ہے

نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے شیئر ہولڈرز نے صدر اور سی ای او عمران سرور کے پیکیج کی منظوری دے دی ہے، جس میں ماہانہ مجموعی تنخواہ 95 لاکھ روپے اور 10 لاکھ روپے ماہانہ ہاؤسنگ الاؤنس شامل ہے۔ یوں این بی پی صدر کی تنخواہ اور رہائشی الاؤنس مل کر سالانہ 12.6 کروڑ روپے بنتے ہیں، اور یہ بونس اور دیگر مراعات کے بغیر ہے۔

این بی پی صدر کی تنخواہ کے ساتھ مراعات کی فہرست

یہ پیکیج 2026 تا 2029 کے لیے ہے اور اس میں کارکردگی کے اہداف (KPIs) سے منسلک متغیر سالانہ بونس بھی شامل ہے۔ بینک دو ڈرائیوروں کی فراہمی یا ان کی تنخواہ فی ڈرائیور 45 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ادا کرے گا، جبکہ 15 لاکھ روپے تک کا جنریٹر، اہلِ خانہ سمیت میڈیکل اور ڈینٹل کوریج، دو کلبوں کی داخلہ فیس اور تین کلبوں کی رکنیت فیس بھی بینک کے ذمے ہو گی۔ پانچ گھریلو ملازمین کی تنخواہیں 1.5 لاکھ روپے ماہانہ تک ادا کی جائیں گی اور ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر یکمشت فرنیشنگ الاؤنس بھی ملے گا۔ رپورٹس کے مطابق دو گاڑیاں اور 3 کروڑ روپے کی لائف انسورنس بھی پیکیج کا حصہ ہیں۔

این بی پی صدر کی تنخواہ صرف ماہانہ رقم نہیں، بلکہ رہائش، ڈرائیور، ملازمین، علاج، کلب اور گریجویٹی تک پھیلا ہوا مکمل پیکیج ہے۔ گریجویٹی ہر سال کی ملازمت پر آخری مجموعی تنخواہ کے ایک ماہ کے برابر ہو گی۔ مذکورہ رپورٹس میں بونس کی رقم یا کے پی آئیز کی تفصیل نہیں دی گئی۔

این بی پی صدر کی تنخواہ پر ٹیکس کا تخمینہ

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک گرافک میں ٹیکس سال 2027 کے لیے تخمینہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق تنخواہ، ہاؤسنگ الاؤنس اور دیگر مراعات (گھریلو عملہ، یوٹیلیٹیز، ڈرائیور، سیکیورٹی، گاڑی) ملا کر قابلِ ٹیکس آمدن 13.2 کروڑ روپے کے قریب بنتی ہے، سالانہ ٹیکس تقریباً 4.52 کروڑ روپے ہے، اور ماہانہ ٹیکس کے بعد نقد رقم تقریباً 67.3 لاکھ روپے بچتی ہے۔ ہمارے حساب سے یہ مؤثر شرحِ ٹیکس تقریباً 34 فیصد بنتی ہے۔

اس گرافک کے ماخذ کا پتا نہیں چل سکا اور اس میں یوٹیلیٹیز، سیکیورٹی اور گاڑی کی رقوم تخمینی ہیں۔ بونس، انسورنس، میڈیکل اور کلب کی سہولتیں اس میں شامل نہیں۔ اس لیے اسے سرکاری حساب نہیں سمجھا جا سکتا، اور این بی پی صدر کی تنخواہ کی اصل مالیت اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

نجی بینکوں کے سربراہان سے موازنہ

نجی بینکوں کے سربراہان کی آمدن کے تازہ ترین دستیاب اعداد ہمیں 2023 کے ملے ہیں، جو مارچ 2024 میں رپورٹ ہوئے۔ ان میں بونس اور دیگر ادائیگیاں شامل ہوتی ہیں، جبکہ این بی پی کے اعداد صرف فکسڈ تنخواہ اور ہاؤسنگ الاؤنس کے ہیں۔ اس لیے موازنہ مکمل طور پر برابر کا نہیں۔

