تازہ ترین
اردو لیڈ UrduLead

ای پیپر

جمعرات، 22 اکتوبر 2026 · شمارہ 3

اردو لیڈ

جمعرات، 22 اکتوبر 2026شمارہ 3urdulead

ڈرامہ رتبہ کی اقساط: میر اور شیلی کی پراسرار کہانی نے ناظرین کو اپنی گرفت میں لے لیا

ڈرامہ رتبہ میں میر اور شیلی کے کردار میں زاہد احمد اور مہوش حیات کا ایک منظر

زاہد احمد اور مہوش حیات کی کیمسٹری غیر معمولی ہے

اے آر وائی ڈیجیٹل کے نئے ڈرامہ رتبہ کی چار اور پانچ اقساط نشر ہونے کے بعد ناظرین کی دلچسپی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

باقی صفحہ 6 (تفریح) پر

ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی: ملک بھر میں خشک موسم کا سلسلہ برقرار، شمالی علاقوں میں سردی اور 24-25 اکتوبر کو بارش کا امکان

ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی کا نقشہ جس میں ملک کے خشک علاقے اور شمالی علاقوں میں بارش کا امکان دکھایا گیا ہے

محکمہ موسمیات کی جانب سے 21 اکتوبر کو جاری کردہ ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں کانٹی نینٹل ہوا کا غلبہ ہے …

باقی صفحہ 2 (شہر) پر

کھیرا کھانے کے فوائد: کم کیلوریز اور 96 فیصد پانی، مگر بلڈ شوگر اور جلد کے دعوے محتاط پڑھنے کے متقاضی

چھلکے سمیت کٹے ہوئے تازہ کھیرے کے قتلے، جو کھیرا کھانے کے فوائد اور صحت مند غذا کی عکاسی کرتے ہیں

کھیرا کھانے کے فوائد: رپورٹ کے مطابق کیا کیا بتایا گیا

امریکی صحت و ویلنس ویب سائٹ ہیلتھ لائن کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق کھیرا کم کیلوریز والی تازہ غذا ہے جس میں غذائی …

باقی صفحہ 7 (صحت) پر

پی ایس ایل 12: وسیم اکرم اور پی سی بی سی ای او کی گفتگو، مارچ کی ونڈو برقرار، سکسز ٹورنامنٹ کا منصوبہ زیرِ غور

پی ایس ایل 12 اور چھوٹے شہروں میں کرکٹ

پی ایس ایل 12 گزشتہ سال والی ہی ونڈو میں کھیلا جائے گا۔ یہ بات ایچ بی ایل پی ایس ایل پوڈکاسٹ میں سامنے آئی، جس کی میزبانی …

باقی صفحہ 5 (کھیل) پر

پیمرا زیرِ جائزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرسودہ یا کارآمد

پیمرا ایف ایم لائسنس: ایک دہائی کا انتظار

19 اکتوبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ریڈیو بیسڈ سروسز لائسنسنگ ریگولیشنز 2026 کا مسودہ جاری کیا۔ مسودے میں دس سالہ لائسنس مدت، مکمل …

باقی صفحہ 4 (ٹیکنالوجی) پر

صفحہ 1 / 8
اردو لیڈ جمعرات، 22 اکتوبر 2026 شہر صفحہ 2

شہر

ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی: ملک بھر میں خشک موسم کا سلسلہ برقرار، شمالی علاقوں میں سردی اور 24-25 اکتوبر کو بارش کا امکان

ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی کا نقشہ جس میں ملک کے خشک علاقے اور شمالی علاقوں میں بارش کا امکان دکھایا گیا ہے

محکمہ موسمیات کی جانب سے 21 اکتوبر کو جاری کردہ ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں کانٹی نینٹل ہوا کا غلبہ ہے اور 27 اکتوبر تک موسم زیادہ تر خشک رہنے کا امکان ہے۔

بلیٹن میں شمالی پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں سردی اور جزوی ابر آلود موسم کا ذکر ہے، جبکہ جمعہ (23 اکتوبر) کو کشمیر اور گردونواح میں چند مقامات پر ہلکی بارش اور گرج چمک، اور ہفتہ و اتوار (24 اور 25 اکتوبر) کو بالائی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارش، ہوا اور گرج چمک کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

پس منظر: خشک موسم کا تسلسل اور ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی میں کیا شامل ہے

محکمہ موسمیات کی اس ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی میں 21 سے 27 اکتوبر تک ہر دن کا مجموعی خاکہ دیا گیا ہے۔ بلیٹن کے مطابق بدھ اور جمعرات کو ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا، جمعہ کو شمالی پہاڑی علاقوں میں سردی کے ساتھ جزوی ابر آلود موسم متوقع ہے، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو بالائی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارش کا امکان سب سے نمایاں ہے۔ پیر اور منگل کو دوبارہ بیشتر علاقوں میں خشک موسم اور شمالی علاقوں میں صبح و رات کی سردی کی توقع ہے۔

خشک موسم کا یہ تسلسل نیا نہیں۔ اکتوبر کے آغاز میں بھی محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر حصوں میں خشک موسم اور میدانی علاقوں میں دن کے وقت گرمی برقرار رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔ یعنی ہفتہ وار رجحان کے مطابق میدانی علاقوں میں بارش کے آثار تاحال نظر نہیں آ رہے۔

تاہم اس بلیٹن کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اس میں درجہ حرارت کے اعداد و شمار، بارش کی ممکنہ مقدار، اور دھند یا سموگ سے متعلق کوئی واضح انتباہ شامل نہیں، حالانکہ خشک اور ساکن موسم میں پنجاب کے میدانی علاقوں میں فضائی آلودگی میں اضافہ ایک معروف خدشہ ہے۔

ماہرین کی رائے

موسمیاتی ماہرین کے مطابق اکتوبر کے آخر میں کانٹی نینٹل ہوا کا غلبہ عام طور پر خشک اور مستحکم موسم کی علامت ہوتا ہے، جس میں شمالی علاقوں میں راتیں اور صبحیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہفتہ وار موسم کی پیشگوئی عمومی نوعیت کی ہے اور شمالی علاقوں میں 24-25 اکتوبر کی بارش کو "چند مقامات" تک محدود بتایا گیا ہے، اس لیے سیاحوں اور مقامی آبادی کو سفر سے پہلے تازہ ترین اپ ڈیٹس دیکھنی چاہئیں۔

ماہرین ماحولیات خبردار کرتے ہیں کہ ہوا کے ساکن رہنے اور بارش نہ ہونے کی صورت میں پنجاب کے مشرقی اور وسطی اضلاع میں دھند و سموگ کے بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف موسم کی خشکی بتا دینا کافی نہیں، بلکہ بلیٹن میں صحت کے لحاظ سے احتیاطی ہدایات اور فضائی معیار کے انتباہات بھی شامل ہونے چاہئیں تاکہ عوام بروقت تیاری کر سکیں۔

صفحہ 2 / 8
اردو لیڈ جمعرات، 22 اکتوبر 2026 تعلیم صفحہ 3

تعلیم

گریجویٹس میں بے روزگاری کا بحران: 20 سے 24 سال کا ہر تیسرا ڈگری ہولڈر نوکری سے محروم

ڈگری اور روزگار کے درمیان بڑھتا فاصلہ

گریجویٹس میں بے روزگاری کے باعث نوکری کی تلاش میں نوجوان ڈگری ہولڈرز کی تصویر

ملک میں گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح نوجوان طبقے کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔

لیبر فورس سروے 2024-25 کے گیلپ پاکستان کے تجزیے کے مطابق 20 سے 24 سال کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری 32.8 فیصد ہے، یعنی اس عمر کا تقریباً ہر تیسرا ڈگری ہولڈر روزگار سے محروم ہے۔ اسی تجزیے میں اس عمر کی لیبر فورس میں شامل خواتین گریجویٹس میں بے روزگاری 42.3 فیصد، جبکہ مردوں میں 26.1 فیصد رہی۔

گریجویٹس میں بے روزگاری: اعداد و شمار کی اصل تصویر

گردش کرنے والے اعداد و شمار کو بغور دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ بعض دعوے آپس میں خلط ملط ہو رہے ہیں۔ 32.8 فیصد کی شرح صرف 20 سے 24 سال کے گریجویٹس کی ہے، تمام گریجویٹس کی نہیں۔ اسی تجزیے کے مطابق ملک بھر میں تمام عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری 18.3 فیصد ہے، جو تمام تعلیمی سطحوں کی مجموعی شرح 14.7 فیصد سے زیادہ ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ شرح کم ہوتی جاتی ہے: 25 سے 29 سال میں 24.8 فیصد، 30 سے 34 سال میں 15.3 فیصد اور 40 سے 44 سال میں 5.3 فیصد۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ نوجوان گریجویٹس کے لیے بے روزگاری اکثر انتظار کا مرحلہ ہوتی ہے، مستقل اخراج نہیں۔

اسی طرح “31 فیصد سے زائد” کا حوالہ پی آئی ڈی ای کی ایک پرانی رپورٹ سے آتا ہے، جس میں ڈگری یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری کا ذکر تھا، اور یہ حالیہ سالانہ اعداد نہیں۔ خواتین کے لیے 42.3 فیصد کا اعداد بھی پی آئی ڈی ای کا نہیں بلکہ گیلپ پاکستان کے تجزیے کا ہے۔

پس منظر: ڈگری اور روزگار کے درمیان بڑھتا فاصلہ

نوجوانوں کی مشکلات صرف بے روزگاری تک محدود نہیں۔ 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً ایک تہائی نوجوان نہ تعلیم میں ہیں، نہ ملازمت میں اور نہ تربیت میں، جبکہ نوجوان خواتین میں یہ شرح نصف سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق ہنرمندی کی کمی کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 31.5 ارب ڈالر کی پیداواری صلاحیت اور برآمدی امکانات کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ صرف 7 فیصد نوجوانوں کو رسمی فنی تربیت تک رسائی حاصل ہے، جو خطے کی اوسط 22 فیصد سے بہت کم ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین بے روزگاری کی بنیادی وجہ نصاب اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان عدم مطابقت اور معاشی سست روی کو قرار دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے والا بنیادی ڈھانچہ، یعنی رہنمائی، کیریئر کونسلنگ، صنعتی روابط اور مارکیٹ کے درست اشارے، بیشتر علاقوں میں کبھی قائم ہی نہیں ہو سکا۔ پی آئی ڈی ای کی تحقیق بھی طلب اور رسد کے عدم توازن کی نشاندہی کر چکی ہے۔

صفحہ 3 / 8
اردو لیڈ جمعرات، 22 اکتوبر 2026 ٹیکنالوجی صفحہ 4

ٹیکنالوجی

پیمرا زیرِ جائزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرسودہ یا کارآمد

پیمرا ایف ایم لائسنس: ایک دہائی کا انتظار

پیمرا ایف ایم لائسنس کی تجدید کے بحران کی عکاسی کرتا ہوا پاکستان میں ایف ایم ریڈیو ٹرانسمیٹر ٹاور