بینکسربراہ (رپورٹ کے وقت)سالانہ آمدنسالیو بی ایلجاوید اقبال38.6 کروڑ روپے2023میزان بینکعرفان صدیقی35.9 کروڑ روپے2023ایچ بی ایلمحمد اورنگزیب35.2 کروڑ روپے2023فیصل بینکیوسف حسینتقریباً 22 کروڑ روپے2023ایم سی بیشعیب ممتاز12.6 کروڑ روپے2023این بی پیعمران سرور12.6 کروڑ روپے (فکسڈ تنخواہ + ہاؤسنگ، بونس کے بغیر)2026 پیکیج

اعداد کو دیکھیں تو این بی پی صدر کی تنخواہ کا فکسڈ حصہ ایم سی بی کی 2023 کی کل آمدن کے برابر ہے، مگر یو بی ایل، میزان اور ایچ بی ایل کے سربراہان کی آمدن کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ مگر دو باتیں اس تصویر کو بدل سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ این بی پی کے متغیر بونس کی حد معلوم نہیں۔ دوسری یہ کہ نجی بینکوں کے اعداد دو سال پرانے ہیں، اس لیے ان کی تازہ سالانہ رپورٹس سے تصدیق ضروری ہے۔

اسی طرح این بی پی کے سابقہ پیکیج کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر 2024 میں رحمت علی حسنی کے لیے ماہانہ 90 لاکھ روپے تنخواہ اور 10 لاکھ روپے ہاؤسنگ الاؤنس منظور ہوا تھا۔ یوں مجموعی تنخواہ میں تقریباً 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہاؤسنگ الاؤنس وہی رہا۔

سرکاری بینک، کفایت شعاری اور سوالات

این بی پی ایک سرکاری بینک ہے، اس لیے اس کے سربراہ کے پیکیج کا موازنہ صرف نجی بینکوں سے نہیں بلکہ سرکاری اداروں کے دیگر سربراہان سے بھی بنتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے اعداد کے مطابق اسٹیٹ بینک کے گورنر کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ماہانہ بتائی گئی تھی، جبکہ این بی پی کے صدر کی تقریباً 90 لاکھ روپے۔ موجودہ 95 لاکھ روپے کے ساتھ این بی پی صدر کی تنخواہ گورنر کی رپورٹ شدہ تنخواہ کے ڈھائی گنا کے قریب ہے۔ یہ صرف تنخواہ کا موازنہ ہے، گورنر کی مراعات کی تفصیل ہمارے پاس نہیں۔

ان سوالات کے جواب سامنے آنے چاہییں

  • بونس کی زیادہ سے زیادہ حد کیا ہے اور کے پی آئیز کون سے ہیں؟ جب تک یہ واضح نہیں، این بی پی صدر کی تنخواہ کی اصل مالیت معلوم نہیں ہو سکتی۔
  • پیکیج پورے معاہدے کے دوران فکسڈ رہے گا، اور اگر بینک معاہدہ مدت سے پہلے ختم کرے تو بقایا مدت کی ادائیگی کرے گا۔ کیا اس شق میں کارکردگی کی کوئی شرط ہے؟
  • رپورٹ کے مطابق تقرری کو ابھی اسٹیٹ بینک کی منظوری درکار ہے۔ جبکہ صدر ستمبر سے عہدہ سنبھال چکے ہیں اور پیکیج ان کی تاریخِ آغاز سے لاگو کیا گیا ہے۔ ریگولیٹری منظوری سے پہلے پیکیج کی منظوری کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے۔
  • ایک سرکاری بینک کے سربراہ کے لیے نجی شعبے کے معیار کو بنیاد بنانا کتنا درست ہے، اور اس کا پیمانہ کیا ہو؟
صفحہ 3 / 7
اردو لیڈ ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 ٹیکنالوجی صفحہ 4

ٹیکنالوجی

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ پر سوالات: نفاذ کے 20 ماہ بعد بھی ماسٹر پلان نہیں، اختیارات وزیراعظم کے دفتر میں مرکوز

"ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 نے پاکستان کو ڈیجیٹل معاشرہ، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی والا ملک بنانے کا بڑا وعدہ کیا تھا۔"

یجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے قومی ڈیجیٹل کمیشن اور ڈیجیٹل اتھارٹی کے ڈھانچے کی علامتی تصویر

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کو نافذ ہوئے تقریباً 20 ماہ ہو چکے ہیں، مگر اس کے تحت بننے والا قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان اب تک منظور نہیں ہوا۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کا اصل مسئلہ تاخیر نہیں، اس کا ڈھانچہ ہے، جس میں اختیارات ایک دفتر کے پاس ہیں اور عدالتی، پارلیمانی اور ڈیٹا تحفظ کے حفاظتی انتظامات کمزور یا غائب ہیں۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ میں کیا طے کیا گیا ہے

جنوری 2025 میں منظور ہونے والا یہ قانون فوری طور پر نافذ کیا گیا اور اس کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل معاشرہ، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی والا ملک بنانا ہے۔ اس کے تحت وزیراعظم کی سربراہی میں قومی ڈیجیٹل کمیشن، قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار اور نافذ کرنے کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، اور اخراجات کے لیے ڈیجیٹل نیشن فنڈ قائم کیا گیا۔

پاکستان کو ڈیجیٹل شناخت، ادائیگیوں، ڈیٹا کے تبادلے اور آن لائن سرکاری خدمات کی فوری ضرورت ہے۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ طاقتور ادارے بنانے والے قانون کو اس کے ڈھانچے سے پرکھنا چاہیے، دیباچے سے نہیں۔

پس منظر: ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے بیس ماہ اور غیر منظور شدہ ماسٹر پلان

اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ایک رکن، جن کا تعلق خلیجی ممالک میں ڈیجیٹل حکومت کے کام سے رہا ہے، پانچ سال کی مدت کے لیے مقرر ہوئے۔ ستمبر 2026 کے آخر تک حکومت ماسٹر پلان کو "آگے بڑھانے" کی بات کر رہی تھی، شعبہ جاتی منصوبے جائزے کے منتظر تھے اور عملے کی تعیناتی پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے بات چیت جاری تھی۔ حکام کو امید ہے کہ پلان وزیراعظم کے ساتھ وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

ایکٹ اتھارٹی سے ماسٹر پلان کا کم از کم سالانہ جائزہ مانگتا ہے، مگر ڈیڑھ سال سے زائد گزرنے کے بعد جائزے کے لیے کوئی منظور شدہ پلان موجود ہی نہیں۔ مضمون نگار کے مطابق تاخیر بذاتِ خود اسکینڈل نہیں، اصل تشویش یہ ہے کہ پلان بننے کے بعد قانون کیا کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

تجزیہ: ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ پر اٹھائے گئے پانچ اعتراضات

مضمون میں درج ذیل نکات اٹھائے گئے ہیں:

  • اختیارات کا ارتکاز: وزیراعظم کمیشن کے سربراہ ہیں، اتھارٹی کے چیئرپرسن اور اراکین کا تقرر اور ان کی تنخواہوں کا تعین کرتے ہیں، اور انہیں "وجوہات ریکارڈ کر کے" ہٹا بھی سکتے ہیں۔ نگران کمیٹی کے نجی شعبے کے اراکین بھی وزیراعظم کی مرضی تک عہدے پر رہتے ہیں۔ کمیٹی کی قیادت وزیر آئی ٹی کے پاس ہے اور اس میں وفاقی سیکریٹریز اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کا نمائندہ شامل ہے۔ مضمون نگار کے بقول عملاً انتظامیہ خود اپنا جائزہ لے گی۔
  • پارلیمان کا محدود کردار: سالانہ رپورٹیں کمیشن، کمیٹی اور وزارت کو جاتی ہیں اور آن لائن شائع ہوتی ہیں، مگر تقرریوں کی پارلیمانی توثیق، قائمہ کمیٹی کے جائزے اور ماسٹر پلان کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی کوئی شرط نہیں۔
  • عدالتی استثنا: مضمون کے مطابق دفعہ 29 ایکٹ کے تحت ہونے والے کسی فیصلے یا اقدام کو کسی عدالت یا ٹریبونل میں چیلنج کرنے سے روکتی ہے اور حکمِ امتناعی کی ممانعت کرتی ہے۔ دفعہ 23 کمشنروں، افسران اور مشیروں کو صرف اس صورت میں مقدمے کی زد میں لاتی ہے جب بدنیتی "معقول شک سے بالاتر" ثابت ہو، جو فوجداری معیار ہے۔ دفعہ 28 ایکٹ کو دیگر تمام قوانین پر فوقیت دیتی ہے۔
  • ڈیٹا تحفظ کا خلا: دفعہ 28(2) کے مطابق جہاں کوئی اور قانون شہریوں کے ڈیٹا حقوق کے تحفظ کے "مخصوص اقدامات" دیتا ہو، وہ مقدم ہوں گے۔ مضمون نگار کہتے ہیں کہ پاکستان میں ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا قانون موجود ہی نہیں اور کم از کم 2023 سے گردش کرنے والا مسودہ بار بار رک چکا ہے، یعنی یہ تحفظ ایسے قانون پر منحصر ہے جو منظور نہیں ہوا۔ دفعہ 19 اتھارٹی کو "کسی بھی شخص" سے معلومات طلب کرنے کا اختیار دیتی ہے اور کمیشن دس کام کے دنوں میں تعمیل کا حکم دے سکتا ہے۔ مضمون میں نادرا کے 27 لاکھ شہریوں کے ریکارڈ کی خلاف ورزی کی تحقیقات اور کال ریکارڈ اور سم ڈیٹا کی فروخت پر گرفتاریوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
  • وفاق اور صوبے: اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت، تعلیم اور زراعت زیادہ تر صوبائی موضوعات ہیں، مگر کمیشن "اداروں" کو وفاقی ماسٹر پلان سے ہم آہنگ ہونے کی ہدایات دے سکتا ہے۔ وزرائے اعلیٰ کمیشن کے رکن ہیں، لیکن اجلاس کے کورم کے لیے وزیراعظم کی موجودگی لازمی ہے۔ مضمون نگار کو خدشہ ہے کہ صوبوں پر معیار مسلط ہو سکتے ہیں، باہمی رضامندی سے طے نہیں ہوں گے۔

مضمون میں آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن تشخیصی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق اس نے SIFC کے وسیع قانونی استثنا اور منصوبوں کو ضابطوں سے مستثنیٰ کرنے کے اختیار کی نشاندہی کی تھی۔ ورلڈ بینک کی ڈیٹا سے متعلق رپورٹ “Data for Better Lives” کا بھی ذکر ہے، جس کے مطابق ڈیٹا کی عوامی قدر اعتماد پر اور اعتماد قانونی تحفظ اور آزاد نگرانی پر قائم ہے۔ مضمون نگار کہتے ہیں کہ بینک پنجاب کے لیے 7 کروڑ ڈالر کے رابطہ کاری اور خدمات کے پروگرام سمیت پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی مالی معاونت کر رہا ہے، اس لیے اسے قومی اتھارٹی سے یہی معیار مانگنا چاہیے۔

بین الاقوامی مثالوں میں مضمون کا موقف ہے کہ ایسٹونیا، بھارت اور سنگاپور نے پہلے حقوق اور قانونی ڈھانچہ بنایا، پھر پلیٹ فارم پھیلائے، اور کسی نے اپنی ڈیجیٹل اتھارٹی کو عدالت کی پہنچ سے باہر نہیں رکھا۔ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے ناقدین کے لیے یہ موازنہ اہم ہے، تاہم ان ممالک کے قوانین اور ان کے اطلاق کی تفصیل اردو لیڈ نے الگ سے نہیں جانچی۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ میں مجوزہ ترامیم

ایکٹ کو منسوخ کرنے کے بجائے ترمیم کا مطالبہ کرتے ہیں:

  • دفعہ 29 کی عدالتی ممانعت ختم کر کے عام عدالتی نظرثانی بحال کی جائے۔
  • تحفظ کا معیار دیوانی سطح پر "نیک نیتی" تک لایا جائے۔
  • تقرریاں اور برطرفیاں پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ہوں، اور برطرفی کی بنیادیں طے ہوں۔
  • ماسٹر پلان اور شعبہ جاتی منصوبے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پیش ہوں۔
  • کسی بھی قومی ڈیٹا تبادلے کے آغاز سے پہلے آزاد ریگولیٹر کے ساتھ مضبوط ذاتی ڈیٹا تحفظ قانون منظور کیا جائے۔
صفحہ 4 / 7
اردو لیڈ ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 تفریح صفحہ 5

تفریح

درِ نجات کی تازہ قسط: شہریار منور اور درفشاں سلیم کے رومانوی منظر کی سوشل میڈیا پر دھوم

ڈرامہ درِ نجات اور سست رفتار رومانس

ڈرامہ درِ نجات کی تازہ قسط میں ابوبکر اور ذریاب کے کرداروں میں شہریار منور اور درفشاں سلیم کا رومانوی منظر

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پاکستانی ڈرامہ درِ نجات کی تازہ قسط میں مرکزی کرداروں ذریاب (درفشاں سلیم) اور ابوبکر (شہریار منور) کے درمیان ایک نرم مگر کشیدگی سے بھرپور منظر دکھایا گیا، جس میں لمس، نظروں کے تبادلے اور پس منظر میں پیانو کی دھن نے کیمسٹری کو نمایاں کیا۔

عمیرہ احمد کے لکھے ہوئے اس ڈرامے کی اس قسط کے بعد سوشل میڈیا پر شائقین کی بڑی تعداد نے اس جوڑی کو 'اب زار' کا نام دے دیا ہے۔

ڈرامہ درِ نجات کی کہانی اور مرکزی جوڑی

ڈرامہ درِ نجات میں ذریاب کا کردار دل ٹوٹنے کے بعد زندگی کے ایک نئے سفر سے گزر رہا ہے، جبکہ ابوبکر کا کردار اس کے ساتھ آگے بڑھتا دکھایا گیا ہے۔ تازہ قسط میں ابوبکر کی پیش قدمی اور ذریاب کی خاموش رضامندی نے کہانی کو ایک نیا رخ دیا۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا یہ رومانوی سلسلہ ناظرین کو کہانی سے جوڑے ہوئے ہے۔

سوشل میڈیا پر ڈرامہ درِ نجات کے بارے میں شائقین کا ردعمل

سوشل میڈیا پر شائقین اس جوڑی کو 'شوہر اور بیوی' کے انداز کی بہترین کیمسٹری قرار دے رہے ہیں۔ متعدد پوسٹس میں ابوبکر کے جرات مندانہ انداز اور ذریاب کے نرم اور محتاط ردعمل کو سراہا گیا۔ کچھ ناظرین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ممکنہ طور پر ایک بوسے کا منظر کاٹ دیا گیا، جبکہ دوسروں نے کہانی کی سست مگر حقیقت پسندانہ رفتار کو پسند کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس ڈرامے کی گونج کیفے میں اجتماعی نشستوں اور دفاتر کی گفتگو تک پہنچ چکی ہے، اور شائقین مزید ایسے مناظر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ماہرین کا تجزیہ: ڈرامہ درِ نجات اور سست رفتار رومانس

ڈرامہ نگاری کے ناقدین کے مطابق سست رفتار رومانوی کہانی ناظرین کو لمبے عرصے تک جوڑے رکھنے کی مؤثر حکمتِ عملی ہے، اور پیانو کی موسیقی جیسے عناصر جذباتی اثر بڑھاتے ہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے مناظر پر پاکستانی ناظرین کی آرا منقسم رہتی ہیں، اور کٹے ہوئے منظر کی شکایات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سنسر شپ اور تخلیقی آزادی کا توازن اب بھی بحث کا موضوع ہے۔ یہ ردعمل زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین پر مبنی ہے، جو تمام ناظرین کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ڈرامہ درِ نجات کی اصل کامیابی آنے والی اقساط میں کہانی کے توازن پر منحصر ہو گی۔