19 اکتوبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ریڈیو بیسڈ سروسز لائسنسنگ ریگولیشنز 2026 کا مسودہ جاری کیا۔ مسودے میں دس سالہ لائسنس مدت، مکمل آن لائن درخواستیں، سات کام کے دنوں میں مکمل ہونے کی جانچ اور فیصلوں کے لیے پندرہ کام کے دنوں کی پابند ڈیڈ لائن شامل ہے۔

فیس ایک شائع شدہ فارمولے کے مطابق طے ہوتی ہے جسے ہر درخواست گزار پہلے سے خود حساب کر سکتا ہے۔ اس میں تجدید کا ایک محفوظ راستہ بھی رکھا گیا ہے، تاکہ جس لائسنس یافتہ نے بروقت درخواست دی اور واجبات ادا کیے، اسے کسی دوسرے سرکاری ادارے کی سستی کی سزا نہ ملے۔

اسے پاکستان کے ایف ایم براڈکاسٹرز کے تجربے اور پیمرا ایف ایم لائسنس کی موجودہ صورتحال کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو فرق واضح ہو جاتا ہے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) 2002 میں ملک کی فضائیں کھولنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ چوبیس سال بعد اس کے جاری کردہ ایف ایم لائسنسوں کا بڑا حصہ عدالتی مقدمات میں پھنسا ہوا ہے، کئی اسٹیشن ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے سے تجدید کے منتظر ہیں، اور اکثر اپنے اخراجات پورے نہیں کر پاتے۔ پیمرا اپنی مارکیٹ سے محض پیچھے نہیں رہ گیا۔ براڈکاسٹر کے لیے سب سے اہم سوالات پر وہ غیر مؤثر ہو چکا ہے۔

پیمرا ایف ایم لائسنس: ایک دہائی کا انتظار

اس کی سب سے نمایاں علامت وقت ہے۔ پہلے ایف ایم لائسنس 2000 کی دہائی کے اوائل اور وسط میں دس سال کی مدت کے لیے جاری ہوئے۔ ان کی میعاد ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے ختم ہونا شروع ہوئی۔ 2026 میں ان میں سے کئی اسٹیشن اب بھی تجدید کے منتظر شمار ہوتے ہیں۔ وہ نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں، عملے کو تنخواہیں دے رہے ہیں، سامعین کی خدمت کر رہے ہیں اور ٹرانسمیٹر چلا رہے ہیں، مگر قانونی یقین کے بغیر۔

اب جو تجدیدی مطالبے آ رہے ہیں ان سے مسئلے سے نمٹنے کا طریقہ سامنے آتا ہے۔ لائسنس یافتگان سے کہا جاتا ہے کہ چند دنوں یا ہفتوں میں یکمشت رقم ادا کریں اور باقی رقم نو سال کے پوسٹ ڈیٹڈ چیکوں کے ذریعے دیں۔ مقررہ مدت میں ادائیگی نہ ہو تو تجدید کی درخواست کے بارے میں سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ "مسترد کر دی گئی"۔ پھر تجدید کو برسوں پہلے کی اصل میعاد سے پچھلی تاریخ سے نافذ کر دیا جاتا ہے۔ یعنی براڈکاسٹر سے اس دہائی بھر کی غیر یقینی صورتحال کی پوری قیمت مانگی جاتی ہے جو ریگولیٹر نے فیصلہ نہ کر کے خود پیدا کی۔

جو براڈکاسٹر پوچھتے ہیں کہ رقوم کا حساب کیسے لگایا گیا، ان کے مطابق انہیں اکثر کوئی مدلل جواب نہیں ملتا۔ تحریری تجاویز اور جزوی ادائیگیوں کی ایک سال سے زیادہ عرصے تک رسید تک نہیں دی گئی۔ ذاتی سماعتیں ہوتی ہیں اور اس کے بعد مزید مطالبے کے خطوط آ جاتے ہیں۔ کروڑوں روپے کے مطالبے کی بنیاد پوچھنے والا لائسنس یافتہ ریگولیٹر کی حکم عدولی نہیں کر رہا۔ یہ وہ کم از کم توقع ہے جو کوئی بھی ریگولیٹڈ کاروبار رکھ سکتا ہے۔

ڈیزائن ہی میں عدم مساوات

عدالتوں نے اب وہ بات واضح کرنا شروع کر دی ہے جو براڈکاسٹر عرصے سے کہتے آ رہے ہیں۔ براڈکاسٹرز کی تنظیموں اور انفرادی لائسنس یافتگان نے پیمرا کے تجدیدی اور فیس کے نظام کو چیلنج کیا ہے، اور ایف ایم شعبے کے لائسنسوں کا بڑا حصہ اب عدالتی نظرثانی کے تحت ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی حالیہ کارروائی میں پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023 سے پہلے اور بعد میں تجدیدی فیس کے تعین میں ایک بنیادی ناانصافی سامنے آئی۔ 2023 کی ترمیم سے ایک دن پہلے میعاد ختم ہونے والے پیمرا ایف ایم لائسنس کی تجدیدی فیس ترمیم کے ایک دن بعد ختم ہونے والے لائسنس کے مقابلے میں تقریباً دگنی تھی۔ دونوں اسٹیشن ایک ہی زمرے اور ایک ہی مارکیٹ میں ہو سکتے ہیں اور ان سے ایک جیسا ریگولیٹری سلوک ہونا چاہیے تھا۔ ان کے درمیان فرق صرف تاریخ کا تھا۔

پیمرا کی اپنی اتھارٹی نے اسے تسلیم کیا اور فیصلہ کیا کہ ترمیم شدہ تجدیدی دفعات میعاد ختم ہونے کی تاریخ سے قطع نظر تمام ختم شدہ لائسنسوں پر لاگو ہوں گی۔ پھر اس نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہی اصلاح اشتہارات کی آمدنی سے منسلک ماضی کی سالانہ فیسیں معاف کرنے تک نہیں بڑھ سکتی۔ یوں لائسنس یافتگان ایک مبہم صورتحال میں رہ گئے جسے صرف مزید مقدمہ بازی ہی حل کر سکتی ہے۔ جب ریگولیٹر کے اپنے فیصلوں کی تشریح کے لیے عدالت درکار ہو اور کاروبار اگلے سال کا بجٹ نہ بنا سکے تو ضابطہ کاری کا نظام کام کرنا چھوڑ چکا ہوتا ہے۔

ناانصافی صرف فیسوں تک محدود نہیں۔ لائسنس یافتہ اسٹیشن نیلامی کا پریمیم، تجدیدی فیس، اسپیکٹرم چارجز اور تعمیل کے اخراجات ادا کرتے ہیں۔ غیر قانونی اسٹیشن، جن کی تعداد پیمرا خود درجنوں اور بعض اوقات سو سے زیادہ بتا چکا ہے، کچھ ادا نہیں کرتے۔ ٹیلی ویژن چینل رکھنے والے بڑے میڈیا ہاؤس ریڈیو کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں اور اشتہارات کو آپس میں ملا کر بیچ سکتے ہیں۔ آزاد اور چھوٹے شہروں کے اسٹیشن ایسا نہیں کر سکتے۔ برابری کا میدان فراہم کرنا کسی بھی معاشی ریگولیٹر کا پہلا فرض ہے، اور پیمرا یہ فراہم نہیں کر سکا۔

پیمرا ایف ایم لائسنس مارکیٹ تحقیق کے بغیر کیسے فروخت ہوئے

بحران کی جڑ ایک ایسا لائسنسنگ ماڈل ہے جو کبھی مارکیٹ تحقیق پر مبنی نہیں تھا۔ ایف ایم فریکوئنسیاں شہر بہ شہر کھلی بولی کے ذریعے نیلام کی گئیں، گویا بولی کا جوش تجارتی افادیت کا ثبوت ہو۔ کسی شائع شدہ مطالعے نے یہ نہیں دیکھا کہ کسی ضلع کی اشتہاری مارکیٹ ایک، دو یا تین اسٹیشنوں کو سہارا دے سکتی ہے یا نہیں۔ کسی نے یہ طے نہیں کیا کہ حقیقت پسندانہ آمدنی کے مقابلے میں لائسنس فیس کتنی ہونی چاہیے، یا چھوٹے قصبے کا اسٹیشن پرامید بولی کی بنیاد پر طے ہونے والی فیس کیسے وصول کرے۔ نتائج پورے ڈائل پر نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں زیادہ تر ایف ایم اسٹیشن اس سطح پر کام نہیں کر رہے جو ان کے اخراجات پورے کرے۔ بہت سے سستے موسیقی کے فارمیٹ، کم از کم عملے اور دیگر کاروباروں کی مالی مدد سے زندہ ہیں۔ کچھ خاموشی سے بند ہو چکے ہیں۔ اشتہارات مسلسل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہو گئے ہیں، مگر لائسنس فیسیں، تجدیدی چارجز اور اسپیکٹرم کے اخراجات اب بھی 2000 کی دہائی کی توقعات سے بندھے ہوئے ہیں۔

جو ریگولیٹر مارکیٹ کا مطالعہ کیے بغیر فریکوئنسیاں بیچتا ہے وہ ایک ایسی صنعت سے آمدنی وصول کر رہا ہے جسے سمجھنے کی اس نے زحمت نہیں کی۔ 2012 میں ایف ایم نشریات سے مقامی خبروں کی گنجائش ختم کرنے کے فیصلے نے حالات مزید بگاڑ دیے۔ اس نے وہ واحد مواد ہٹا دیا جو کمیونٹی ریڈیو کو ممتاز کر سکتا اور مقامی اسپانسرز کو متوجہ کر سکتا تھا، اور لائسنس یافتگان کو ایسے کمیونٹی خدمت کے وعدوں کا پابند چھوڑ دیا جنہیں پورا کرنے سے وہ روکے گئے ہیں۔ اپنے ضلع کی اچھی خدمت کرنے والے اسٹیشن کے لیے کوئی صلہ نہیں اور نہ کرنے والے کے لیے کوئی ناپی تُلی سزا۔ ریگولیٹر کے پاس دونوں میں فرق کرنے کا کوئی تکنیکی ڈھانچہ نہیں۔

عوام کو نقصان

یہ سب صنعت کی شکایت لگ سکتی ہے اگر نتائج صنعت کے اندر ہی رہتے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ ایف ایم پاکستان کا سب سے سستا، سب سے مقامی اور سب سے مضبوط ذریعہ ابلاغ ہے۔ یہ گاڑیوں، دکانوں، کھیتوں اور ان گھروں تک پہنچتا ہے جہاں براڈ بینڈ کمزور ہے، اور نیٹ ورک بند ہونے پر بھی چلتا رہتا ہے۔ جب پیمرا کے لائسنس یافتگان تجدیدی تنازعات میں الجھے اور خبروں سے روکے گئے تھے، پاکستان کی نوجوان اکثریت نے اپنی معلوماتی زندگی ٹک ٹاک، یوٹیوب اور واٹس ایپ پر منتقل کر لی۔ ان جگہوں پر نہ ادارتی نگرانی ہے، نہ تصدیق، اور نہ جھوٹ پھیلنے پر کوئی جوابدہی۔ جمہوریت کو ایسے مقامی معتبر ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے جن کا نام لیا جا سکے، جن سے سوال کیا جا سکے اور جنہیں درست کیا جا سکے۔ پیمرا ایف ایم لائسنس یافتگان کو کمزور کر کے، جو گلی کی سطح پر یہ کردار ادا کرنے کے لیے سب سے موزوں ہیں، ریگولیٹری نظام نے معلوماتی فضا کو محفوظ نہیں بنایا۔ اس نے اسے ان آوازوں کے حوالے کر دیا جو سب سے بلند ہیں۔