صفحہ 5 / 7
اردو لیڈ ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 صحت صفحہ 6

صحت

چیا سیڈز کے فوائد: دو چمچ میں 10 گرام فائبر اور 5 گرام پروٹین

لکڑی کے چمچ میں کالے اور سفید چیا سیڈز اور پانی میں بھیگے بیجوں کا جیل، جو چیا سیڈز کے فوائد اور غذائیت کی عکاسی کرتے ہیں

ایک غذائی رپورٹ کے مطابق چیا سیڈز چھوٹے مگر غذائیت سے بھرپور بیج ہیں جن میں گھلنشین اور غیر گھلنشین فائبر، پروٹین، اومیگا 3 چکنائی، اینٹی آکسیڈنٹس اور مختلف معدنیات پائے جاتے ہیں۔

چیا سیڈز کے فوائد میں ہاضمے، دل کی صحت اور پیٹ بھرے رہنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ، نیشنل جیوگرافک اور کئی غذائی ماہرین کے حوالے شامل ہیں، تاہم کسی الگ تحقیقی مطالعے کی تفصیل نہیں دی گئی۔

پس منظر: چیا سیڈز کی ابتدا اور غذائی قدر

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیا سیڈز پودینے کے خاندان کے پودے "سالویا ہسپانیکا" سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ وسطی امریکا کے مقامی ہیں اور ازٹیک اور مایا تہذیبوں کی خوراک کا حصہ 5,000 سال سے زائد عرصے تک رہے ہیں۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق دو کھانے کے چمچ چیا سیڈز تقریباً 10 گرام فائبر اور 5 گرام پروٹین دیتے ہیں، ساتھ ہی کیلشیم، آئرن، میگنیشیم اور پوٹاشیم، اور فولیٹ، وٹامن اے، سیلینیم اور زنک کی کم مقدار۔ نیویارک کے غذائی ماہر کیتھ ایوب کے مطابق چیا سیڈز ایسے غذائی اجزا فراہم کرتے ہیں جو اکثر لوگوں کی خوراک میں کم ہوتے ہیں۔

چیا سیڈز کے فوائد: رپورٹ کے مطابق کیا بتایا گیا

  • اومیگا 3: ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق چیا اومیگا 3 کا نمایاں نباتاتی ذریعہ ہے، جس کا تعلق دل اور دماغ کی صحت اور سوزش میں کمی سے جوڑا گیا ہے۔
  • فائبر: گھلنشین فائبر پانی کے ساتھ مل کر جیل بناتا ہے، جو آنتوں کی باقاعدگی، دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور بلڈ گلوکوز کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس، بعض کینسرز اور سوزش کے کم خطرے اور ایل ڈی ایل کولیسٹرول میں کمی سے وابستہ ہے۔
  • اینٹی آکسیڈنٹس: ٹوکوفیرولز، فائٹوسٹیرولز، کیروٹینائیڈز اور پولی فینولز فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
  • پروٹین: رپورٹ کے مطابق چیا میں 15 سے 25 فیصد پودوں سے حاصل ہونے والا پروٹین ہے جس میں نو ضروری امینو ایسڈز شامل ہیں۔
  • پانی جذب کرنا: شکاگو کی غذائی ماہر ڈان جیکسن بلاٹنر کے مطابق چیا اپنے وزن سے دس گنا تک پانی جذب کر سکتا ہے۔

چیا سیڈز کے فوائد: کیسے کھائیں

رپورٹ کے مطابق چیا سیڈز خشک بھی کھائے جا سکتے ہیں اور بھگو کر بھی، یعنی بھگونا لازم نہیں۔ ماہرین نے بھیگے ہوئے بیجوں کے جیل جیسی خصوصیت کو ان کی نمایاں پہچان قرار دیا ہے۔

تجزیہ: رپورٹ کے دعووں کی حدود

یہ رپورٹ ماہرین کے بیانات اور معروف اداروں کے حوالوں کا مجموعہ ہے، اس لیے چیا سیڈز کے فوائد کو چند احتیاطوں کے ساتھ پڑھنا چاہیے:

  1. ثبوت کی نوعیت: رپورٹ کہتی ہے کہ سائنسی تائید موجود ہے، خاص طور پر ہاضمے اور دل کے لیے، مگر یہ بات ایک ماہر کے بیان کے طور پر آئی ہے۔ کسی مطالعے کا نام، نمونے کا حجم یا نتائج نہیں دیے گئے۔
  2. "خطرے سے وابستہ" بمقابلہ وجہ: ٹائپ 2 ذیابیطس، کینسر اور سوزش کے کم خطرے کا تعلق فائبر کے استعمال سے جوڑا گیا ہے۔ یہ تعلق مجموعی طور پر فائبر والی خوراک کا ہو سکتا ہے، صرف چیا کا نہیں۔
  3. مقدار کا سوال: اعداد دو چمچ کی مقدار پر ہیں، جبکہ رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ روزانہ کتنی مقدار محفوظ یا مفید ہے۔ زیادہ فائبر اچانک شروع کرنے سے پیٹ پھولنے یا بدہضمی ہو سکتی ہے، اس لیے مقدار بتدریج بڑھانا اور ساتھ پانی لینا بہتر ہے۔
  4. اومیگا 3 کی قسم: چیا میں پایا جانے والا اومیگا 3 نباتاتی قسم کا ہے، اور رپورٹ مچھلی کے اومیگا 3 سے اس کا موازنہ نہیں کرتی۔
  5. خشک بیجوں کا معاملہ: رپورٹ کہتی ہے خشک کھانا ممکن ہے، مگر یہ بھی بتاتی ہے کہ بیج بہت پانی جذب کرتے ہیں۔ خشک بیج نگلنے میں دقت رکھنے والے افراد کو احتیاط کرنی چاہیے، اور بھگو کر کھانا زیادہ محفوظ انتخاب ہو سکتا ہے۔
  6. ادویات اور بیماریاں: ذیابیطس، بلڈ پریشر یا خون پتلا کرنے کی دوا لینے والے افراد خوراک میں نمایاں تبدیلی سے پہلے معالج سے مشورہ کریں۔
  7. ماخذ کی یکسانیت: رپورٹ میں ایک ہی طرز کے غذائی ماہرین کے بیانات شامل ہیں۔ کسی آزاد یا مخالف رائے یا ممکنہ مضر اثرات کا ذکر نہیں۔

مجموعی طور پر چیا سیڈز متوازن خوراک کا مفید جزو ہو سکتے ہیں، مگر چیا سیڈز کے فوائد کو معجزاتی علاج کے بجائے مجموعی غذائی عادات کے حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

صفحہ 6 / 7
اردو لیڈ ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 ریٹس اور موسم صفحہ 7

آج کے ریٹس

KSE-100 162,374.87 پوائنٹس ↓ -1,549.44
ڈالر (انٹربینک، تقریباً) 276.73 روپے ↓ -0.26
سونا — عالمی قیمت 414,780 روپے فی تولہ ↓ -390
پیٹرول 377.71 روپے فی لیٹر ↓ -1.60
ڈیزل 391.75 روپے فی لیٹر ↑ +1.64

موسم

  • اسلام آباد 15° صاف آسمان 26° / 15°
  • لاہور 17° صاف آسمان 28° / 17°
  • راولپنڈی 14° صاف آسمان 26° / 14°
  • فیصل آباد 17° صاف آسمان 27° / 17°
  • ملتان 20° صاف آسمان 31° / 19°
  • گوجرانوالہ 17° صاف آسمان 28° / 16°
  • سیالکوٹ 15° صاف آسمان 27° / 15°
  • سرگودھا 17° صاف آسمان 28° / 17°

یہ اعداد ایڈیشن تیار ہوتے وقت (25 اکتوبر، 06:00) کے ہیں · ذرائع: PSX، Exchange Rate API، gold-api.com، Open-Meteo، ڈیسک۔ صرف معلومات کے لیے، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔

صفحہ 7 / 7