ایک ریگولیٹر کیا کرتا ہے

پی ٹی اے کا مسودہ مکمل نہیں، لیکن یہ دکھاتا ہے کہ پاکستانی ریگولیٹر جدید قواعد لکھ سکتا ہے۔ پیمرا کی واپسی کا راستہ انہی اصولوں پر مبنی ہے۔ اسے تجدید کا بیک لاگ ایک مقررہ مدت میں ختم کرنا چاہیے، جس میں مدلل اور تفصیلی فیس اسٹیٹمنٹ ہوں جنہیں لائسنس یافتگان کسی جبری اقدام سے پہلے جانچ اور چیلنج کر سکیں۔ پیمرا ایف ایم لائسنس کی تجدید کا بیک لاگ ختم کرنا اس کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ اسے ماضی سے متعلق فیس کے سوالات عدالتوں کی دلیل کے مطابق خود طے کرنے چاہئیں، بجائے اس کے کہ ہر لائسنس یافتہ کو الگ مقدمہ بازی پر مجبور کرے۔ کسی بھی نئی نیلامی سے پہلے اسے آزاد مارکیٹ اسٹڈیز کرانی اور شائع کرنی چاہئیں، اور چھوٹے شہروں اور کمیونٹی اسٹیشنوں کو ایسی فارمولا بنیاد فیسوں پر منتقل کرنا چاہیے جو نیلامی کے جوش کے بجائے حقیقی آمدنی کی عکاسی کریں۔ اسے لائسنسنگ، تجدید اور شکایات آن لائن کرنی چاہئیں اور قانونی ڈیڈ لائنیں ایسی رکھنی چاہئیں جو لائسنس یافتہ کے ساتھ ریگولیٹر کو بھی پابند کریں۔ اسے ایک واضح ضابطے کے تحت مقامی خبریں بحال کرنی چاہئیں اور کمیونٹی خدمت کی ذمہ داریوں کو قابل پیمائش اور آڈٹ شدہ نتائج سے جوڑنا چاہیے، اور کارکردگی دکھانے والے اسٹیشنوں کو سراہنا چاہیے۔ اور اسے غیر قانونی نشریات کو اس ڈھانچاتی خطرے کے طور پر لینا چاہیے جو وہ ہے، یعنی کبھی کبھار چھاپوں کے بجائے مسلسل نفاذ کے ذریعے۔

ریگولیٹر اس وقت غیر مؤثر ہو جاتا ہے جب اس کے زیر نگرانی کاروباروں کو اس کے قواعد سمجھنے کے لیے عدالتوں کی ضرورت پڑے، جب وہ اپنے ہی مطالبات کی وضاحت نہ کر سکے، اور جب ایک پڑوسی ادارہ دکھا دے کہ بروقت اور شفاف لائسنسنگ کیسی ہوتی ہے۔ ان تینوں کسوٹیوں پر ریکارڈ اب سب کے سامنے ہے۔ پیمرا کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس سے پہلے اصلاح کرے گا کہ ایف ایم شعبہ، جسے بڑھانے کے لیے وہ بنایا گیا تھا، مزید سکڑ جائے۔

صفحہ 4 / 8
اردو لیڈ جمعرات، 22 اکتوبر 2026 کھیل صفحہ 5

کھیل

پی ایس ایل 12: وسیم اکرم اور پی سی بی سی ای او کی گفتگو، مارچ کی ونڈو برقرار، سکسز ٹورنامنٹ کا منصوبہ زیرِ غور

پی ایس ایل 12 اور چھوٹے شہروں میں کرکٹ

پی ایس ایل 12 کے ایچ بی ایل پی ایس ایل پوڈکاسٹ میں میزبان زینب عباس، وسیم اکرم اور پی سی بی سی ای او سیزن کی ونڈو اور سکسز ٹورنامنٹ پر گفتگو کرتے ہوئے

پی ایس ایل 12 گزشتہ سال والی ہی ونڈو میں کھیلا جائے گا۔ یہ بات ایچ بی ایل پی ایس ایل پوڈکاسٹ میں سامنے آئی، جس کی میزبانی زینب عباس نے کی اور مہمانوں میں سابق کپتان وسیم اکرم اور پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شامل تھے۔

گفتگو کے مطابق گورننگ کونسل کے اجلاس میں مشاورت کے بعد اسی ونڈو پر آگے بڑھنے کا فیصلہ ہوا۔ پی سی بی کے سی ای او نے سیزن کے دوران "سکسز ٹورنامنٹ" اور آف سیزن میں چھوٹے شہروں تک کرکٹ لے جانے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ تاہم کوئی حتمی تاریخ یا شیڈول سامنے نہیں آیا، اس لیے پی ایس ایل 12 کے بارے میں کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔

پی ایس ایل 12 کی ونڈو اور ایونٹ کا ممکنہ وقت

گفتگو کے مطابق رمضان مارچ کے دوسرے عشرے کے آغاز میں ختم ہو رہا ہے۔ پی سی بی سی ای او کا کہنا تھا کہ مارچ کے وسط سے آخر تک کا وقت بہترین آپشن ہے، کیونکہ اس کے بعد ٹورنامنٹ کرانا بہت دیر ہو جائے گی اور موسم کا مسئلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔ پی ایس ایل 12 کی ونڈو پر فرنچائزز اور اسٹیک ہولڈرز میں بحث ہوتی رہی ہے، کیونکہ آئی سی سی ایونٹس کی وجہ سے فروری کی روایتی ونڈو چھوڑ کر پچھلے سال نئی ونڈو اختیار کرنا پڑی تھی۔

پی سی بی سی ای او کے مطابق اس ونڈو میں گزشتہ سال بہتر غیر ملکی کھلاڑی دستیاب ہوئے، جن میں اسٹیو اسمتھ اور ایڈم زیمپا جیسے بڑے نام شامل تھے۔ یہ بورڈ کا اپنا دعویٰ ہے۔ پی ایس ایل 12 میں بھی یہی معیار برقرار رہتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ حتمی اسکواڈز سامنے آنے پر ہو گا۔

پی ایس ایل 12 میں سکسز ٹورنامنٹ کا نیا خیال

گفتگو کا نمایاں حصہ "ایچ بی ایل پی ایس ایل سکسز" ایونٹ کا منصوبہ تھا، جو سیزن کے درمیان کھیلا جا سکتا ہے۔ بتایا گیا کہ اس فارمیٹ میں کیپر کے علاوہ ہر کھلاڑی کو ایک اوور کرانا ہو گا اور بیٹرز ایک مخصوص اسکور کے بعد ریٹائر ہوں گے۔ ٹرانسکرپٹ میں اس اسکور کی درست حد واضح نہیں، اس لیے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ پی ایس ایل 12 کے اس منصوبے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی، جبکہ پی ایس ایل کے بعد آف سیزن میں ایسا ایونٹ کرانے کا خیال بھی پیش کیا گیا، جسے آنے والے برسوں میں مستقل فیچر بنانے کی امید ظاہر کی گئی۔

میزبان زینب عباس کے ساتھ گفتگو میں وسیم اکرم نے بتایا کہ وہ ہانگ کانگ سمیت کئی جگہ سکسز ٹورنامنٹس کھیل چکے ہیں۔

پی ایس ایل 12 اور چھوٹے شہروں میں کرکٹ

پی سی بی سی ای او کے مطابق سکسز جیسا چھوٹا ایونٹ نسبتاً چھوٹے اسٹیڈیمز اور ان شہروں میں ممکن ہو سکتا ہے جہاں اب تک لیگ کے باضابطہ میچز نہیں ہو سکے۔ گفتگو میں سرگودھا، بہاولپور اور ساہیوال کے نام لیے گئے، جبکہ فیصل آباد میں 100 فیصد میچز کرانے کی خواہش ظاہر کی گئی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں فیصل آباد میں ملنے والے اچھے ردعمل کا بھی حوالہ دیا گیا۔

وسیم اکرم نے اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ ہوتی تھی اور وہاں مناسب اسٹیڈیمز موجود تھے۔

گزشتہ سال پانچ وینیوز پر میچز ہوئے تھے اور اس سیزن میں انہی تمام وینیوز کو شامل رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پشاور کے بارے میں کہا گیا کہ اگر وہ تیار ہوا تو وینیوز کی تعداد چھ ہو سکتی ہے۔ پشاور میں میچ نہ ہونے پر سوشل میڈیا کی تنقید کے جواب میں کہا گیا کہ اس کی کوئی وجہ ضرور ہو گی، لیکن گفتگو میں وہ وجہ بیان نہیں کی گئی۔

ماہرین کا تجزیہ

ایک تجزیے کے مطابق پی ایس ایل 12 کی ونڈو برقرار رکھنا عملی فیصلہ ہے، مگر اس سے جڑے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ گفتگو میں خود اعتراف کیا گیا کہ ایک اور لیگ کی ونڈو سے ٹکراؤ کا امکان موجود ہے، اور اپریل و مئی میں بورڈ امتحانات کی وجہ سے نوجوان شائقین کی شرکت متاثر ہو سکتی ہے۔ سکسز ٹورنامنٹ اور چھوٹے شہروں کے منصوبے دلچسپ ضرور ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار اسٹیڈیمز کی دستیابی، سیکیورٹی اور کھلاڑیوں کی شرکت پر ہو گا۔ جب تک یہ منصوبے باضابطہ طور پر منظور نہیں ہوتے، انہیں اعلان کے بجائے ابتدائی خیالات ہی سمجھا جانا چاہیے۔

پی ایس ایل 12 کے دوران کھلاڑیوں کو مائیک لگانے کی تجویز پر پی سی بی سی ای او نے میزبان اور وسیم اکرم سے رائے لی، جنہوں نے اسے مفید قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ مختصر وقت کی وجہ سے بعض جوابات غیر متوقع یا وائرل ہو سکتے ہیں۔

صفحہ 5 / 8
اردو لیڈ جمعرات، 22 اکتوبر 2026 تفریح صفحہ 6

تفریح

ڈرامہ رتبہ کی اقساط: میر اور شیلی کی پراسرار کہانی نے ناظرین کو اپنی گرفت میں لے لیا

زاہد احمد اور مہوش حیات کی کیمسٹری غیر معمولی ہے

ڈرامہ رتبہ میں میر اور شیلی کے کردار میں زاہد احمد اور مہوش حیات کا ایک منظر

اے آر وائی ڈیجیٹل کے نئے ڈرامہ رتبہ کی چار اور پانچ اقساط نشر ہونے کے بعد ناظرین کی دلچسپی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

عمیرہ احمد کے قلم سے لکھے گئے اور حسیب حسن کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامے کی پانچ اقساط مکمل ہو چکی ہیں، جن میں تمام مرکزی کردار اور کہانی کا بنیادی موضوع متعارف کرایا جا چکا ہے۔ ان اقساط میں میر اور شیلی کے کرداروں نے خاص توجہ حاصل کی، جو زاہد احمد اور مہوش حیات نے ادا کیے ہیں۔

ڈرامہ رتبہ کا پس منظر

ڈرامہ رتبہ حال ہی میں اے آر وائی ڈیجیٹل پر شروع ہوا ہے۔ ڈرامے کی کاسٹ بڑی ہے اور اس کا ماحول پراسراریت لیے ہوئے ہے۔ پانچ اقساط کے بعد چاروں مرکزی کردار ایک دوسرے کے سامنے آ چکے ہیں۔ میر اور شیلی بااثر ہونے کے باوجود اپنی ذات کے کئی پہلو چھپائے ہوئے ہیں، اور ان دونوں کا باہمی تعلق بھی ابھی تک راز میں لپٹا ہوا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے ناظرین کو کہانی سے جوڑے رکھا ہے۔

سوشل میڈیا پر ڈرامہ رتبہ کے بارے میں شائقین کا ردعمل

سوشل میڈیا پر شائقین ڈرامہ رتبہ کی کاسٹ کی اداکاری اور کہانی کی تعریف کر رہے ہیں، جسے وہ اسکرین پر ایک نیا اور منفرد تجربہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ طلحہ نے نئے بھرتی ہونے والے افسران کی کیفیت کو بہت عمدگی سے پیش کیا۔ ایک اور نے لکھا کہ زاہد احمد اور مہوش حیات کی کیمسٹری غیر معمولی ہے۔ ایک ناظر کے مطابق مہوش حیات نے تھپڑ والے منظر میں شاندار کام کیا اور ڈرامہ اچھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: ڈرامہ رتبہ کی کہانی کہاں کھڑی ہے؟

ڈرامہ نگاری کے ناقدین کے مطابق پانچ اقساط میں کرداروں اور موضوع کا تعارف مکمل ہونا ایک مضبوط آغاز ہے، اور میر و شیلی کے کرداروں کی پراسراریت ناظرین کو اگلی اقساط تک جوڑے رکھنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ تاہم بڑی کاسٹ اور کئی کرداروں کے ساتھ کہانی کو متوازن رکھنا ایک چیلنج بھی ہے۔ اصل امتحان آنے والی اقساط میں ہو گا کہ آیا ڈرامہ رتبہ ان رازوں کو مؤثر انداز میں کھولتا ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ ابتدائی ردعمل زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین کی آرا پر مبنی ہے، جو پورے ناظرین کی نمائندگی نہیں کرتی۔

صفحہ 6 / 8
اردو لیڈ جمعرات، 22 اکتوبر 2026 صحت صفحہ 7

صحت

کھیرا کھانے کے فوائد: کم کیلوریز اور 96 فیصد پانی، مگر بلڈ شوگر اور جلد کے دعوے محتاط پڑھنے کے متقاضی

کھیرا کھانے کے فوائد: رپورٹ کے مطابق کیا کیا بتایا گیا

چھلکے سمیت کٹے ہوئے تازہ کھیرے کے قتلے، جو کھیرا کھانے کے فوائد اور صحت مند غذا کی عکاسی کرتے ہیں

امریکی صحت و ویلنس ویب سائٹ ہیلتھ لائن کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق کھیرا کم کیلوریز والی تازہ غذا ہے جس میں غذائی اجزا اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔

کھیرا کھانے کے فوائد میں ہاضمے کی بہتری، وزن پر قابو، جسم میں پانی کی مقدار اور بلڈ شوگر میں ممکنہ کمی بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں فوائد کے لیے "مدد دے سکتا ہے" جیسی زبان استعمال ہوئی ہے، اور کسی الگ تحقیقی مطالعے یا ماہر کا نام شامل نہیں۔

پس منظر: کھیرے کی غذائی قدر

ہیلتھ لائن کے مطابق چھلکے سمیت 301 گرام کے ایک تازہ کھیرے میں 45 کیلوریز، 0.3 گرام چکنائی، 11 گرام کاربوہائیڈریٹس، 2 گرام پروٹین اور 1.5 گرام فائبر ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن سی، وٹامن کے، میگنیشیم، پوٹاشیم اور مینگنیز بھی موجود ہیں۔ کھیرا 96 فیصد پانی پر مشتمل ہے، اور کھیرا کھانے کے فوائد زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے اسے چھلکے سمیت کھانے کا مشورہ دیا گیا ہے، کیونکہ چھلکا اتارنے سے فائبر اور کچھ وٹامن و معدنیات کم ہو جاتے ہیں۔

کھیرا کھانے کے فوائد: رپورٹ کے مطابق کیا کیا بتایا گیا

  • اینٹی آکسیڈنٹس: رپورٹ کے مطابق کھیرے کی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات بنیادی طور پر فلیونائڈز اور ٹینن سے آتی ہیں، جو نقصان دہ فری ریڈیکلز کو بے اثر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ فری ریڈیکلز وقت کے ساتھ جمع ہو کر کینسر، دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے مسائل جیسی دائمی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
  • پانی کی فراہمی: پانی جسمانی درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے اور فاضل مادوں و غذائی اجزا کی ترسیل میں اہم ہے۔ پھل اور سبزیاں بھی روزانہ پانی کی ضرورت پوری کرنے میں حصہ ڈالتی ہیں۔
  • وزن میں کمی: تقریباً 104 گرام میں 16 کیلوریز اور 300 گرام کے کھیرے میں 45 کیلوریز ہونے کی وجہ سے اسے سلاد، سینڈوچ اور سائیڈ ڈشز میں زیادہ کیلوریز والی اشیا کی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • بلڈ شوگر: رپورٹ کے مطابق باقاعدگی سے کھیرا کھانے سے بلڈ شوگر کم ہو سکتی ہے اور ذیابیطس سے جڑی بعض پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔
  • ہاضمہ: پانی کی کمی قبض کی بڑی وجہ ہے۔ کھیرے میں پانی اور فائبر آنتوں کی باقاعدگی میں مدد دیتے ہیں، جبکہ اس میں موجود پیکٹن نامی گھلنشین فائبر اچھے بیکٹیریا کی غذا بنتا ہے۔
  • جلد: رپورٹ کے مطابق کھیرا کھانے سے جلد میں نمی رہتی ہے اور جھریاں کم ہو سکتی ہیں۔ آنکھوں پر قتلے رکھنے سے سوجن کم ہو سکتی ہے۔ جلد پر لگانے سے پہلے چھوٹے حصے پر آزما لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
  • ہڈیاں: رپورٹ کے مطابق 19 سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین کو روزانہ 90 مائیکروگرام اور مردوں کو 120 مائیکروگرام وٹامن کے درکار ہے۔ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے مطابق چھلکے سمیت 100 گرام تازہ کھیرے میں 24 مائیکروگرام وٹامن کے ہوتا ہے، جو خون جمنے اور ہڈیوں کی مضبوطی میں کردار ادا کرتا ہے۔

تجزیہ: رپورٹ کے دعووں کی حدود

یہ رپورٹ ایک ویب سائٹ کے عمومی غذائی مضمون پر مبنی ہے، اس لیے کھیرا کھانے کے فوائد کو چند نکات کے ساتھ پڑھنا چاہیے:

  1. بلڈ شوگر کا دعویٰ: "کم کر سکتا ہے" کے لیے رپورٹ میں کوئی مطالعہ یا مقدار نہیں دی گئی۔ ذیابیطس کے مریض کھیرے کو دوا یا طبی علاج کا متبادل نہ سمجھیں اور اپنے معالج کی ہدایت پر عمل کریں۔
  2. غذائی اعداد میں ابہام: رپورٹ میں وٹامن سی “8 گرام”، وٹامن کے “49 مائیکروگرام”، میگنیشیم “39 مائیکروگرام” اور پوٹاشیم “442 ملی گرام” لکھا گیا ہے۔ وٹامن سی اور میگنیشیم کی یہ اکائیاں عام طور پر ملی گرام میں ہوتی ہیں، اس لیے یہ اعداد ممکنہ طور پر غلط لکھے گئے ہیں۔ اسی لیے انہیں اصل ماخذ سے جانچنا ضروری ہے اور اس رپورٹ میں ان کا موازنہ نہیں کیا گیا۔
  3. وٹامن کے کے اعداد میں فرق: 301 گرام کھیرے میں 49 مائیکروگرام اور 100 گرام میں 24 مائیکروگرام بتایا گیا ہے۔ یعنی فی 100 گرام تقریباً 16 مائیکروگرام بنتا ہے، جو دوسرے عدد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ممکن ہے دونوں ماخذ مختلف ہوں۔
  4. وزن کم کرنا: کم کیلوریز کا مطلب خود بخود وزن کم ہونا نہیں۔ کل خوراک اور جسمانی سرگرمی اصل کردار ادا کرتی ہے۔
  5. جلد اور جھریوں کا دعویٰ: کھانے سے جھریاں کم ہونے کا دعویٰ "ہو سکتا ہے" کی حد تک ہے اور کسی ثبوت کے ساتھ نہیں آیا۔
  6. وٹامن کے کا فائدہ محدود: 100 گرام کھیرا روزانہ ضرورت کا ایک چوتھائی سے بھی کم دیتا ہے۔ خون پتلا کرنے والی دوا (جیسے وارفرن) لینے والے مریض وٹامن کے کی مقدار میں اچانک تبدیلی سے پہلے معالج سے پوچھیں۔

مجموعی طور پر کھیرا ایک ہلکی، کم کیلوریز اور پانی سے بھرپور غذا ہے، مگر کھیرا کھانے کے فوائد کو متوازن خوراک کے حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے، علاج کے طور پر نہیں۔

صفحہ 7 / 8
اردو لیڈ جمعرات، 22 اکتوبر 2026 ریٹس اور موسم صفحہ 8

آج کے ریٹس

KSE-100 163,924.31 پوائنٹس ↓ -2,006.67
ڈالر (انٹربینک، تقریباً) 277 روپے ↓ -0.01
سونا — عالمی قیمت 418,447 روپے فی تولہ ↓ -9,229
پیٹرول 379.31 روپے فی لیٹر ↓ -2.71
ڈیزل 390.11 روپے فی لیٹر ↑ +0.31

موسم

  • اسلام آباد 17° صاف آسمان 28° / 17°
  • لاہور 20° صاف آسمان 30° / 20°
  • راولپنڈی 16° صاف آسمان 28° / 16°
  • فیصل آباد 20° صاف آسمان 30° / 20°
  • ملتان 21° صاف آسمان 34° / 20°
  • گوجرانوالہ 20° زیادہ تر صاف 29° / 20°
  • سیالکوٹ 18° صاف آسمان 29° / 18°
  • سرگودھا 20° صاف آسمان 29° / 20°

یہ اعداد ایڈیشن تیار ہوتے وقت (23 اکتوبر، 06:00) کے ہیں · ذرائع: PSX، Exchange Rate API، gold-api.com، Open-Meteo، ڈیسک۔ صرف معلومات کے لیے، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔

صفحہ 8 / 8